بدترین تعلیمی کارکردگی میٹرک و انٹر کے امتحان میں نقل روکنے کیلیے اجلاس طلب
تعلیمی بورڈز کے سربراہوں کے اجلاس کی صدارت وزیر تعلیم کریں گے،نصاب میں تبدیلی کے معاملے پربھی بات چیت کی جائیگی
انٹرمیں اے ون گریڈ حاصل کرنے والے سیکڑوں طلبا این ای ڈی یونیورسٹی اورجامعہ کراچی کے داخلہ ٹیسٹ میں فیل ہوچکے ہیں۔ فوٹو: فائل
صوبائی محکمہ تعلیم نے آئندہ ماہ سے کراچی سمیت سندھ بھر میں شروع ہونے والے میٹرک اورانٹرکے امتحانات میں نقل کی روک تھام کے سلسلے میں اجلاس آج طلب کرلیاجس کی صدارت صوبائی وزیرتعلیم نثار احمد کھوڑو کریں گے۔
یہ اجلاس ایک ایسے وقت میں طلب کیاگیاہے جب تعلیمی بورڈز بالخصوص اندرون سندھ کے امتحانی بورڈز سے اے ون گریڈ میں انٹرکرنے والے طلبا این ای ڈی یونیورسٹی اورجامعہ کراچی کے داخلہ ٹیسٹ میں فیل ہوگئے ہیں جس سے ان امتحانی بورڈزکی جانب سے جاری نظام امتحان سوالیہ نشان بن کررہ گیاہے،آج ہونے والے اجلاس میں سندھ بھرکے ثانوی واعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈزکے چیئرمین اورناظم امتحانات کوبھی بلایاگیا ہے، اجلاس میں کراچی سمیت سندھ بھرمیں اپریل میں ہونے والے میٹرک اورانٹرکے امتحانات کے دوران نقل کی روک تھام کے سلسلے میں پالیسی کی تشکیل پر بات چیت ہوگی،سندھ میں 2006کی اسکیم کے تحت نصاب میں تبدیلی کے معاملے پر بھی بات چیت کی جائے گی ، سندھ بھرمیں میٹرک کے امتحانات 2 اپریل جبکہ انٹرکے امتحانات 22اپریل سے شروع ہورہے ہیں،یہ پہلاموقع نہیں ہے جب حکام کوامتحانات سے قبل نقل کی روک تھام کاخیال آیاہے،رسمی اجلاس بلائے جاتے ہیں جس میں سندھ میں نقل کی روک تھام کے سلسلے میں پالیسی بناکربلند وبانگ دعوے کیے جاتے ہیں ،ویجلنس کمیٹیاں تشکیل دی جاتی ہیں تاہم یہ سب کچھ بے سود ثابت ہوتاہے ،حکومت سندھ اوربالخصوص صوبائی محکمہ تعلیم کی بنائی گئی ویجلنس کمیٹیاں کام نہیں کرتیں۔
امتحانی مراکز کادورہ ہی نہیں کیاجاتاہے اورامتحان کا پورا نظام تعلیمی بورڈ کے ہاتھ میں دے دیا جاتا ہے، صوبائی محکمہ تعلیم کی مشنری کے غیرفعال ہونے کے سبب سندھ بھرمیں میٹرک اور انٹرکے امتحانات کے دوران بڑے پیمانے پر نقل کے کیسز سامنے آتے ہیں،امتحانی مراکز میں زبردستی اوردھونس دھمکی کے ساتھ نقل کی جاتی ہے جس کے بعد یہ امیدوار'' اے اوراے ون گریڈ '' لے کرکامیاب توہوجاتے ہیں تاہم جب اعلیٰ تعلیم کے لیے جامعات کارخ کرتے ہیں تومتعلقہ جامعات کے انٹری ٹیسٹ میں اے ون گریڈ کے حامل امیدوار ہی بڑی تعدادمیں فیل ہوجاتے ہیں اس بار بھی کراچی کے تعلیمی بورڈ کے اے ون گریڈ کے امیدوارمحدودپیمانے پر جبکہ اندرون سندھ کے تعلیمی بورڈ زسے فارغ التحصیل اے ون گریڈ کے حامل امیدوار بڑے پیمانے پر این ای ڈی یونیورسٹی کے داخلہ ٹیسٹ میں فیل ہوگئے تھے،جامعہ کراچی کے داخلہ ٹیسٹ میں بھی صورتحال کچھ ایسی ہی تھی جامعہ کراچی کے داخلہ ٹیسٹ میں فیل ہونے والوں میں ساڑھے 450سے زائد امیدوارایسے تھے جن انٹرمیں اے ون گریڈلے کرکامیاب ہوئے تھے،سندھ بھر میں نقل روکنے کیلیے موثر اقدامات نہ کیے جانے کے باعث طلبا کا تعلیمی معیار بدسے بدترین ہوتا جارہا ہے۔
