کراچی آپریشن رضا ربانی کی سربراہی میں 3 رکنی کمیٹی قائم
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق نے ڈی جی رینجرز سندھ کی اجلاس میں عدم شمولیت پروزیرداخلہ کو آگاہ کرے گی۔
قائمہ کمیٹی نے کراچی آپریشن کے دوران سادہ لباس اہلکاروں کی گرفتاریوں پر تشویش کا اظہار کیا۔. فوٹو:فائل
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق نے ڈی جی رینجرز سندھ کی اجلاس میں عدم شمولیت پرسخت برہمی کا اظہارکرتے ہوئے فیصلہ کیاہے کہ کمیٹی وزیرداخلہ کوخط لکھ کراس حوالے سے آگاہ کرے گی۔
قائمہ کمیٹی نے کراچی آپریشن کے دوران انسانی حقوق کی خلاف ورزی سے متعلق شکایات کے ازالے کیلیے سینیٹر رضا ربانی کی سربراہی میں3رکنی کمیٹی قائم کردی ،کمیٹی میں سینیٹر سحر کامران اورسینیٹر نسرین جلیل شامل ہوں گے، اورشکایات کے ازالے کے لیے وزیراعلیٰ ہاؤس میں خصوصی انسانی حقوق کاسیل بھی بنایا جائے گا،قائمہ کمیٹی نے کراچی آپریشن کے دوران سادہ لباس اہلکاروں کی گرفتاریوں اورسندھ میں قوم پرست کارکنوں کی گمشدگی اورمسخ شدہ لاشیں ملنے کے واقعات پر بھی سخت تشویش کا اظہار کیا۔سندھ سیکریٹریٹ میں چیف سیکریٹری آفس میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کااجلاس ہوا جس کی صدارت کمیٹی کے چیئرمین سینیٹرافراسیاب خٹک نے کی۔
اجلاس میں سینیٹر رضاربانی،فرحت اللہ بابر،نسرین جلیل،فروغ نسیم،سحرکامران ،ایم کیو ایم کے ارکان سندھ اسمبلی خواجہ اظہارالحسن ، محمدحسین،وزیراعلیٰ سندھ کے کوآرڈینیٹر تاج حیدر،چیف سیکریٹری سجادسلیم ہوتیانہ ودیگر حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں چیف سیکریٹری نے کراچی آپریشن پرتفصیلی بریفنگ دی۔ایم کیو ایم کے ارکان سندھ اسمبلی نے کمیٹی کوسادہ لباس اہلکاروں کے چھاپوں اورایم کیو ایم کے بے گناہ کارکنان کی گرفتاریوں کے حوالے سے آگاہ کیا۔اجلاس کے بعدمیڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے افر اسیاب خٹک نے کہاکہ مسخ شدہ لاشیں ملنے کے واقعات افسوسناک ہیں،سندھ کے حالات کواس نہج پرنہ پہنچایا جائے کہ سندھ میں بھی بلوچستان جیسے حالات پیدا ہو جائیں۔سینیٹر رضا ربانی نے کہا کہ 18 ویں ترمیم کے بعد تمام ادارے پارلیمنٹ کو جواب دے ہیں۔سینیٹر نسرین جلیل نے کہاکہ ایم کیو ایم کے لاپتہ کارکنان کوبازیاب کرایا جائے۔سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ اجلاس میں ڈی جی رینجرزکی عدم شرکت سے مایوسی ہوئی،ہر ادارہ اورسرکاری افسر پارلیمنٹ کوجواب دہ ہے۔تاج حیدرنے کہا کہ کمیٹی کی سفارشات سے حکومت سندھ کو آگاہ کیاجائے گا۔
قائمہ کمیٹی نے کراچی آپریشن کے دوران انسانی حقوق کی خلاف ورزی سے متعلق شکایات کے ازالے کیلیے سینیٹر رضا ربانی کی سربراہی میں3رکنی کمیٹی قائم کردی ،کمیٹی میں سینیٹر سحر کامران اورسینیٹر نسرین جلیل شامل ہوں گے، اورشکایات کے ازالے کے لیے وزیراعلیٰ ہاؤس میں خصوصی انسانی حقوق کاسیل بھی بنایا جائے گا،قائمہ کمیٹی نے کراچی آپریشن کے دوران سادہ لباس اہلکاروں کی گرفتاریوں اورسندھ میں قوم پرست کارکنوں کی گمشدگی اورمسخ شدہ لاشیں ملنے کے واقعات پر بھی سخت تشویش کا اظہار کیا۔سندھ سیکریٹریٹ میں چیف سیکریٹری آفس میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کااجلاس ہوا جس کی صدارت کمیٹی کے چیئرمین سینیٹرافراسیاب خٹک نے کی۔
اجلاس میں سینیٹر رضاربانی،فرحت اللہ بابر،نسرین جلیل،فروغ نسیم،سحرکامران ،ایم کیو ایم کے ارکان سندھ اسمبلی خواجہ اظہارالحسن ، محمدحسین،وزیراعلیٰ سندھ کے کوآرڈینیٹر تاج حیدر،چیف سیکریٹری سجادسلیم ہوتیانہ ودیگر حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں چیف سیکریٹری نے کراچی آپریشن پرتفصیلی بریفنگ دی۔ایم کیو ایم کے ارکان سندھ اسمبلی نے کمیٹی کوسادہ لباس اہلکاروں کے چھاپوں اورایم کیو ایم کے بے گناہ کارکنان کی گرفتاریوں کے حوالے سے آگاہ کیا۔اجلاس کے بعدمیڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے افر اسیاب خٹک نے کہاکہ مسخ شدہ لاشیں ملنے کے واقعات افسوسناک ہیں،سندھ کے حالات کواس نہج پرنہ پہنچایا جائے کہ سندھ میں بھی بلوچستان جیسے حالات پیدا ہو جائیں۔سینیٹر رضا ربانی نے کہا کہ 18 ویں ترمیم کے بعد تمام ادارے پارلیمنٹ کو جواب دے ہیں۔سینیٹر نسرین جلیل نے کہاکہ ایم کیو ایم کے لاپتہ کارکنان کوبازیاب کرایا جائے۔سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ اجلاس میں ڈی جی رینجرزکی عدم شرکت سے مایوسی ہوئی،ہر ادارہ اورسرکاری افسر پارلیمنٹ کوجواب دہ ہے۔تاج حیدرنے کہا کہ کمیٹی کی سفارشات سے حکومت سندھ کو آگاہ کیاجائے گا۔