رقت انگیز مناظر لوگ اپنے پیاروں کی تصاویر لیے پھرتے رہے

ہرلاش باہرآنے پرفیکٹری کے باہرکھڑے لواحقین اس پرلپک پڑتے،شناخت نہ ہونے پراپنے پیاروں کی سلامتی کیلیے دعا کرتے رہتے

آدمی اپنے بیٹے عزیز احمد کی یادگار تصویر لئے فیکٹری کے باہر کھڑا ہے ۔ فوٹو اے ایف پی

بلدیہ ٹاؤن حب ریور روڈ پر واقع گارمنٹس میں فیکٹری میں ملکی تاریخ کی بھیانک ترین آگ میں جھلس کر اور دم گھٹنے سے جاں بحق ہونے والے محنت کشوں کے ورثا اپنے پیاروں کی تصاویر لے کر مارے مارے گھومتے رہے اور کسی لاش کو فیکٹری سے باہر لانے پر دیوانہ وار اس جانب دوڑ پڑتے اور شناخت نہ ہونے پر رو رو کر اس کی سلامتی کی دعائیں مانگتے رہے۔

اس موقع پر کئی رقت انگیزمناظربھی دیکھنے میں آئے اور موقع پر موجودہر آنکھ اشکبارہوگئی۔بلدیہ ٹاؤن کے علاقے حب ریورروڈپرواقع علی انٹرپرائززکی شعلوں میں گھری ہوئی عمارت کوبے بسی کی تصویربنے دیکھ کر اپنے پیاروں کی سلامتی کی دعائیں مانگتے رہے،اس دوران فائر بریگیڈکاعملہ عمارت کے شعلوںکودبانے کے لیے مسلسل پانی ڈالتارہا۔اس موقع پرملازمین کے غمزدہ لواحقین جذباتی اندازہ میں کئی بار باراپنے پیاروں کو بچانے کے لیے فیکٹری میں جانے کے لیے دوڑے تاہم انھیں موقع پرموجود افراد نے پکڑلیا۔


فیکٹری کے باہر موجودلواحقین دھاڑیں مار مارکر روتے رہے اور پوری رات اس امید میں گزار دی کہ شاید ان کے پیارے زندہ ہوں اورامدادی جماعتوں کے رضا کار انھیں نکال کرلے آئیں گے تاہم وقت کے ساتھ ساتھ ان کی یہ امیدیں بھی دم توڑتی رہیں اورفیکٹری سے نکالی جانے والی لاشوں کوشناخت کرنے کے لیے اسپتال پہنچنا شروع ہوگئے اوروہاں پر شناخت کے بعداپنے پیاروںکی موت پرغم سے نڈھال ہوگئے،فیکٹری کی پہلی اور دوسری منزل پرجاں بحق ہونے والے افرادکی لاشیں بدھ کو اسنارکل کی مدد سے اتاری جاتی رہیں اور اس دوران بھی موقع پرمتوفین کی مائیں،بہنیں اوردیگر خواتین رشتے داروں کے علاوہ ان کے باپ ، بھائی اور اہل محلہ بھی موجودتھے جوانھیں تلاش کرتے رہے۔

فیکٹری میں کام کرنے والے دوبھائیوں غلام سرور اوررحمت علی کے بھانجے عمران نے بتایا کہ ان کے دونوں مامووںکاکچھ پتہ نہیں چل رہا،انھوں نے چند روز قبل ہی مذکورہ فیکٹری میں ملازمت اختیارکی تھی جوکہ پیکنگ ڈپارٹمنٹ میں تھے،واقعے کے بعدسے وہ اپنے مامووں کو تلاش کررہے ہیں ان کا موبائل فون بھی بندمل رہاہے اورکوئی رابطہ نہیں ہوپارہا۔

Recommended Stories

Load Next Story