ملی یکجہتی کونسل مذہبی رواداری کیلیے کام کریگیقاضی حسین

30 سے زائد مذہبی تنظیموں کے رہنمائوں کی شرکت،صوبائی عہدیداران کا اعلان

30 سے زائد مذہبی تنظیموں کے رہنمائوں کی شرکت،صوبائی عہدیداران کا اعلان۔ فوٹو: فائل

ملی یکجہتی کونسل سندھ کا پہلا تنظیمی اجلاس مجلس وحدت مسلمین صوبہ سندھ کے زیراہتمام منعقد ہوا۔

جس میں مرکزی قائدین کے علاوہ 30 سے زائد مذہبی تنظیموں کے صوبائی ذمے داران نے شرکت کی اجلاس کی صدارت ملی یکجہتی کونسل کے مرکزی صدر قاضی حسین احمد نے کی جبکہ مرکزی کابینہ کے دیگر اراکین میںحافظ حسین احمد، علامہ امین شہیدی،مولانا عامر صدیق، ثاقب اکبر و دیگر رہنما شریک تھے اجلاس کی دونوں نشستوں میں اتحاد اور وحدت کی بے مثال فضا قائم رہی۔


مرکزی قائدین نے اپنے خطابات میں ملکی اور غیر ملکی صورتحال پر تفصیل سے روشنی ڈالی اور تمام شریک تنظیموں نے ملی یکجہتی کونسل کے احیا کو پاکستان کے لیے ایک نعمت سے تعبیر کیا،ملی یکجہتی کونسل صوبہ سندھ کے پہلے تنظیمی اجلاس کے شرکا نے کراچی،کوئٹہ، گلگت، پاراچنار میں دہشت گردی کے واقعات کی شدید مذمت کی اورکراچی و لاہور میں آتشزدگی کے واقعات پر افسوس کا اظہار کیا۔

اجلاس کے شرکا نے پاکستانی میڈیا میں بڑھتی فحاشی کی بھی مذمت کی،تنظیم سازی کے مرحلے میں تمام مرکزی تنظیموں کو نمائندگی دی گئی ہے ،اجلاس سے خطاب میں قاضی حسین نے کہا کہ ملی یکجہتی کونسل فرقہ واریت کے خاتمے اور مذہبی رواداری کے فروغ کے لیے کردار ادا کرے گی،انھوں نے کہا کہ پنجاب کے بعد سندھ میں بھی تنظیم سازی کا عمل مکمل کرلیا گیا ہے،مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی ڈپٹی سیکریٹری جنرل اور ملی یکجہتی کونسل کے مرکزی رہنما علامہ امین شہیدی نے کہا کہ ملی یکجہتی کونسل کے احیا سے دشمن کی فرقہ واریت پھیلانے کی سازش ناکام ہوچکی ہے۔

بعد ازاں اجلاس کے شرکا نے کثرت رائے سے جماعت اسلامی سندھ کے امیر اسد اللہ بھٹو کو ملی یکجہتی کونسل سندھ کا صدر ، جمعیت علمائے اسلام (ف) سندھ کے جنرل سیکریٹری خالد محمود سومرو کو جنرل سیکریٹری اور مجلس وحدت مسلمین کے رہنما مولانا مرزا یوسف حسین کو رابطہ سیکریٹری منتخب کرلیا۔
Load Next Story