وہ جو ریفرنڈم

ہمیں یاد ہے اور یہ یاد ہماری نسلوں تک باقی رہے گی کہ قیادت نے ایک سازش کے تحت ہمارا ملک توڑا کر ڈھاکہ ہم سے الگ کر دیا

Abdulqhasan@hotmail.com

برصغیر میں ایک فیصلہ کن ریفرنڈم تو اس وقت ہوا جب یہاں کے مسلمان باشندوں نے قیام پاکستان کے حق میں ووٹ دیا اور اس کے نتیجے میں کامیابی ملی اور یہ ملک بن گیا جسے ہم 66 برس سے کھا رہے ہیں بلکہ لوٹ رہے ہیں۔ اس میں اتنی برکت ہے کہ یہ نہ ختم ہونے والے کسی خزانے کی طرح ابھی تک آباد ہے۔ جو بھی آیا اس نے بڑی بے دردی اور تیزی کے ساتھ اسے لوٹا جیسے یہ اس کا کوئی مفتوحہ ملک ہے اور اس میں جو کچھ ہے وہ سب کے لیے مال غنیمت ہے۔ عوام اس ملک کے ساتھ چمٹے رہے اور انھیں کی نیک تمناؤں کی برکت سے ہی یہ ملک زندہ چلا آ رہا ہے، اب پہلی بار ایک ایسا وقت آیا ہے کہ عوام بھی اس سے مایوس ہو رہے ہیں لیکن وہ اس ہولناک خطرے کا اظہار نہیں کرتے اس لیے کہ ایک تو اس ملک کی سرزمین سے ان کا محبت کا ایک رشتہ ہے پھر ان کا جو کچھ بھی ہے اگرچہ وہ نہ ہونے کے برابر ہے لیکن اسی ملک میں ہے اس سے باہر ایک کوڑی تک نہیں ہے جب کہ اس ملک کو باری باری لوٹنے اور باریاں لگانے والوں کے پاس ملک سے باہر جتنا کچھ ہے اس ملک کے اندر اگر کہیں کہ اس کا عشر عشیر بھی نہیں ہے تو شائد غلط نہیں ہو گا اور یہ کوئی گپ شپ نہیں ہے اس کے مصدقہ ثبوت وقتاً فوقتاً سامنے آتے رہتے ہیں اور ڈھٹائی کا یہ عالم ہے کہ وہ اس سے انکار بھی نہیں کرتے اور نہ ہی اس ملک کے کروڑوں ہم وطنوں سے شرماتے ہیں۔ ہم وطن تو ہیں رواروی میں ان سے ان کا ہم وطنی کا کوئی حقیقی تعلق نہیں ہے صرف ''میرے عزیز ہم وطنوں تک'' کا ہے۔ یہ جملہ بس ایک حکمران کے سرکاری افسر نے گھڑا تھا جسے حکمرانوں اور ان کے ہم وطنوں کی اصل حقیقت کا خوب علم تھا۔ اگر دو لفظوں سے کوئی بہل سکتا ہے تو اس پر کسی کا کیا لگتا ہے۔

بات قومی رائے عامہ اور ریفرنڈم سے شروع ہوئی تھی جس کی طاقت سے اس سرزمین یا بُت کدے پر ایک بالکل نئے ملک کا معجزہ برپا ہوا جسے تقسیم کے وقت اپنے حصے کی پوری فوج بھی نہیں ملی تھی مگر وہی ملک آج ایک ایٹمی طاقت ہے کیونکہ یہ ملک کروڑوں انسانوں کا وطن عزیز تھا اور ایک عجیب بات یہ ہے کہ قیام پاکستان والے ریفرنڈم کی اصل روح اب تک زندہ سلامت ہے جس پر یہ ملک جی رہا ہے۔ اس کا ایک تازہ نظارا ہمیں گزشتہ دنوں ڈھاکہ میں ہوا جب اس خطے کے دشمن غیر مسلموں یعنی ہندوؤں کے خلاف کھیل کے ایک مقابلے میں پاکستان جیت گیا۔ کھیل میں ہار جیت ایک عام سی بات ہے اور ایک معمول ہے لیکن اس وقت جب یہ کھیل پاکستان اور بھارت کے درمیان نہ ہو ان دو ملکوں کے درمیان کوئی کھیل بھی صرف کھیل نہیں رہتا دو ملکوں کا کوئی جنگی مقابلہ بن جاتا ہے جیسے یہ کھیل کا میدان نہ ہو میدان جنگ ہو۔


