سپریم کورٹ کی عزت کو خطرہ نہیں کسی کے دل میں خیال ہے تو نکال دے چیف جسٹس

رحمٰن ملک پہلے سرٹیفکیٹ پردفاع کررہے ہیںاس پرتورکنیت معطل ہوئی تھی،شہریت ترک کر چکے تھے تومستعفی کیوں ہوئے؟ریمارکس

رحمٰن ملک پہلے سرٹیفکیٹ پردفاع کررہے ہیںاس پرتورکنیت معطل ہوئی تھی،شہریت ترک کر چکے تھے تومستعفی کیوں ہوئے؟ریمارکس۔ فوٹو: ایکسپریس/فائل

سپریم کورٹ نے دہری شہریت کے مقدمے میں آبزرویشن دی ہے کہ وفاقی وزیر داخلہ رحمٰن ملک 29مئی2012سے پہلے قانونی طور پر برطانیہ کے شہری تھے۔

عدالت نے مزید سماعت17ستمبرتک ملتوی کرکے آئندہ سماعت پر الیکشن کمیشن کا نمائندہ بھی طلب کر لیا ہے۔چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے بدھ کو مقدمے کی سماعت شروع کی تو درخواست گزار نے بتایا کہ عدالت کی عزت کا معاملہ ہے اس لیے اس مقدمے کو نمٹا دیا جائے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ عدالت کی عزت کوکچھ نہیں ہو سکتا اگر کسی کے ذہن میں یہ بات ہے کہ عدالت کی عزت کوکچھ ہو جائے گاتو وہ یہ بات ذہن سے نکال دے۔


عدالت نے رحمٰن ملک کے وکیل سے استفسارکیا کہ ترک شہریت کا کوئی نیا سرٹیفکیٹ حاصل کیا گیا ہے یا نہیںجس پر انکے وکیل انور منصور خان نے کہاکوئی نیا سرٹیفکیٹ حاصل نہیںکیا گیا ہے ۔چیف جسٹس نے کہا پرانے موقف پر عدالت نے انکی رکنیت معطل کی ہے۔ جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا اس وقت ترک شہریت کا سرٹیفکیٹ نہیں تھا اگر اب مل گیا ہو تو اسے ریکارڈ پر لے آئیں، سرٹیفکیٹ ریکارڈ پر لانے میں آخر ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیوں ہو رہا ہے۔

انور منصور نے بتایا ترک شہریت کیلئے درخواست 25اپریل2008کو دی گئی تھی جبکہ سالیسٹر ہوم لینڈ سکیورٹی کا جواب 29مئی2012کو آگیا ہے جس میں شہریت ختم کی گئی ہے۔جسٹس خلجی عارف حسین نے کہا کہ اس سے پہلے وہ قانونی طور پر برطانیہ کے شہری تھے۔اگر شہریت 2008 میں ختم ہو چکی تھی تو پھر رکنیت سے استعفے کی ضرورت نہیں تھی چونکہ وہ برطانیہ کے شہری تھے اس لیے استعفیٰ دیا۔درخواست گزار محمود اختر نقوی نے کہا استعفیٰ نا اہلیت سے بچنے کیلئے عدالت کو دھوکہ دینے کیلیے دیا گیا ایسا کرکے رحمان ملک نے توہین عدالت کی ہے ،وہ اس حوالے سے ثبوت فراہم کریںگے۔

چیف جسٹس نے کہا آخر آپ کی رحمان ملک سے کیا دشمنی ہے اورکون آپ کو ثبوت فراہم کرتا ہے جس پر درخواست گزارکا کہنا تھا کہ وہ اس ملک کے شہری ہیں اور اپنی ذمہ داریوں سے آگاہ ہیں نہ تو ان کی کسی سے دشمنی ہے اور نہ کسی کے کہنے پر یہ سب کچھ کر رہے ہیں بلکہ غلط کاریوں پر خاموش نہیں رہ سکتے۔ این این آئی کے مطابق چیف جسٹس نے کہا سپریم کورٹ کی عزت کوکوئی خطرہ نہیں،اگرکسی کے دل میں ایسا خیال ہے تو نکال دے، اگر رحمٰن ملک پہلے والے سرٹیفکیٹ پر دفاع کر رہے ہیں ان پر تو ان کی رکنیت معطل ہو چکی ہے۔وہ اگر پہلے ہی شہریت ترک کر چکے تھے تو سینیٹ کی نشست سے مستعفی کیوں ہوئے۔

Recommended Stories

Load Next Story