حکومت نے 12 سیٹر رکشوں کو غیر قانونی قرار دیدیا 15 روز میں اہم شاہراؤں سے ہٹانے کا حکم

رکشے چلانے سے ٹریفک مسائل بڑھے، سندھ میں جلد 500 بسیں چلانے کا منصوبہ شروع کرینگے، صوبائی وزیر ممتاز جھکرانی

غیر قانونی قراردیے گئے 12 سیٹر رکشوں کو ٹریفک پولیس کی جانب سے ضبط کیے جانے کے بعد پریڈی پولیس اسٹیشن میں کھڑا کردیاگیاہے۔ فوٹو: ایکسپریس

محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے 12سیٹرر چنگ چی رکشوں کو غیرقانونی قراردیتے ہوئے 15 روز میں 12 سیٹررکشے مرکزی شاہراہوں سے ہٹانے کا حکم دیا ہے جبکہ صوبائی محکمہ ٹرانسپورٹ نے 12سیٹرز اورچنگ چی رکشا کی باڈیاں بنانے والوں (باڈی میکرز) کو بھی کاروبار بند کرنے کا الٹی میٹم دیدیا۔


صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ ممتاز حسین جکھرانی نے اجلاس کے بعد گفتگو میں کہا کہ12 سیٹررکشے کراچی کی مرکزی شاہراہوں پرچلانے سے ٹریفک مسائل میں اضافہ ہوا،انھوں کہ ٹرانسپورٹ کا مسئلہ حل کرنے کیلیے کراچی سمیت سندھ بھرمیں جلد500بسیں چلانے کا منصوبہ جلد شروع کریں گے،کراچی میں چلنے والی گرین بسیں محکمہ بلدیات سے محکمہ ٹرانسپورٹ کے حوالے کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے، انھوںنے کہا کہ گاڑیوں کے فٹنس سرٹیفکیٹ کا اجراٹریفک پولیس کی بجائے محکمہ ٹرانسپورٹ کے سپردکرنے کے لیے قانون سازی کا فیصلہ کیا گیا ہے، انھوںنے کہا کہ کراچی کی آبادی کے پیش نظر کراچی کے لیے ٹرانسپورٹ پیکیج لارہے ہیں جس میں پہلے مرحلے میں 76بسیں کراچی اور 100بسیں اندرون سندھ کے لیے ہوں گی، مجموعی طور پر 500بسیں لائی جائیں گی۔

انھوں نے کہا کہ اسکول کے بچوں کے لیے چلائی جانے والی گاڑیوں کے مالکان سے معاہدہ طے پاگیا ہے، محکمہ ٹرانسپورٹ کے احکامات پر ٹریفک پولیس اگر سختی سے عمل درآمد کرائے تو مہلک ٹریفک حادثات سے بچا جاسکتا ہے، انھوں نے کہا کہ محکمہ ٹرانسپورٹ کے پاس اختیارات نہ ہونے کے باعث مشکلات درپیش ہیں، غیر معیاری سلنڈر استعمال کرنے والی گاڑیوں کے خلاف کارروائی کا اختیار پولیس کے پاس ہے، حکومت سندھ کو تجویز پیش کی ہے کہ محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ کو مجسٹریٹ کے اختیارات تفویض کیے جائیں، انھوں نے کہا کہ کراچی میں جدید بسیں چلانے کے لیے 20مارچ تک پیشکشیں طلب کرلی گئی ہیں۔
Load Next Story