بلدیاتی انتخابات تاخیر مناسب نہیں

عدالت عظمیٰ کے ریمارکس ایک منتخب جمہوری حکومت کی جمہوریت پسندی کے دعوے پر ایک گہرا اور چشم کشا سقراطی طنز ہے

عدالت نے یاد دلایا کہ 14 برس بیت گئے مگر کوئی جمہوری حکومت کنٹونمنٹس میں الیکشن نہیں کراسکی، یہ کونسی جمہوریت ہے۔ فوٹو: فائل

چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی نے کہا ہے حلقہ بندیوں کے لیے قانون نہ بنا کر حکومت آئین کی خلاف ورزی کی مرتکب ہورہی ہے، بلدیاتی الیکشن کے انعقادکا معاملہ حکومت پر چھوڑ دیا تو اگلے پانچ سال میں بھی بلدیاتی الیکشن نہیں ہو سکتے۔انھوں نے یہ ریمارکس حلقہ بندیوں کے بارے میں زیر التواء اپیلوں کی سماعت کے دوران دیے ہیں۔ عدالت عظمیٰ کے ریمارکس ایک منتخب جمہوری حکومت کی جمہوریت پسندی کے دعوے پر ایک گہرا اور چشم کشا سقراطی طنز ہے۔عدالت نے یاد دلایا کہ 14 برس بیت گئے مگر کوئی جمہوری حکومت کنٹونمنٹس میں الیکشن نہیں کراسکی، یہ کونسی جمہوریت ہے ۔ فاضل ججوں نے جو ریماکس دیے ان پر حکام کو سنجیدگی سے غور کرنا اور جلد انتخابی عمل کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔سپریم کورٹ نے حلقہ بندیوں کے خلاف اعتراضات کی سماعت کے لیے سیشن ججوں کو اختیار دینے کی تجویز دی اور آبزرویشن دی کہ اس سے جانبداری کے الزامات کا بھی ازالہ ہوجائے گا ۔عدالت نے یہ تجویز حلقہ بندیوں سے متعلق لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف الیکشن کمیشن کی اپیل پر دی ہے ، جب کہ ڈی جی الیکشن کمیشن نے تجویز سے اتفاق کیا جس پر عدالت نے پنجاب حکومت کا موقف طلب کر لیا ۔


یہ حیرت ناک تاخیری طرز عمل ہے کہ حلقہ بندیوں کے لیے قانون سازی میں ایک طرف لیت ولعل تو دوسری طرف اٹارنی جنرل کا یہ استدلال کہ پرانا بلدیاتی قانون جمہوری نہیں ،اس پر عدلیہ کا اظہار تعجب بھی قابل غور ہے کہ کسی حکومت نے یہ موقف اختیار نہیں کیا کہ چونکہ کوئی قانون نہیں اسی لیے الیکشن نہیں ہوسکے جب کہ اسی کشمکش میں بحران زدہ بلوچستان نے بلدیاتی الیکشن کرانے کا اپنا فریضہ ادا کر ہی دیا۔عدلیہ کی یہ آبزرویشن حکم کا درجہ رکھتی ہے کہ کنٹونمنٹس سمیت سندھ ،پنجاب اور خیبر پختونخوا مین بلدیاتی انتخابات جلد کرائے جائیں جو آئینی ضرورت ہے ۔چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے نوٹس کا جواب نہ دینے والے فریقین کو دوبارہ نوٹس جاری کرنے کا حکم دیا اور قرار دیا کہ نوٹس کا جواب نہ دینے اور عدم پیشی کی صورت میں عدالت یکطرفہ فیصلہ کر دے گی۔الیکشن کمیشن کے وکیل اکرم شیخ نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ نے شفاف انتخابات کرانے کی ہدایت کی جو شفاف حد بندیوں کے بغیر ممکن نہیں اور الیکشن کمیشن بغیر قانون حد بندیاں نہیں کرا سکتا۔چیف جسٹس نے کہا حکومت قانون نہیں بناتی تو آئین کی خلاف ورزی تو ہو رہی ہے ۔

جسٹس خلجی عارف حسین نے کہا وہ تو قانون سازی نہیں کرے گی ، آپ نے کنٹونمنٹ بورڈز کے الیکشن کے حوالے سے نہیں دیکھ لیا کہ وفاقی حکومت نے ابھی تک قانون نہیں بنایا ۔ اگر وفاقی یا صوبائی حکومت پر قانون سازی چھوڑیں گے تو نہ'' نو من تیل ہوگا اور نہ رادھا ناچے گی''۔ فاضل بنچ نے کنٹونمنٹ بورڈز میں بلدیاتی الیکشن میں تاخیر پر برہمی کا اظہارکرتے ہوئے اٹارنی جنرل سے جامع تحریری جواب طلب کر لیا ۔ جسٹس خلجی عارف حسین نے ریمارکس دیے کہ کنٹونمنٹ بورڈز میں الیکشن کرانا حکومت کی نیت نہیں ، قانون سازی کے نام پر تاخیری حربے استعمال کیے جا رہے ہیں، جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا اٹارنی جنرل جواب میں الیکشن میں تاخیر کے نتائج کو بھی مدنظر رکھیں ۔اٹارنی جنرل سلمان بٹ عدالت کے طلب کرنے پر پیش ہوئے تو چیف جسٹس نے پوچھا بل اب تک اسمبلی میں پیش کیوں نہیں ہوا؟ عدالت نے کہا الیکشن موجودہ قانون کے تحت کرا دیں اور جو نیا قانون بنا رہے ہیں اس میں شق رکھ دیں کہ یہ قانون منتخب باڈی پر لاگو ہوگا۔ضرورت اس امر کی ہے کہ تینوں صوبائی حکومتیں اس حقیقت سے نظریں نہ چرائیں کہ بلدیاتی انتخابی عمل جمہوریت کی پہلی سیڑھی ہے۔ اس لیے بلدیاتی الیکشن سے گریز بظاہر جمہوریت پسندی کے دعوے سے کوئی مطابقت نہیں رکھتا۔ جمہوریت کو درپیش چیلنجز سے سرخرو ہوکر نکلنے کا ایک ہی راستہ ہے کہ وفاقی حکومت صوبائی حکومتوں کو کنٹونمنٹس سمیت پنجاب ، سندھ اور خیبر پختونخوا میںفوری الیکشن کرانے کی ہدایات جاری کرے ۔ عدلیہ سے پنگ پانگ بلدیاتی کھیل حکمرانوں کو مہنگا پڑیگا اور ملک کی الگ بدنامی ہوگی ۔ بلدیاتی الیکشن بلائے ناگہانی نہیں آئینی تقاضا ہے ۔
Load Next Story