مالیاتی منظرنامہ اور معاشی حقائق

معاشی ترقی کےاظہاریئےامید افزاہیں اوراس سمت سفرجاری رہناچاہیےجبکہ رخش معیشت کی باگ عوامی ثمرات کی جانب موڑی جانی چاہیے

وہ پارلیمنٹیرینز جو ارب پتی تو بن گئے مگر ٹیکس دینے کے وقت غربا و مساکین کی تصویر بن جاتے ہیں ان کو بھی ٹیکس نیٹ میں لایا جائے۔ فوٹو: فائل

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران معیشت بحالی کی جانب گامزن رہی، مجموعی قومی پیداوار کی شرح نمو 5فیصد تک پہنچ گئی ، معاشی ترقی ہدف سے تجاوز کر گئی تاہم سرکاری قرضوں میں 10کھرب روپے کا اضافہ ہوا، کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 1.2ارب ڈالر رہا جو گزشتہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں 40کروڑ ڈالر رہا تھا، روپے کی قدر 6فیصد کم ہو گئی۔ مہنگائی اور حکومتی قرضے بڑھ گئے ۔

زیر نظر مالیاتی رپورٹ در حقیقت نالۂ جرس ہے جس میں ملکی معیشت کو مختلف اضطراری کیفیات سے نکالنے، پاکستانی روپے کو موقع پرستوں کے دباؤ سے آزادکرانے، سرمایہ کاری کے لیے ملکی معاشی نظام کو پر کشش بنانے اور ٹیکس نظام کے مضبوط بنیاد کی فراہمی کے ضمن میں کلیدی عندیئے دیئے گئے ہیں ۔ معاشی ترقی کے اظہاریئے امید افزا ہیں اور اس سمت سفر جاری رہنا چاہیے جب کہ رخش معیشت کی باگ عوامی ثمرات کی جانب موڑی جانی چاہیے ۔ واضح رہے اگست 2013ء میں جب پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان 15 ارب 30 کروڑ ڈالر کے بیل آؤٹ پیکیج کا اعلان ہوا تھا تو پاکستان کو کچھ ترجیحی اقدامات کا پابند بنایا گیا تھا جن میں دو اہم نکات کا تعلق اسٹیٹ بینک سے تھا، وہ یہ تھے :ایک لچکدار شرح زرمبادلہ کی منصوبہ بندی اور مانیٹری پالیسی پر سختی سے عملدرآمد ۔ اسٹیٹ بینک کی پہلی سہ ماہی جائزہ رپورٹ میں امید پرستانہ نوید دی کہ نومنتخب حکومت کو دشواری کے بغیر اقتدار کی منتقلی کے بعد توانائی کے بحران کے حل کے لیے ٹھوس اقدامات سے معاشی نمو کی راہ ہموار ہو گئی، مجموعی طور پر پہلی سہ ماہی میں معاشی اظہاریے سازگار رہے مگر خبردار کیا گیا کہ مالیاتی توازن پیدا کرنے اور توانائی کے بحران پر قابو پانے کے لیے اگرچہ حکومت درست سمت میں گامزن ہے تاہم نمو کی موجودہ رفتار کو برقرار رکھنے اور معیشت کو بلند تر نمو کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے حکومت کو مالیات اور توانائی کے شعبوں میں ساختی اصلاحات کو تیز کرنا ہوگا۔

ایک اور شعبہ بھی حکومتی اقتصادی اصلاحات کا متقاضی ہے جو بد انتظامی ، اختیارات کے عدم تعین یا بے جا استعمال اور احتساب سے ماورائیت کی عکاسی کرتا ہے ۔اگر کرپشن کے بڑھتے ہوئے عفریت پر قابو نہیں پایا جاتا ، عدلیہ کے اس حوالے سے فیصلوں پر عملدرآمد سے بوجوہ گریز کی حکمت عملی جاری رہتی ہے تو معاشی خود کفالت ، مالیاتی اداروں کی غلامی سے نجات اور مستحکم و عوامی مفادات پر مبنی معاشی ڈھانچہ کی ساری باتیں زیب داستاں کے طور پرپیش کی جاتی رہیں گی ۔ گزشتہ روز فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے ٹیکس گوشوارے جمع نہ کرانیوالے 45 پارلیمنٹیرینز کو نوٹس جاری کرنیکا فیصلہ کیا ہے جب کہ حتمی ٹیکس ڈائریکٹری جاری کر دی گئی ہے جس کے مطابق1172 ارکان پارلیمنٹ میں سے اب تک ٹیکس گوشوارے جمع کرانے والوں کی تعداد1127 ہوگئی ہے تاہم ابھی بھی45 ارکان پارلیمنٹ نے ٹیکس گوشوارے جمع نہیں کرائے ۔ یہ کوئی خوش آئند جمہوری روایت یا رویہ نہیں ہے کہ سرکاری ملامین یا عام آدمی پر جو ملازمت پیشہ ہے ٹیکس کا سارا بوجھ ان پر ڈالا جائے۔ ساتھ ہی حکومت کو ترقیاتی ، فلاحی، سماجی اور معاشی پروگراموں کے ذریعے عوام کو ریلیف مہیا کرنے کے لیے مستقل ادارہ جاتی اقدامات کیے جانے چاہئیں۔


