آسکرز2014ء تاریخی فلم ’’12 ایئرز اے سلیو‘‘ بہترین فلم قرار پائی

سائنس فکشن فلم ’’گریویٹی‘‘ نے سب سے زیادہ ایوارڈ جیتے

سائنس فکشن فلم ’’گریویٹی‘‘ نے سب سے زیادہ ایوارڈ جیتے۔ فوٹو : فائل

امریکا کے شہر لاس اینجلس میں آسکرز ایوارڈز 2014ء کا سجایا جانے والا ایوارڈ میلہ دنیا بھر میں ہالی وڈ فلموں کو پسند کرنے والوں کی توجہ کا مرکز بنا رہا۔

ہالی وڈ اسٹار میتھیومیک کوناگھی بہترین اداکار اور کیٹ بیلنشٹ بہترین اداکارہ قرار پائیں جبکہ بہترین ہدایتکار کا ایوارڈ الفانسوکوارین نے اپنے نام کر لیا، ہالی وڈ کی مقبول ترین اداکارہ انجیلنا جولی کو اعزازی آسکر ایوارڈ سے نوازا گیا۔ اس ایوارڈ کے ملنے پرانجلینا جولی اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکیں اوران کی آنکھیں نم ہوگئیں۔ اس مرتبہ تاریخی فلم ''12 ایئرز اے سلیو'' بہترین فلم قرار پائی جبکہ سائنس فنکشن فلم ''گریویٹی'' نے سب سے زیادہ ایوارڈ جیت لئے۔ آسکرایوارڈ میں فلم ''گریویٹی'' دس کیٹیگریوں کیلئے نامزد تھی۔



لاس اینجلس میں منعقدہ 86ویں آسکرز ایوارڈز کی تقریب میں زرق برس ملبوسات کے ساتھ شریک ہونے والی حسیناؤں نے تقریب کو چار چاند لگا دیئے جبکہ ہالی وڈ فلموں کے معروف ہیرو اور سپورٹنگ اداکار بھی اس تقریب میں کچھ ہٹ کردکھائی دیئے۔ کسی کا سوٹ حاضرین کی توجہ کا مرکز بنا ہوا تھا توکسی کا ہیئرسٹائل۔ بس یوں کہئے کہ لاس اینجلس میں ہونے والی آسکرز ایوارڈز کی تقریب چاند رات کا سماں پیش کررہی تھی۔ جہاں باری باری فلمی ستارے ریڈ کارپٹ پر پہنچتے تو فوٹو گرافروں کے کیمروں کے فلش اس طرح چمکنے لگتے، جیسے رات کے وقت آسمان پرستارے۔ تقریب میں جہاں دور حاضرکی بہترین اداکارائیں اور اداکار شریک ہوئے، وہیں ماضی میں اپنے فن سے کامیابی کی بلندیوں کو چھونے والے فنکاروں نے تقریب کو رونق بخشی۔



آسکر میلہ میں فنکاروں کے علاوہ ہدایتکار، فلمساز، تکنیکی صلاحیتوں سے کسی بھی فلم کوحیرت زدہ بنا دینے والے تکنیک کار، ساؤنڈ انجینئرز، سنگرز اور فنون لطیفہ کے دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے اہم افراد موجود تھے۔ اس مرتبہ بھی آسکرز ایوارڈز میں روایتی جوش و خروش دیکھنے میں آیا۔ ہالی وڈ سٹارزکی ایک جھلک دیکھنے کیلئے لوگوںکی کثیرتعداد موجود تھی، ان میں بچے، بوڑھے اور جوان شامل تھے۔ جونہی معروف فلمی ستارے ریڈکارپٹ پر پہنچتے توحاضرین بھرپور انداز سے ان کا استقبال کرتے جبکہ فلمی ستارے اپنے چاہنے والوں کوہاتھ ہلا کر اور مسکرا کر ان کو جواب دیتے۔ یہ سماں واقعی دیدنی تھا۔ ایوارڈ شو کی تقریب مقررہ وقت پرشروع کی گئی۔ اس موقع پرایوارڈ شو کی میزبان ایلن ڈی جینرز نے اپنے مخصوص انداز میں تقریب کا آغازکیا۔