ہمیں یاد ہے اور یہ یاد ہماری نسلوں تک باقی رہے گی کہ قیادت نے ایک سازش کے تحت ہمارا ملک توڑا کر ڈھاکہ ہم سے الگ کر دیا۔ ہمارے اس وقت کے حکمران بھی اس نے اپنے آلہ کار بنا لیے اور جو بھی ہوا وہ لفظ بہ لفظ ہر پاکستانی کے دل پر نقش ہے، وہ پاکستانی خواہ ڈھاکہ والے پاکستان کا باشندہ ہو یا دوسرے پاکستان کا اس سانحے کو نہیں بھول سکتا جو دونوں ملکوں کے حکمرانوں نے سازش کر کے ان کو نہ ایک دوسرے سے جدا کر دیا بلکہ ان کی جذباتی تاریخ کو بھی زخمی کر دیا۔ وہ یہ زخم اپنے ساتھ لیے زندہ ہیں اور انھوں نے ایک بار پھر اس کا اعلان گزشتہ دنوں ڈھاکہ میں کیا جب وہاں پاکستان اور بھارت کے درمیان کرکٹ کا مقابلہ ہوا جس میں پاکستان جیت گیا اور اس جیت کا جشن ڈھاکہ والے پاکستان اور دوسرے پاکستان میں ایک ساتھ منایا گیا۔ یہ ہار بھارت کے لیے دکھ کی بات تھی سخت شرمندگی اور کمزوری کی علامت تھی لیکن ڈھاکہ والے پاکستانی جو بھارت کے قبضے میں ہیں اپنے ریفرنڈم والے جذبے کو نہیں بھولے اور اس جشن میں شریک رہے۔ یہ ان کی بھارت نواز حکومت کو یہ بتانا تھا کہ وہ پاکستان کے حامیوں کو موت کی سزا دے یا قید کی وہ اپنی پاکستانیت پر اڑے ہوئے ہیں۔ اس انتہائی نازک پاکستانی گھڑی میں بھی جب ان کی زندگیاں داؤ پر لگی ہوئی ہیں وہ پاکستانیت سے باز نہیں آ سکتے۔

برصغیر کے مسلمانوں کا پاکستانیت یعنی دو قومی نظریے پر ایمان ان کے مذہب کا حصہ ہے، ان کی منفرد جداگانہ تہذیب و ثقافت کا حصہ ہے۔ ہندوؤں نے پاکستان کا جرم معاف نہیں کیا اور بھارت میں پاکستانی آج بھی آزادی کے برسوں گزر جانے کے بعد بھی دوسرے درجے کے شہری ہیں۔ کل کے حکمران آج کے محکوم ہیں اور بھارتیوں کی ایک بڑی لیڈر الفاظ میں مشرقی پاکستان کو الگ کر کے اس نے مسلمانوں سے ایک ہزار سال کی غلامی کا بدلہ لیا ہے یعنی اس زمانے کا جس میں بھارت پر مسلمانوں کی حکومت رہی اور ہندو ان کے غلام رہے۔ یہ وہ اصلی اور حقیقی ردعمل تھا جو ایک ہندو نے ظاہر کیا تھا۔ اندرا گاندھی آزاد بھارت کے بانی پنڈت نہرو کی بیٹی اور جانشین تھیں۔ اس نے ہزار برسوں کی غلامی کا بدلہ لیا یا جو بھی کیا وہ ریفرنڈم اب تک زندہ ہے جو ہمیں ہندو مسلمان دو الگ الگ قوموں کی یاد دلاتا ہے بلکہ اس کا ثبوت پیش کرتا ہے۔ اگر بنگلہ دیش بن جانے کے باوجود یہ ریفرنڈم زندہ ہے تو پاکستان کے قیام کا اصل باعث دو قومی نظریہ بھی زندہ ہے۔ تعجب ہے کہ پاکستان میں درآمدی سیکولر اس ریفرنڈم کو نہیں مانتے۔ وہ دو قومی نظریے کی اساس کو ہی نہیں مانتے۔ دکھ کی بات یہ ہے کہ ریفرنڈم کی یہ جنگ پاکستان میں بھی لڑنی پڑ رہی ہے۔ میرے سینئر ساتھی اس جنگ میں مجاہدانہ کردار ادا کر رہے ہیں۔ خدا انھیں سلامت رکھے۔
Load Next Story