جیسے کہ وفاقی حکومت نے وزیراعظم گرین ٹیکس انویسٹمنٹ اسکیم میں 30 اپریل 2014 تک توسیع کی ہے۔ وزیراعظم نواز شریف نے ملک میں ٹیکس کلچر کے فروغ ،ملکی صنعتوں میں سرمایہ کاری اورمعیشت کی بحالی کے لیے28 نومبر2013 کو وزیراعظم خصوصی ریلیف پیکیج کا اعلان کیا تھا جس کے تحت این ٹی این رکھنے والے اور این ٹی این نہ رکھنے والے ٹیکس نادہندگان 28 فروری تک بالترتیب 20ہزار روپے اور25 ہزار روپے فی سال کے حساب سے ٹیکس کے ساتھ اپنے گزشتہ5 سال کے ٹیکس گوشوارے جمع کراسکتے تھے ۔ ایک اخباری رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے جمعہ کو کنونشن سینٹر اسلام آباد میں وزیراعظم کی نوجوانوں کے لیے کاروباری قرضہ اسکیم کی پہلی قرعہ اندازی کے موقع پر تقریب سے خطاب کر تے ہوئے کہا کہ شفافیت، گڈ گورننس اور میرٹ حکومت کی اولین ترجیح ہے، موجودہ حکومت ملک کی ترقی اور خوشحالی کے لیے ایسے اقدامات اٹھا رہی ہے جن سے ایک نیا پاکستان تشکیل پائے گا۔

علاوہ ازیں نیشنل بینک کے چیئرمین منیر کمال نے یوتھ بزنس لون تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جب یہ کہا کہ امریکا میں 29 فیصد، کوریا میں 70 فیصد، ترکی میں 40 فیصد اور بھارت میں 40 فیصد چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری افراد اور اداروں کو قرضے دیے جا رہے ہیں جب کہ ہمارے ہاں صرف 6.7 فیصد ایسے قرضے دیے جا رہے ہیں۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان میں درمیانے کاروباری طبقے کو کس طرح نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ کسی بھی معیشت میں درمیانہ طبقہ ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ وزیراعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف نے بھی گزشتہ روز کنونشن سینٹر اسلام آباد میں وزیراعظم یوتھ لون اسکیم کی پہلی قرعہ اندازی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت ملک کو درپیش چیلنجوں سے نبردآزما ہونے اور ملک کو ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن کرنے کا پختہ عزم رکھتی ہے۔ ہم اندھیرے مٹائیں گے، کراچی کی روشنیاں لوٹائیں گے اور پاکستان کی روشنیاں بحال کریں گے، جہالت بھگائیں گے۔

انھوں نے نوجوانوں کو نصیحت کی کہ وہ وزیراعظم یوتھ لون اسکیم سے فائدہ اٹھائیں اور ملک کی ترقی میں اپنا ہاتھ بٹائیں۔ انھوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان سے لوڈشیڈنگ کا نام و نشان ختم کر دیں گے۔ یوں دیکھا جائے تو موجودہ حکومت ملکی معیشت کو ترقی کی راہ پر ڈالنے کے لیے اپنی بساط کے مطابق پوری کوشش کر رہی ہے۔ اسٹیٹ بینک کی سہ ماہی رپورٹ بھی مثبت اشارے دے رہی ہے۔ اس سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ آنے والے دنوں میں حکومت زیادہ بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرے گی۔ اب ضرورت شفاف ٹیکس ریکوری میکنزم کی ہے،ہر اس پاکستان کو ٹیکس کی ادائیگی کے اخلاقی ،آئینی اورقانونی فرض سے آگاہ کیا جائے جو قابل ٹیکس آمدنی اور قومی ترقی کے بارے میں دلچسپی تو رکھتا ہے مگر ریاستی سطح پر میڈیا کے انتباہی شور سے ہٹ کر اس میں ٹیکس گریز رجحان کے خاتمہ کی خواہش بیدار کرنے کی کوئی مستقل مہم نہیں چلتی ۔ وقت آ گیا ہے کہ حکومت ٹیکس کی وصولی کو یقینی بنائے اور وہ پارلیمنٹیرینز جو ارب پتی تو بن گئے مگر ٹیکس دینے کے وقت غربا و مساکین کی تصویر بن جاتے ہیں ان کو بھی ٹیکس نیٹ میں لایا جائے۔
Load Next Story