تعلیمی بورڈز میں چیئرمینوں کی براہ راست تقرری کا سلسلہ روک دیا گیا

وزیر اعلیٰ ہاؤس سے نوٹیفکیشن جاری، تعلیمی بورڈزمیں چیئرمین کی تقرری سلیکشن بورڈز سے مشروط کردی گئی

وفاقی حکومت میں 6 فیصد کوٹے پر بلوچستان کی 10 ہزار پوسٹیں بنتی ہیں مگر 6161 افراد نوکریاں کررہے ہیں.

ISLAMABAD:
حکومت سندھ نے صوبے کے تعلیمی بورڈزمیں چیئرمین بورڈزکی تقرری میں میرٹ کویقینی بنانے کے لیے براہ راست تقرری کاسلسلہ روک دیاہے اور آئندہ تمام تعلیمی بورڈزمیں چیئرمین کی تقرری سلیکشن بورڈزسے مشروط کردی گئی ہے ۔


جوسرکاری جامعات کیلیے بنائے گئی ''تلاش کمیٹی''کے تحت کی جائے گی، اس سلسلے میں پیرکوسندھ کے تعلیمی بورڈزکی کنٹرولنگ اتھارٹی وزیراعلیٰ ہاؤس سے باقاعدہ ایک نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے حکومت سندھ کے ایک افسرنے ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ گزشتہ روز جاری کیے گئے نوٹیفکیشن کے مطابق آئندہ کراچی سمیت سندھ کے تمام ثانوی واعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈزمیں چیئرمین بورڈکے عہدے پرماضی کی طرح براہ راست تقرری نہیں کی جاسکے گی نہ ہی کسی موجودہ چیئرمین بورڈکی مدت ملازمت میں براہ راست توسیع ہوسکے گی،اس سلسلے میں باقاعدہ اشتہارات کے ذریعے چیئرمین بورڈ کے عہدے کے خواہشمند امیدواروں سے درخواستیں طلب کی جائیں گی۔

درخواستیں موصول ہونے کے بعد سندھ کی سرکاری جامعات میں وائس چانسلرکے انتخاب کیلیے قائم ''تلاش کمیٹی''امیدواروں کے انٹرویوزکرکے چیئرمین بورڈکے نام کی سفارش کریگی اور حتمی منظوری وزیراعلیٰ سندھ سے لی جائیگی، واضح رہے کہ اس وقت وزیراعلیٰ ہاؤس کے ماتحت ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی اور اعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈکراچی کے علاوہ ثانوی واعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈحیدرآباد، میرپورخاص ،سکھراورلاڑکانہ تعلیمی بورڈکام کررہے ہیں، ذرائع کاکہناہے کہ میرپورخاص تعلیمی بورڈ کے چیئرمین شفیق احمد خان کی مدت ملازمت آئندہ چندروزمیں پوری ہونے والی ہے اورپیرکوجاری کردہ نوٹیفکیشن کے ضمن میں جلد ہی میرپورخاص تعلیمی بورڈ کے چیئرمین کااشتہارجاری کردیا جائے گا۔
Load Next Story