قومی سلامتی پالیسی تمام مدارس کو مرکزی نظام تعلیم میں شامل کرنے کا منصوبہ

کثیرتعداد میں دہشت گرد مدرسوں کے طالب علم رہے ہیں جہاں انکی ریاست کیخلاف ہتھیاراٹھانے کیلیے برین واشنگ ہوئی ہے،دستاویز

کثیرتعداد میں دہشت گرد مدرسوں کے طالب علم رہے ہیں جہاں انکی ریاست کیخلاف ہتھیاراٹھانے کیلیے برین واشنگ ہوئی ہے،دستاویز. فوٹو فائل

پاکستان اپنی پہلی قومی سلامتی پالیسی کے تحت مذہبی مدرسوں کو ایک سال کے اندر اپنے قومی نظام تعلیم میں شامل کرنے کی منصوبہ بندی کررہا ہے۔


اے ایف پی کے مطابق سلامتی پالیسی کے مسودے میں کہا گیا ہے کہ ملک میں قائم 22 ہزار مدرسوں میں سے کچھ انتہاپسندی پھیلانے کے ذمے دار ہیں۔ وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان نے بدھ کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں قومی سلامتی کی پالیسی پیش کی تھی۔ پالیسی دستاویز میں کہاگیا ہے '' یہ ذکر کرنا ضروری ہے کہ تمام مدرسے مسئلہ نہیں اور انھیں مجموعی طور پر منفی انداز میں نہیں دیکھا جارہا تاہم کچھ مدرسوں میں مسائل ہیں اور وہ انتہاپسندی پھیلا رہے ہیں'' ۔ دستاویز میں کہا گیا ہے ''کثیر تعداد میں دہشت گرد مدرسوں کے طالب علم رہے ہیں جہاں ان کی ریاست کیخلاف ہتھیار اٹھانے کیلیے برین واشنگ ہوئی ہے''۔

اے ایف پی کے مطابق پاکستان میں مدرسوں کی کثیر تعداد حکومتی کنٹرول سے باہر ہے اور وہ اپنے طلبہ کو مرکزی دھارے میں شامل مضامین بہت کم پڑھاتے ہیں ۔94 صفحات پر مشتمل پالیسی میں مدارس کو نامعلوم ذرائع سے رقوم کی فراہمی اور منافرت پر مبنی مواد کی اشاعت اور تقسیم کاکوئی ذکرنہیں کیا گیا ہے۔
Load Next Story