میزبان کی باتوں نے تقریب میں شریک شخصیات کولوٹ پوٹ ہونے پر مجبور کر دیا۔ اس دوران جہاں آسکرز کیلئے منتخب کی جانے والی فلموں کے مختلف شعبوں میں نامزد افراد بہت خوش دکھائی دے رہے تھے تووہیں کچھ کے چہروں پرایوارڈ نہ ملنے پرمایوسی کے آثار بھی نمایاں تھے۔ لیکن آسکر ایوارڈ جیتنے والوں کی خوشی کا تو کوئی ٹھکانہ نہ تھا۔ انجیلنا جولی جیسی تجربہ کار اداکارہ کو جب آسکر کا اعزازی ایوارڈ دیا گیا تووہ اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ پائیں اوران کی آنکھیں نم ہوگئیں۔ واقعی آسکر ایوارڈکیلئے نامزد ہونے والے بھی اس کو اپنے لئے اعزاز سمجھتے ہیں اور جو باصلاحیت لوگ اس ایوارڈ کو جیت لیتے ہیں، ان کو بہت قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ اس لئے آسکرایوارڈ ہراعتبار سے اس شعبے سے وابستہ فنکاروں کیلئے بہت اہمیت رکھتا ہے۔



یہاں یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ آسکرز ایوارڈز کی تقریب کو دنیا کے بیشتر ممالک میں براہ راست دکھایا گیا بلکہ لوگوں کی کثیرتعداد نے اپنے ٹیلی ویژن سیٹ کے سامنے بیٹھ کراپنے پسندیدہ فنکاروں کی کارکردگی کا احوال دیکھا۔ اس موقع پر جونہی کسی ایوارڈ کا اعلان کیا جاتا توسوشل ویب سائٹس پراس کی تفصیلات دیکھنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو جاتا۔ تقریب کا مزہ دوبالا کرنے کیلئے معروف سنگرزکی پرفارمنس بھی شامل کی گئی تھیں، جنہوں نے تقریب کو مزید یادگاربنا دیا۔

اس موقع پر ایوارڈ جیتنے والے فنکار، ہدایتکار اور تکنیک کار ایک دوسرے کومبارکباد دیتے رہے جبکہ تقریب کے شرکاء کی جانب سے بھی مبارکباد اورنیک تمناؤں کا سلسلہ جاری رہا۔تقریب میں ویسے تو ایوارڈ جیتنے والوں نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے اس کامیابی کواپنی زندگی کی سب سے بڑی کامیابی قرار دیا مگر ساتھ ہی فنکاروں کا یہ بھی کہنا تھا کہ آسکرایوارڈ جیتنے کے بعد ان کے کاندھوں پربھاری ذمہ داری آن پڑی ہے اوراب ان کی کوشش ہوگی کہ وہ اس کامیابی کے بعد اسی طرح بہترین کام کرتے ہوئے لوگوں کو تفریح مہیا کرتے رہیں۔ تقریب کے اختتام پر فنکاروں کے چاہنے والوں نے ان کے ساتھ تصاویر بنوائیں اوران سے آٹوگراف بھی لیتے رہے۔



آسکرز ایوارڈز کی پروقار تقریب کے حوالے سے پاکستان میں شوبز کے سنجیدہ حلقوں کا کہنا ہے کہ اس مرتبہ بھی آسکرز ایوارڈز کی تقریب میں روایتی جوش وجذبہ دکھائی دیا ہے۔ ہالی وڈ پرراج کرنے والے فنکاروں نے یہ ثابت کردیا ہے کہ جو بھی اچھا کام کرتا ہے وہ ہی دنیا کے اس بہترین ایوارڈ اور اعزاز کا حقدار ٹھہرتا ہے۔ غیرملکی زبان کی کیٹگری میں بھی اس بارسخت مقابلہ رہا۔ انہوں نے مزید کہا کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ آسکرز ایوارڈز کی مقبولیت میں اضافہ ہورہا ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ پاکستان میں فلمسازی کے میدان میں جو نوجوان قدم رکھ رہے ہیں وہ بھی ایک دن پاکستان کیلئے آسکرایوارڈ ضرور جیتیں گے۔
Load Next Story