نئے آئی جی کی تقرری پر سندھ اور وفاقی حکومت میں تنازع
سندھ حکومت فیاض لغاری جبکہ وفاقی حکومت ذوالفقار چیمہ کو آئی جی بنانا چاہتی ہے
سندھ حکومت فیاض لغاری جبکہ وفاقی حکومت ذوالفقار چیمہ کو آئی جی بنانا چاہتی ہے.فوٹو:فائل
سندھ میں نئے آئی جی کی تقرری کے معاملے وفاقی اور سندھ حکومت میں اختلافات پیدا ہوگئے ہیں جس کی وجہ سے اب تک سندھ میں آئی جی کے عہدے پر کسی افسر کی مستقل تعیناتی نہیں ہوسکی ہے۔
وفاقی حکومت آئی جی موٹروے ذوالفقار چیمہ جبکہ سندھ حکومت فیاض لغاری کو آئی جی سندھ کے عہدے پر تعینات کرانا چاہتی ہے،ذرائع کے مطابق آئی جی سندھ پولیس کے عہدے پر شاہد ندیم بلوچ کی رٹائرمنٹ کے بعد اس عہدے کا قائم مقام چارج ایڈیشنل آئی جی اقبال محمود کودیا گیا ہے، سندھ حکومت نے وفاقی حکومت کو سفارش کی ہے کہ آئی جی سندھ کے عہدے پر فیاض لغاری کی تقرری کا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے تاہم وفاقی حکومت کے کچھ حلقے آئی جی موٹر وے ذوالفقار چیمہ کونیا آئی جی سندھتعینات کرانا چاہتے ہیں جس کی وجہ سے حکومت سندھ کی سفارشات کوالتوامیں ڈال دیا گیا ہے،آئی جی سندھ کے معاملے پر وفاقی اور سندھ حکومتوں کے درمیان رسہ کشی کے باعث صوبے میں پولیس کے سب سے اہم عہدے پر اب تک کسی افسرکی تعیناتی کا فیصلہ نہیں ہوسکا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ4 ستمبر 2013ء کو وزیراعظم کے دورہ کراچی کے موقع پر بھی وفاقی حکومت نے آئی جی سندھ کے عہدے پرذوالفقار چیمہ کو تعینات کرنے کا فیصلہ کرلیا تھا، وفاق کی جانب سے ان کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن بھی جاری کیا جارہا تھا تاہم وزیراعظم کے دورہ کراچی کے موقع پر وزیراعلیٰ سندھ نے آئی جی سندھ کے معاملے پر سندھ حکومت کو اعتماد میں نہ لینے پر شدید احتجاج کیا تھا اور سندھ حکومت کے احتجاج کے باعث ذوالفقار چیمہ کو آئی جی سندھ بنانے کا معاملہ موخرکردیا تھا تاہم اب شاہد ندیم بلوچ کی رٹائرمنٹ کے بعد وفاقی حکومت کی خواہش ہے کہ ذوالفقار چیمہ کو نیا آئی جی سندھ تعینات کرایا جائے، اسی وجہ سے وفاقی حکومت نے سندھ حکومت کی جانب سے آئی جی سندھ کے عہدے پر فیاض لغاری کی تقرری کیلیے بھیجی جانے والی سفارشات پرعمل درآمد کو التوا میں ڈال دیا ہے۔
اس معاملے پر وفاق اور سندھ حکومتوں کے درمیان اختلافات کھل کر سامنے آگئے ہیں، سندھ حکومت کے ذرائع کاکہنا ہے کہ اگر وفاقی حکومت نے سندھ حکومت کو اعتماد میں لیے بغیر ذوالفقار چیمہ کو آئی جی سندھ تعینات کیا تو حکومت سندھ نہ صرف وفاقی حکومت سے احتجاج کرے گی بلکہ ان کواس پوسٹ پرجوائننگ بھی نہیں دی جائے گی، ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی جی سندھ کے عہدے پر مستقل تعیناتی نہ ہونے کے باعث پولیس کیلیے جدید اسلحہ اور سامان کی خریداری کا معاملہ بھی تاخیرکا شکار ہوگیا ہے، ذرائع کا کہنا ہے کہ کراچی میں اس وقت ٹارگٹڈ آپریشن کا اہم مرحلہ جاری ہے اور سندھ پولیس کا مستقل سربراہ نہ ہونے کے باعث پولیس کو اہم مسائل کے حل کیلیے شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔
