روس نے کریمیا سے فوج واپس بلانے کا امریکی مطالبہ مسترد کردیا
کیف حکومت نے امریکا، یورپی یونین اور نیٹو سے مدد طلب کرلی، ماسکو میں جنگ کیخلاف مظاہرہ کرنیوالے 352 افراد گرفتار
کیف حکومت نے امریکا، یورپی یونین اور نیٹو سے مدد طلب کرلی، ماسکو میں جنگ کیخلاف مظاہرہ کرنیوالے 352 افراد گرفتار. فوٹو رائٹرز
کریمیا میں روسی پارلیمنٹ کی طرف سے فوج بھیجنے کی منظوری کے بعد یوکرینی حکومت نے اضافی فوج کو طلب کرتے ہوئے سیکیورٹی فورسز کو الرٹ رہنے کا حکم دیدیا۔
یوکرین کے عبوری صدر اولیکسانڈر ٹرچی نوف نے ایٹمی پلانٹس سمیت ملک کے اہم مقامات پر بھی حفاظتی انتظامات مزید سخت کرنے کا حکم دیا ہے۔ یوکرین نے روس کے خلاف امریکا، یورپی یونین اور نیٹو سے مدد طلب کرلی۔ یوکرین کی قومی سلامتی اور دفاع کی کونسل نے کسی بھی فوجی جارحیت سے نمٹنے کیلیے تفصیلی منصوبہ بھی تیار کرلیا۔ یوکرین کے وزیراعظم آرسینی یٹسنیوک نے کہا کہ ہم تباہی کے دہانے پر کھڑے ہیں، اگر روس نے جارحیت کی تو دونوں ممالک کے درمیان تعلقات ختم ہوجائیں گے۔ ہمارے ملک کیخلاف جنگ کا محاذ کھول دیا گیا ہے۔ دریں اثنا روسی فورسز نے کریمیا کے فیوڈوسیا شہر میں 400یوکرینی فوجیوں کو گھیرے میں لے لیا جبکہ کریمیا کے جنوب میں روس کے حامی ایک ہزار مسلح افراد نے یوکرینی فوج کا داخلہ بند کردیا۔ پر تشددکارروائیوں سے تنگ یوکرائن کے6 لاکھ 75 ہزار شہریوں نے روس میں پنا ہ حاصل کرلی۔
روس کے دارالحکومت ماسکو میں یوکرائن میں روسی فوج کی مداخلت کے خلاف مظاہرہ کرنے والے 352 افراد کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ ادھر امریکی صدر براک اوباما نے اپنے روسی ہم منصب ولادی میر پوتن سے کہا کہ روس نے یوکرین میں فوج بھیج کر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے۔90 منٹ کے دورانیے کے ٹیلی فونک گفتگو میں اوباما نے روسی صدر پر زور دیا کہ وہ اپنی فوج کو کریمیا کے فوجی اڈوں سے واپس بلائے۔ پوتن نے جواب میں کہا کہ ماسکو اپنے اور یوکرین میں روسی بولنے والوں کی مفادات کا دفاع کرنے کا حق رکھتا ہے۔ اوباما نے یوکرائن کی سرحدوں اور خودمختاری کی کھلم کھلا خلاف ورزی پر شدید خدشات کا اظہار کیا۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے فریقین سے امن برقرار رکھنے کی اپیل کی ہے۔ نیٹو کے سیکریٹری جنرل نے کہا کہ کریمیا میں روسی مداخلت سے یورپ میں امن اور سیکیورٹی کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔
یوکرین میں جاری کشیدگی کو ختم کرنے کیلیے امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے یورپی ممالک اور کینیڈا کے وزرا خارجہ، امریکا میں جاپانی سفیر اور یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کیتھرین ایشٹن سے بات چیت کی ہے۔ اے ایف پی کے مطابق کریمیا میں روسی مداخلت پر امریکا اور اس کے مغربی اتحادیوں نے جون میں روس کے سیاحتی مقام سوچی میں ہونے والے جی ایٹ اجلاس کا بائیکاٹ کرنے کی دھمکی دیدی۔ امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ روسی فوج کی کریمیا میں موجودگی سے ماسکو جی ایٹ ممالک میں اپنی ممبر شپ سے بھی محروم ہو سکتا ہے۔ انھوں نے پوتن کو دھمکی دی اس طرح جون میں سوچی میں ہونے والا اجی ایٹ کا اجلاس نہیں ہوسکتا۔کیری نے مزید کہا کہ پوتن اور روسی سرمایہ کاروں کے اثاثے بھی منجمد ہوسکتے ہیں اور روس کو جی ایٹ ممالک کی طرف سے پابندیوں کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔ امریکی سرمایہ کار روس سے اپنے اثاثے واپس لے جاسکتے ہیں۔ روس کو بھاری قیمت ادا کرنی پڑے گی اور ماسکو دنیا میں تنہا ہوجائیگا۔ برطانیہ اور فرانس نے بھی جی ایٹ اجلاس کے حوالے سے تیاری کے اجلاس کا بائیکاٹ کردیا ہے۔ کینیڈا نے بھی جی ایٹ سربراہی کانفرنس کے بائیکاٹ کی دھمکی دی ہے۔
