موت بھی بچپن کے 3 دوستوں کو جدا نہ کرسکی
ارسلان ،شعیب اور انیل فیکٹری سے تنخواہ لینے گئے تھے کہ لقمہ اجل بن گئے
ارسلان ،شعیب اور انیل فیکٹری سے تنخواہ لینے گئے تھے کہ لقمہ اجل بن گئے فوٹو: فائل
بلدیہ ٹاؤن میں گارمنٹس فیکٹری کی عمارت میں آتشزدگی کے باعث 3 دوست ارسلان ، شعیب اور انیل بھی لقمہ اجل بن گئے۔
تینوں دوست فیکٹری میںملازمت کرتے کرتے تھے جو منگل کواپنی تنخواہیں لینے کیلیے فیکٹری گئے تھے ، شعیب کے والد سہیل نے بتایا کہ بیٹے کے دونوں دوست انیل اور ارسلان فیکٹری میں کام کرتے تھے اور شعیب نے بھی ان کے ہمراہ کام کرنے کی ضد کر کے موسم گرما کی تعطیلات کے دوران متعلقہ فیکٹری میں ملازمت اختیار کرلی تھی اور منگل کو تینوں دوست شام کے وقت اپنی تنخواہوں کے حصول کے لیے وہاں گئے تھے کہ اچانک فیکٹری میں آگ بھڑک جس نے دیکھتے ہی دیکھتے پوری عمارت کو اپنی لپٹ میں لے لیا اور بچپن کے دوستوں نے موت کو بھی ایک ساتھ اپنے گلے لگالیا ۔
شعیب کی والدہ یاسمین کا کہنا ہے کہ میرا بیٹا اپنی محنت کی اجرت لینے گیا تھا انھیں کیا معلوم تھا کہ وہ اپنی کمائی کی ایک پائی بھی اپنے اور خرچ نہیں کر سکے گا ، انھوں نے بتایا کہ ارسلان اور انیل کی عمریں 16 سے 18 برس تھیں جبکہ شعیب کی عمر15سال تھی ، ارسلان 4 بھائیوں میں دوسرے نمبر پر جبکہ انیل 3 بھائیوں میں دوسرے نمبر تھا ، تینوں دوستوں کی موت نے پورے علاقے کو سوگواربنا دیا اور ان کے گھروں پر تعزیت کے لیے آنے والوں کو تناتا بندھا ہوا تھا ۔
تینوں دوست فیکٹری میںملازمت کرتے کرتے تھے جو منگل کواپنی تنخواہیں لینے کیلیے فیکٹری گئے تھے ، شعیب کے والد سہیل نے بتایا کہ بیٹے کے دونوں دوست انیل اور ارسلان فیکٹری میں کام کرتے تھے اور شعیب نے بھی ان کے ہمراہ کام کرنے کی ضد کر کے موسم گرما کی تعطیلات کے دوران متعلقہ فیکٹری میں ملازمت اختیار کرلی تھی اور منگل کو تینوں دوست شام کے وقت اپنی تنخواہوں کے حصول کے لیے وہاں گئے تھے کہ اچانک فیکٹری میں آگ بھڑک جس نے دیکھتے ہی دیکھتے پوری عمارت کو اپنی لپٹ میں لے لیا اور بچپن کے دوستوں نے موت کو بھی ایک ساتھ اپنے گلے لگالیا ۔
شعیب کی والدہ یاسمین کا کہنا ہے کہ میرا بیٹا اپنی محنت کی اجرت لینے گیا تھا انھیں کیا معلوم تھا کہ وہ اپنی کمائی کی ایک پائی بھی اپنے اور خرچ نہیں کر سکے گا ، انھوں نے بتایا کہ ارسلان اور انیل کی عمریں 16 سے 18 برس تھیں جبکہ شعیب کی عمر15سال تھی ، ارسلان 4 بھائیوں میں دوسرے نمبر پر جبکہ انیل 3 بھائیوں میں دوسرے نمبر تھا ، تینوں دوستوں کی موت نے پورے علاقے کو سوگواربنا دیا اور ان کے گھروں پر تعزیت کے لیے آنے والوں کو تناتا بندھا ہوا تھا ۔