وفاقی حکومت آئی جی موٹروے ذوالفقار چیمہ جبکہ سندھ حکومت فیاض لغاری کو آئی جی سندھ کے عہدے پر تعینات کرانا چاہتی ہے،ذرائع کے مطابق آئی جی سندھ پولیس کے عہدے پر شاہد ندیم بلوچ کی رٹائرمنٹ کے بعد اس عہدے کا قائم مقام چارج ایڈیشنل آئی جی اقبال محمود کودیا گیا ہے، سندھ حکومت نے وفاقی حکومت کو سفارش کی ہے کہ آئی جی سندھ کے عہدے پر فیاض لغاری کی تقرری کا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے تاہم وفاقی حکومت کے کچھ حلقے آئی جی موٹر وے ذوالفقار چیمہ کونیا آئی جی سندھتعینات کرانا چاہتے ہیں جس کی وجہ سے حکومت سندھ کی سفارشات کوالتوامیں ڈال دیا گیا ہے،آئی جی سندھ کے معاملے پر وفاقی اور سندھ حکومتوں کے درمیان رسہ کشی کے باعث صوبے میں پولیس کے سب سے اہم عہدے پر اب تک کسی افسرکی تعیناتی کا فیصلہ نہیں ہوسکا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ4 ستمبر 2013ء کو وزیراعظم کے دورہ کراچی کے موقع پر بھی وفاقی حکومت نے آئی جی سندھ کے عہدے پرذوالفقار چیمہ کو تعینات کرنے کا فیصلہ کرلیا تھا، وفاق کی جانب سے ان کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن بھی جاری کیا جارہا تھا تاہم وزیراعظم کے دورہ کراچی کے موقع پر وزیراعلیٰ سندھ نے آئی جی سندھ کے معاملے پر سندھ حکومت کو اعتماد میں نہ لینے پر شدید احتجاج کیا تھا اور سندھ حکومت کے احتجاج کے باعث ذوالفقار چیمہ کو آئی جی سندھ بنانے کا معاملہ موخرکردیا تھا تاہم اب شاہد ندیم بلوچ کی رٹائرمنٹ کے بعد وفاقی حکومت کی خواہش ہے کہ ذوالفقار چیمہ کو نیا آئی جی سندھ تعینات کرایا جائے، اسی وجہ سے وفاقی حکومت نے سندھ حکومت کی جانب سے آئی جی سندھ کے عہدے پر فیاض لغاری کی تقرری کیلیے بھیجی جانے والی سفارشات پرعمل درآمد کو التوا میں ڈال دیا ہے۔
اس معاملے پر وفاق اور سندھ حکومتوں کے درمیان اختلافات کھل کر سامنے آگئے ہیں، سندھ حکومت کے ذرائع کاکہنا ہے کہ اگر وفاقی حکومت نے سندھ حکومت کو اعتماد میں لیے بغیر ذوالفقار چیمہ کو آئی جی سندھ تعینات کیا تو حکومت سندھ نہ صرف وفاقی حکومت سے احتجاج کرے گی بلکہ ان کواس پوسٹ پرجوائننگ بھی نہیں دی جائے گی، ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی جی سندھ کے عہدے پر مستقل تعیناتی نہ ہونے کے باعث پولیس کیلیے جدید اسلحہ اور سامان کی خریداری کا معاملہ بھی تاخیرکا شکار ہوگیا ہے، ذرائع کا کہنا ہے کہ کراچی میں اس وقت ٹارگٹڈ آپریشن کا اہم مرحلہ جاری ہے اور سندھ پولیس کا مستقل سربراہ نہ ہونے کے باعث پولیس کو اہم مسائل کے حل کیلیے شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