یوکرین کے عبوری صدر اولیکسانڈر ٹرچی نوف نے ایٹمی پلانٹس سمیت ملک کے اہم مقامات پر بھی حفاظتی انتظامات مزید سخت کرنے کا حکم دیا ہے۔ یوکرین نے روس کے خلاف امریکا، یورپی یونین اور نیٹو سے مدد طلب کرلی۔ یوکرین کی قومی سلامتی اور دفاع کی کونسل نے کسی بھی فوجی جارحیت سے نمٹنے کیلیے تفصیلی منصوبہ بھی تیار کرلیا۔ یوکرین کے وزیراعظم آرسینی یٹسنیوک نے کہا کہ ہم تباہی کے دہانے پر کھڑے ہیں، اگر روس نے جارحیت کی تو دونوں ممالک کے درمیان تعلقات ختم ہوجائیں گے۔ ہمارے ملک کیخلاف جنگ کا محاذ کھول دیا گیا ہے۔ دریں اثنا روسی فورسز نے کریمیا کے فیوڈوسیا شہر میں 400یوکرینی فوجیوں کو گھیرے میں لے لیا جبکہ کریمیا کے جنوب میں روس کے حامی ایک ہزار مسلح افراد نے یوکرینی فوج کا داخلہ بند کردیا۔ پر تشددکارروائیوں سے تنگ یوکرائن کے6 لاکھ 75 ہزار شہریوں نے روس میں پنا ہ حاصل کرلی۔
روس کے دارالحکومت ماسکو میں یوکرائن میں روسی فوج کی مداخلت کے خلاف مظاہرہ کرنے والے 352 افراد کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ ادھر امریکی صدر براک اوباما نے اپنے روسی ہم منصب ولادی میر پوتن سے کہا کہ روس نے یوکرین میں فوج بھیج کر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے۔90 منٹ کے دورانیے کے ٹیلی فونک گفتگو میں اوباما نے روسی صدر پر زور دیا کہ وہ اپنی فوج کو کریمیا کے فوجی اڈوں سے واپس بلائے۔ پوتن نے جواب میں کہا کہ ماسکو اپنے اور یوکرین میں روسی بولنے والوں کی مفادات کا دفاع کرنے کا حق رکھتا ہے۔ اوباما نے یوکرائن کی سرحدوں اور خودمختاری کی کھلم کھلا خلاف ورزی پر شدید خدشات کا اظہار کیا۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے فریقین سے امن برقرار رکھنے کی اپیل کی ہے۔ نیٹو کے سیکریٹری جنرل نے کہا کہ کریمیا میں روسی مداخلت سے یورپ میں امن اور سیکیورٹی کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔
یوکرین میں جاری کشیدگی کو ختم کرنے کیلیے امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے یورپی ممالک اور کینیڈا کے وزرا خارجہ، امریکا میں جاپانی سفیر اور یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کیتھرین ایشٹن سے بات چیت کی ہے۔ اے ایف پی کے مطابق کریمیا میں روسی مداخلت پر امریکا اور اس کے مغربی اتحادیوں نے جون میں روس کے سیاحتی مقام سوچی میں ہونے والے جی ایٹ اجلاس کا بائیکاٹ کرنے کی دھمکی دیدی۔ امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ روسی فوج کی کریمیا میں موجودگی سے ماسکو جی ایٹ ممالک میں اپنی ممبر شپ سے بھی محروم ہو سکتا ہے۔ انھوں نے پوتن کو دھمکی دی اس طرح جون میں سوچی میں ہونے والا اجی ایٹ کا اجلاس نہیں ہوسکتا۔کیری نے مزید کہا کہ پوتن اور روسی سرمایہ کاروں کے اثاثے بھی منجمد ہوسکتے ہیں اور روس کو جی ایٹ ممالک کی طرف سے پابندیوں کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔ امریکی سرمایہ کار روس سے اپنے اثاثے واپس لے جاسکتے ہیں۔ روس کو بھاری قیمت ادا کرنی پڑے گی اور ماسکو دنیا میں تنہا ہوجائیگا۔ برطانیہ اور فرانس نے بھی جی ایٹ اجلاس کے حوالے سے تیاری کے اجلاس کا بائیکاٹ کردیا ہے۔ کینیڈا نے بھی جی ایٹ سربراہی کانفرنس کے بائیکاٹ کی دھمکی دی ہے۔