پاکستانی شکاریوں کی آمد ’’کاغذی ٹائیگرز‘‘ کانپنے لگے

آج فتح گرین شرٹس کو فائنل میں پہنچادے گی، بنگلہ دیشی ٹیم ہوم گراؤنڈز میں کافی مضبوط ثابت ہوتی ہے، مصباح الحق

شکار کھیلنے میں سستی نہیں دکھائیں گے(پاکستانی قائد) شکیب کی واپسی سے میزبان کے کچھ حوصلے بلند،پرفارمنس میں بہتری کی جھلک دکھانے کیلیے بے قرار ہیں،مشفیق ، فوٹو: اے ایف پی

KARACHI:
ایشیا کپ میں گرین شرٹس اور بنگلہ دیش کے درمیان اہم میچ آج میرپور میں کھیلا جائے گا،پاکستانی شکاریوں کی آمد سے ''کاغذی ٹائیگرز''کانپنے لگے ،مہمان ٹیم آخری دیوار ڈھا کر فائنل میں جگہ پکی کر سکتی ہے۔

محمد طلحہٰ کوٹانگ کی انجری سے کلیئرنس مل گئی، کپتان مصباح الحق کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیشی ٹیم اپنے ہوم گراؤنڈز میں کافی مضبوط ثابت ہوتی ہے، ہم ان کا شکار کھیلنے میں کوئی سستی نہیں دکھائیں گے۔ دوسری جانب شکیب الحسن کی واپسی سے میزبان سائیڈ کے کچھ حوصلے بلند ہوگئے، کھلاڑیوں کی انجریز ، ناقص فارم اور کمٹمنٹ پر سوالات نے مشکلات بڑھادیں، کپتان مشفیق الرحیم نے کہاکہ ہمیں اس سے کوئی مطلب نہیں کہ مقابلے پر کون سی ٹیم ہے، ہم صرف اپنی پرفارمنس میں بہتری کی جھلک دکھانے کو بے قرار ہیں۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان نے آخری مرتبہ ایشیا کپ کے فائنل میں ہی بنگلہ دیش کو صرف 2 رنز سے زیر کیا تھا، اس وقت بنگال ٹائیگرز ایک دوسرے سے گلے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر روئے تھے،اب تقریباً 2 برس بعد دونوں ٹیمیں ایک بار پھر اسی وینیو پر مدمقابل آرہی ہیں مگر اس بار معاملہ دوسرا ہے، پاکستان بھارت کو انتہائی سنسنی خیز معرکے میں صرف ایک وکٹ سے شکست دے چکا جس سے اس کے حوصلہ اور اعتماد آسمان کو چھورہا ہے،اس کے برعکس بنگلہ دیشی ٹیم اپنے سے کہیں جونیئر سائیڈ افغانستان کے ہاتھوں شکست سے دوچار ہوچکی ہے۔


وہ کئی اندرونی مسائل سے بھی پریشان ہے، اس میچ سے قبل ہی اس کے چند کھلاڑیوں کی کمٹمنٹ پر سوالات اٹھائے گئے،ان کے لیے اچھی خبر صرف ایک ہی ہے کہ آل راؤنڈر شکیب الحسن کی واپسی ہورہی ہے جنھوں نے سری لنکا سے دوسرے ون ڈے میں کیمرے کے سامنے نازیبا اشارہ کیا تھا، جس کی وجہ سے ان پر تین میچز کی پابندی عائد کردی گئی تھی، وہ ایشیا کپ کے ابتدائی2 میچز نہیں کھیل پائے تھے جس میں ان کی ٹیم کو شکست ہوئی۔ شکیب کے لیے نعیم اسلام کو جگہ خالی کرنا پڑے گی، ٹاپ آرڈر پر آؤٹ آف فارم شمس الرحمان کی پوزیشن بھی خطرے میں ہے، امرالقیس موقع پانے کیلیے تیار ہیں، اسی طرح عبدالرزاق کی جگہ الامین حسین کو مل سکتی ہے۔ بنگلہ دیش کے کپتان مشفیق الرحیم یہ ظاہر کرنے کی کوششوں میں مصروف رہے کہ انھیں پاکستان جیسی ٹیم کی کوئی پروا ہی نہیں، انھوں نے کہا کہ ہم اپنے حریف سے قطع نظر صرف اپنی پرفارمنس میں بہتری لانا چاہتے ہے۔

یہ ہمارے لیے بہتری ظاہر کرنے کا اہم موقع ہے۔ دوسری جانب بھارت سے میچ میں پاکستان کے 2 پلیئرز انجرڈ ہوئے تھے شرجیل کو چوٹ لگی تھی مگر بعد میں انھوں نے بیٹنگ کی، محمد طلحہٰ کی ٹانگ میں تکلیف ہوئی اور ٹیم مینجمنٹ اب انھیں بھی کلیئر کرچکی ہے، اگر وہ میدان میں اترے تو ایک بار پھر عمرگل اور جنید خان کے ساتھ مل کر بنگال ٹائیگرز کا شکار کھیلیں گے، اگرچہ وکٹ سلو رہنے کی ہی توقع ہے مگر بھارت سے میچ میں پاکستانی فاسٹ بولرز سلو ٹریک پر بھی اچھا خاصا باؤنس پیدا کرنے میں کامیاب رہے تھے جو بنگلہ دیشی بیٹسمینوں کے لیے کسی آزمائش سے کم نہیں ہوگا۔ دونوں ممالک کے درمیان باہمی میچز میں شاہد آفریدی کو سب سے زیادہ 468 رنز اور 32 وکٹیں لینے کا اعزاز حاصل ہے، بنگلہ دیش کی جانب سے صرف ناصر حسین اور شکیب ہی پاکستان کے خلاف ون ڈے سنچریاں اسکور کرچکے ہیں۔ کپتان مصباح الحق کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیشی ٹیم اپنے ہوم گراؤنڈز پر ہمیشہ کافی مضبوط ثابت ہوتی ہے،اب تو ان کے اہم پلیئر شکیب بھی واپس آرہے ہیں، ہم کسی بھی قسم کی سستی کا مظاہرہ کیے بغیر فتح حاصل کرنے کی بھرپور کوشش کریں گے۔
Load Next Story