ای ایف ایس بینکوں اور ایس ایم ایز کیلیے ترغیبات کا اعلان

4مارچ سے ایس ایم ایز کے لیے قرضوںپربینک اسپریڈ1سے2فیصد،ری فنانس ریٹ اسی کے مطابق تبدیل ہوگا،اسٹیٹ بینک

ای ایف ایس ٹوکے تحت مارک اپ ری بیٹ برآمدی کارکردگی سے مشروط، ایس ایم ایزکو0.5فیصدزیادہ دیا جائیگا ہو گا، سرکلر فوٹو: فائل

CINCINNATI:
اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایس ایم ایز) کی ترقی کے لیے اپنے ضوابطی پالیسی فریم ورک کے مطابق بینکوں اور ایس ایم ای برآمد کنندگان دونوں کے لیے بعض خصوصی ترغیبات متعارف کرائی ہیں۔


تاکہ وہ ایکسپورٹ فنانس اسکیم کے تحت اپنا حصہ بڑھا سکیں، ان ترغیبات سے ایس ایم ای قرض لینے والوں کو اپنی مالکاری کی ضروریات پوری کرنے اور اس طرح بالآخر ملک کی برآمدی نمو میں اپنا حصہ ڈالنے کا موقع ملے گا۔ اسٹیٹ بینک کے جاری کردہ سرکلر کے مطابق 4 مارچ 2014 سے ایکسپورٹ فنانس اسکیم مارک اپ ریٹ میں بینکوں کا اسپریڈ ایس ایم ای قرض لینے والوں کے لیے 1فیصد سے بڑھا کر 2 فیصد کردیا گیا ہے، اس اسکیم کے تحت ایس ایم ایزکوقرضوں پر بینک 2 فیصد اسپریڈ چارج کرسکیں گے، اسٹیٹ بینک کے ری فنانس ریٹ میں اسی کے مطابق ردوبدل کردیا جائے گا، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کو فراہم کردہ مالکاری پر ری فنانس کا دعویٰ کرنے والے کسی بھی بینک کو مقررہ نمونے کے مطابق ایک سرٹیفکیٹ دینا ہوگا، ای ایف ایس پارٹ ٹو کے تحت کارکردگی کی بنیاد پر مارک اپ ری بیٹ کو برآمدی کارکردگی سے منسلک کردیا گیا ہے، برآمدکنندگان اپنی برآمدی کارکردگی کی بنیاد پر 0.5 سے 1.5 فیصد تک مارک اپ ریٹ ری بیٹ حاصل کر سکیں گے، کارپوریٹ برآمدکنندگان کے مقابل ایس ایم ایز کو برآمدات کی حوصلہ افزائی کے لیے مارک اپ ری بیٹ کی ترغیبات 0.5فیصد بڑھائی جا رہی ہیں۔

کارکردگی کی بنیاد پر مارک ریٹ ری بیٹ مالی سال 2013-14اور اس کے بعد بلند برآمدی کارکردگی کے حصول پر ایس ایم ای قرض کنندگان کو ملے گا۔ یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ ای ایف ایس کے تحت بینکوں کی سالانہ ریوالونگ حدود کی منظوری دیتے وقت ان کی جانب سے ایس ایم ایز کی دستیاب حد کے استعمال کو بھی مدنظر رکھا جائے گا، بینکوں کیلیے ضروری ہو گا کہ وہ اپنی مجموعی حد میں سے ایس ایم ای کیلیے کم از کم 10 فیصد مختص کریں، بینک سالانہ حد میں سے 90 فیصد مالکاری کارپوریٹ برآمد کنندگان کو فراہم کر سکتے ہیں تاہم نئی حدود کی مطابقت اس طرح کی جائیگی کہ ایس ایم ای کیلیے 10 فیصد حصے کا تقاضا پورا کرتے وقت کارپوریٹ قرض لینے والوں کا موجودہ حصہ متاثر نہ ہو، حد مختص کرنے کے طریقہ کار کو اختیار کرنے اور اپنے کارپوریٹ کلائنٹس کے حصے کی مطابقت کیلیے بینکوں کو معقول عبوری مدت دی جائیگی، ایس بی پی بی ایس سی کے دفاتر اس نئے طریقہ کار پر یکم جولائی 2015 سے عملدرآمد شروع کرینگے، بینکوں کو چاہیے کہ وہ فنانس فراہم کرتے وقت ایس ایم ایز کی پروڈنشل ریگولیشنز کے تحت ایک ایس ایم ای کے لیے دی گئی زیادہ سے زیادہ اکتشاف کی حد کے متعلق ضوابط پر عملدرآمد جاری رکھیں۔
Load Next Story