نیا رئیل اسٹیٹ انویسٹمنٹ ٹرسٹ ریگولیشن 2014ء متعارف کرانے کا فیصلہ

آئندہ ہفتے پالیسی بورڈمیں پیش کرنے کا امکان،رینٹل وہائبرڈریئل اسٹیٹ انویسٹمنٹ ٹرسٹ مینجمنٹ فرمز بنائی جاسکیں گی.

آر ای آئی ٹی، ایسٹ مینجمنٹ کمپنیوں کے قیام اور اسکیموں کے لیے پیڈ اپ کیپٹل کی حد20کروڑ سے کم کرکے 5 کروڑ روپے کرنے کا بھی فیصلہ ہوگیا، دستاویز . فوٹو : فائل

سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان(ایس ای سی پی) نے نئی ریئل اسٹیٹ انویسٹمنٹ ٹرسٹ (آر ای آئی ٹی)، ایسٹ مینجمنٹ کمپنیوں اور آر ای آئی ٹی اسکیموں کی رجسٹریشن کے لیے نئے ریئل اسٹیٹ انویسٹمنٹ ٹرسٹ (آر ای آئی ٹی) ریگولیشن 2014 متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔


''ایکسپریس'' کو دستیاب دستاویز کے مطابق ایس ای سی پی نے نئے آر ای آئی ٹی ریگولیشن2014 کا مسودہ تیار کرلیا ہے جو آئندہ ہفتے ایس ای سی پی کے پالیسی بورڈ میں منظوری کے لیے پیش کیے جانے کا امکان ہے جس کے بعد یہ مسودہ وزارت خزانہ کو بھجوادیا جائے گا۔ دستاویز کے مطابق ایس ای سی پی کی طرف سے نئے ریگولیشن متعارف کرانے کے بعد پرانے آئی ای آئی ٹی ریگولیشن ختم کردیے جائیں گے جبکہ نئے ریگولیشن کے تحت ایس ای سی پی نے ملک میں ریئل اسٹیٹ سیکٹر کے فروغ کے لیے نئی ریئل اسٹیٹ انویسٹمنٹ ٹرسٹ(آر ای آئی ٹی)، ایسٹ مینجمنٹ کمپنیوں کے قیام اور اسکیموں کے لیے پیڈ اپ کیپٹل کی حد 20کروڑ روپے سے کم کرکے 5 کروڑ روپے کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے، اس کے علاوہ نئے ریگولیشنز کے تحت 3 قسم کی رئیل اسٹیٹ انویسٹمنٹ ٹرسٹ مینجمنٹ کمپنیاں (آر ایم سی) قائم کی جا سکیں گی جس میں پہلی ترقیاتی آر ایم سی اور دوسری رینٹل آر ایم سی جبکہ تیسری ہائبرڈ آر ایم سی شامل ہے، ترقیاتی آر ایم سی کے تحت قائم کیے جانے والے فنڈ کے تحت جو ہاؤسنگ یا کمرشل پراجیکٹ شروع کیا جائے گا اس میں عوام اپنی استطاعت کے مطابق انویسٹمنٹ کرسکیں گے ۔

یہ ضروری نہیں کہ اگر ترقیاتی آر ایم سی کے تحت قائم فنڈ کے تحت شروع کیے جانے والے پراجیکٹ میں پلاٹ یا مکان 50 لاکھ روپے ہے تو اگر کوئی چاہے گا تو1 لاکھ روپے کی بھی سرمایہ کاری کرسکے گا تاہم اس فنڈ میں جو یونٹ ہونگے وہ ٹرسٹی کی ملکیت ہونگے اور کسی بھی آر ایم سی کا ٹرسٹی کمرشل بینک، سینٹرل ڈپازٹری کمیٹی (سی ڈی سی) یا ایس ای سی پی کا منظور شدہ کوئی بھی ادارہ ہوگا جبکہ رینٹل آر ایم سی کے تحت قائم کیے جانے والے فنڈ کے تحت کسی بھی تکمیل شدہ پراجیکٹ کے کرائے پر دے کر جو آمدنی حاصل ہوگی اس میں سے سرمایہ کاروں کو انکی سرمایہ کاری کے شیئر کے مطابق حصہ فراہم کیا جائے گا جبکہ تیسری اسکیموں کے تحت خود پراجیکٹ تیار اور ڈیولپ کرکے کرائے پر بھی دیا جا سکے گا۔ نئی ریگولیشنز میں بتایا گیاکہ ترقیاتی آر ایم سی کے لیے کوالٹی کو یقینی بنانے کے لیے منیجر رکھنا ہوگا تاہم رینٹل آر ایم سی کے لیے کولٹی اشورنس کی بجائے فسیلیٹی اشورنس مینجر رکھنا ہوگا اور یہ مینجر آر ایم سی کے بجائے ٹرسٹی کو رپورٹ کریں گے۔ دستاویز کے مطابق ڈیولپمنٹ ریئل اسٹیٹ انویسٹمنٹ ٹرسٹ(آر ای آئی ٹی) کے تحت فی یونٹ ویلیو1لاکھ روپے جبکہ رینٹل ریئل اسٹیٹ انویسٹمنٹ ٹرسٹ اسکیم کے تحت 10روپے فی یونٹ ہوگی۔
Load Next Story