یہ اجلاس ایک ایسے وقت میں طلب کیاگیاہے جب تعلیمی بورڈز بالخصوص اندرون سندھ کے امتحانی بورڈز سے اے ون گریڈ میں انٹرکرنے والے طلبا این ای ڈی یونیورسٹی اورجامعہ کراچی کے داخلہ ٹیسٹ میں فیل ہوگئے ہیں جس سے ان امتحانی بورڈزکی جانب سے جاری نظام امتحان سوالیہ نشان بن کررہ گیاہے،آج ہونے والے اجلاس میں سندھ بھرکے ثانوی واعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈزکے چیئرمین اورناظم امتحانات کوبھی بلایاگیا ہے، اجلاس میں کراچی سمیت سندھ بھرمیں اپریل میں ہونے والے میٹرک اورانٹرکے امتحانات کے دوران نقل کی روک تھام کے سلسلے میں پالیسی کی تشکیل پر بات چیت ہوگی،سندھ میں 2006کی اسکیم کے تحت نصاب میں تبدیلی کے معاملے پر بھی بات چیت کی جائے گی ، سندھ بھرمیں میٹرک کے امتحانات 2 اپریل جبکہ انٹرکے امتحانات 22اپریل سے شروع ہورہے ہیں،یہ پہلاموقع نہیں ہے جب حکام کوامتحانات سے قبل نقل کی روک تھام کاخیال آیاہے،رسمی اجلاس بلائے جاتے ہیں جس میں سندھ میں نقل کی روک تھام کے سلسلے میں پالیسی بناکربلند وبانگ دعوے کیے جاتے ہیں ،ویجلنس کمیٹیاں تشکیل دی جاتی ہیں تاہم یہ سب کچھ بے سود ثابت ہوتاہے ،حکومت سندھ اوربالخصوص صوبائی محکمہ تعلیم کی بنائی گئی ویجلنس کمیٹیاں کام نہیں کرتیں۔
امتحانی مراکز کادورہ ہی نہیں کیاجاتاہے اورامتحان کا پورا نظام تعلیمی بورڈ کے ہاتھ میں دے دیا جاتا ہے، صوبائی محکمہ تعلیم کی مشنری کے غیرفعال ہونے کے سبب سندھ بھرمیں میٹرک اور انٹرکے امتحانات کے دوران بڑے پیمانے پر نقل کے کیسز سامنے آتے ہیں،امتحانی مراکز میں زبردستی اوردھونس دھمکی کے ساتھ نقل کی جاتی ہے جس کے بعد یہ امیدوار'' اے اوراے ون گریڈ '' لے کرکامیاب توہوجاتے ہیں تاہم جب اعلیٰ تعلیم کے لیے جامعات کارخ کرتے ہیں تومتعلقہ جامعات کے انٹری ٹیسٹ میں اے ون گریڈ کے حامل امیدوار ہی بڑی تعدادمیں فیل ہوجاتے ہیں اس بار بھی کراچی کے تعلیمی بورڈ کے اے ون گریڈ کے امیدوارمحدودپیمانے پر جبکہ اندرون سندھ کے تعلیمی بورڈ زسے فارغ التحصیل اے ون گریڈ کے حامل امیدوار بڑے پیمانے پر این ای ڈی یونیورسٹی کے داخلہ ٹیسٹ میں فیل ہوگئے تھے،جامعہ کراچی کے داخلہ ٹیسٹ میں بھی صورتحال کچھ ایسی ہی تھی جامعہ کراچی کے داخلہ ٹیسٹ میں فیل ہونے والوں میں ساڑھے 450سے زائد امیدوارایسے تھے جن انٹرمیں اے ون گریڈلے کرکامیاب ہوئے تھے،سندھ بھر میں نقل روکنے کیلیے موثر اقدامات نہ کیے جانے کے باعث طلبا کا تعلیمی معیار بدسے بدترین ہوتا جارہا ہے۔