ملک میں بڑھتی شدت پسندی سے پولیو کا خاتمہ مشکل ہوگیا 2 ماہ میں 24 کیسوں کی تصدیق

شدت پسندوں کے حملوں میں17رضاکار، پولیس اہلکارشہید اور 20 زخمی ہوگئے،19پولیوکیس شمالی وزیرستان میں رپورٹ ہوئے

کئی ملکوں میں ملنے والے پولیو کیسوں کا جنیاتی تعلق پاکستانی علاقوں سے ہے، ملک میں انسدادی ٹیموں پر حملوں میں اضافہ ہوگیا۔ فوٹو: فائل

ملک میں شدت پسند کارروائیوںکے باعث انسداد پولیو مہم چلانا دشوارہوگیا ہے، رواں سال کے ابتدائی 2 ماہ کے دوران ملک میں 24 نئے پولیوکیسوں کی تصدیق ہوگئی۔

سب سے زیادہ 19 پولیوکیس شمالی وزیرستان میں رپورٹ ہوئے ہیں، شدت پسندوں کی کارروائیوں میں 2 ماہ کے دوران ملک بھر میں پولیو رضا کاروں اور سیکیورٹی اہلکاروں پر حملوں میں 17 افراد جاں بحق ہوگئے، تفصیلات کے مطابق پولیو وائرس پاکستان، افغانستان اور نائجیریا میں مسلسل رپورٹ ہورہا ہے اتوارکو پولیو مانیٹرنگ سیل سے جاری اعداد و شمارکے مطابق ملک میں 2014 میں پولیو کے 24 کیس سامنے آ چکے ہیں جبکہ گزشتہ سال جنوری اور فروری کے دوران صرف 3 پولیوکیسوں کی تصدیق کی گئی تھی، ہفتہ کو 2 نئے کیسز کے بعد قبائلی علاقوں میں 2 ماہ کے دوران 21 بچے پولیو سے متاثر ہوگئے ہیں، متاثرہ 2 بچوں میں میران شاہ سے تعلق رکھنے والا سعد نامی 5 ماہ کا بچہ اور ایف آر بنوں سے فاطمہ نامی ایک 18 ماہ کی بچی شامل ہے ان دونوں بچوں کو پولیو کے قطرے نہیں پلائے گئے تھے، قبائلی علاقوں میں سب سے زیادہ متاثرہ علاقہ شمالی وزیرستان ہے جہاں پر کل 19 کیس سامنے آچکے ہیں۔


شمالی وزیرستان کے علاقے میران شاہ میں13 بچے اور میر علی میں6 بچے اس سال پولیو میں میں مبتلا ہوئے ہیں،2014 میں قبائلی علاقوں کے علاوہ صوبہ خیبر پختونخواہ میں بھی 3 کیس سامنے آئے ہیں گزشتہ ہفتے عالمی ادارہ صحت نے کہا تھا کہ پشاور دنیا بھر میں پولیو وائرس کا سب سے بڑا مرکز ہے اور ملک میں90 فیصد پولیو وائرس جنیاتی طور پر پشاور میں موجود وائرس سے جڑا ہوا ہے،اس کے علاوہ گزشتہ روز قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں پولیو کارکنوں کو سکیورٹی فراہم کرنے والے اہلکاروں پر یکے بعد دیگرے دو بم حملوں میں 13 اہلکار شہید اور 8 زخمی ہوگئے، زخمیوں میں انسداد پولیو رضاکار بھی شامل ہیں۔

پاکستان میں انسداد پولیو مہم میں شامل رضاکاروں اور ان کی حفاظت کے لیے تعینات سیکیورٹی اہلکاروں پر حملوں میں اضافہ ہوگیا ہے، صوبہ خیبر پختونخوا میں انسداد پولیو رضاکاروں پر زیادہ حملے ہوئے گزشتہ سال کے اعدادوشمار کے مطابق حملوں میں17 افراد شہید اور20 زخمی ہوئے،شہید ہونے والوں میں خواتین رضاکاروں کے علاوہ سیکیورٹی اہلکار شامل ہیں ،کراچی شہر میں بھی انسداد پولیو مہم کی ٹیموں پر حملوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے،3 ممالک پاکستان، افغانستان اور نائجیریا میں پولیو وائرس پر قابو نہیں پایا جاسکا ہے گذشتہ سال شام اور مصر میں پائے جانے والے پولیو کے وائرس کا جنیاتی تعلق صوبہ سندھ سے تھا چین میں بھی پولیو وائرس کی ایک قسم کا ذریعہ پاکستانی ہی تھا۔
Load Next Story