اب کون محفوظ ہے
ہم نے امن کے مذاکرات کے لیے چوکمیٹی بنا رکھی ہے وہ حکومتوں کی روایتی کمیٹی کی طرح ہے
Abdulqhasan@hotmail.com
BADIN:
کچھ پہلے جب اسلام آباد کو ایک شخص نے صرف اپنی بیوی کی مدد سے یرغمال بنا لیا تھا اور کئی گھنٹے وہ اسلام آباد کے ایک حصے پر قابض رہا تو اس سے اندازہ ہو گیا کہ یہ شہر ایک شہر ناپرساں ہے اور اس کے ہزاروں محافظ جو کچھ بھی ہیں اس شہر کے محافظ نہیں ہیں۔ پولیس کے سپاہی سے لے کر آئی جی صاحب تک کے متعدد افسر اس شہر میں موجود تھے لیکن اس وقت ٹی وی جیسے بد لحاظ اطلاعاتی ذریعہ نے پورے ملک کو اس کے دارالحکومت کی اس بے بسی سے مطلع کر رکھا تھا۔ ٹی وی اس شخص واحد سکندر نامی کی نقل و حرکت سے قوم کو لمحہ بہ لمحہ باخبر کر رہا تھا تاآنکہ راولپنڈی کے ایک شہری نے ہمت کر کے اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر یہ ڈرامہ ختم کر دیا۔ سکندر کو قابو کر لیا ورنہ پولیس کی تمام نفری عملاً اس شخص کی حفاظت پر کمربستہ تھی۔ یہ ڈرامہ اور تماشا ختم ہونے کے بعد ہماری غیر فوجی سیکیورٹی فورسز کے سربراہ وزیر داخلہ نے حسب معمول ایک طویل تقریر کے ذریعے قوم کو مطمئن کرنے کی کوشش کی کیونکہ وہ کہہ چکے تھے کہ اسلام آباد ایک محفوظ ترین شہر ہے اور اس کو غیر محفوظ کہنے والے تمام غلط ہیں۔
اسلام آباد کے اس چشم کشا حادثے کے بعد نہ صرف اہل اسلام آباد بلکہ اس دارالحکومت کے ماتحت پورے ملک میں تشویش اور اضطراب کی لہر دوڑ گئی کہ اگر ایک اکیلا شخص اس مرکزی شہر کو اپنے قبضے میں لے سکتا ہے تو کسی منصوبے کے تحت زیادہ لوگ نہ جانے اس کا کیا حال کر سکتے ہیں چنانچہ یہی حال ہوا، بھری کچہری میں دن دہاڑے ایک سیشن جج اور گیارہ بارہ دوسرے جاں بحق اور کئی ایک زخمی ہو گئے جن میں سے جو بچ بھی گئے تو وہ اپنی زخمی زندگی کو نہ جانے کیسے بسر کریں گے بہر کیف یہ ایک افسوسناک ہی نہیں شرمناک حادثہ بھی ہے۔ کچہری پر دہشت گردوں نے حملہ کیا اور وہ کامیاب رہے، خبروں میں بتایا گیا کہ حملے کے وقت یہاں سے بھاگنے والوں میں پولیس والے بھی تھے۔ طالبان چونکہ بظاہر جنگ بندی کا اعلان کر چکے ہیں یعنی ایک مہینے تک وہ کارروائیوں سے باز رہیں گے اس لیے جس تنظیم نے یہ حادثہ کیا اس نے ایک اور نام بتا دیا، احرار الہند نامی تنظیم۔ طالبان کی طرف سے ایک ماہ کی جنگ بندی کے کئی معنی لیے جا رہے ہیں۔ یہ تک بھی کہا جا رہا ہے کہ وہ اس مدت میں نئی جنگ کی تیاری کریں گے کیونکہ پاکستان فضائی فوج لے آیا ہے جس کی بمباری کا مقابلہ کرنے کے لیے نئی حکمت عملی کی ضرورت ہے۔
یہ بحث جاری ہے کہ پاکستان پر حملہ آور کیا طالبان جیسی ایک غیر سرکاری تنظیم ہے یا کوئی باقاعدہ ملک چھپ کر اور کسی دوسرے ذریعہ سے پاکستان پر حملہ کر رہا ہے اور طالبان یا کوئی دوسری تنظیم صرف ایک آلہ کار ہے اور وہ خود حملہ آور نہیں ہے۔ مشرق وسطیٰ میں تین مسلمان ملکوں پر مغربی ملکوں نے حملہ کیا ہے عراق میں کامیابی کے بعد افغانستان میں کامیابی نہیں ہو سکی اسی طرح شام میں بھی حالات قابو سے باہر ہیں۔ تباہی بلاشبہ بہت ہوئی لاکھوں انسان حملہ آوروں کا نشانہ بن گئے لیکن کسی ملک پر مکمل قبضہ نہیں ہو سکا۔ اس خطے میں مغرب کے لیے سب سے بڑا کانٹا پاکستان ہے اور چونکہ یہ ایک ایٹمی ملک ہے اس لیے مغربی ملکوں کا آلہ کار بھارت اس پر براہ راست حملہ نہیں کر سکتا۔ وہ خود اتنی تباہی برداشت نہیں کر سکتا اس لیے بھارت نے تخریب کاری اور دہشت گردی شروع کر رکھی ہے، نقصان ایک باقاعدہ جنگ کے برابر یا زیادہ لیکن جنگی خطرے سے دور۔ یہ ایک بہترین حکمت عملی ہے جس نے پاکستان کو زچ کر دیا ہے۔ پاکستان کی طرف سے اس خفیہ حملے کا جو جواب دیا جا رہا ہے اس کا ذکر کرنا اپنے آپ کو شرمندہ کرنا ہے۔
ہماری دل و جان سے کوشش ہے کہ بھارت کے ساتھ تجارت شروع ہو جائے اور تجارتی سہولت کے طور پر ویزے وغیرہ ختم ہو جائیں یا برائے نام رہ جائیں۔ ہم نے تو سرحدیں کھولنے کی باتیں بھی بار بار کی ہیں اور اس طرح یہ ایک شریفانہ پیش کش کی ہے لیکن بدتمیز بھارت کے وزیر تجارت نے پاکستان کا دورہ کرنے سے صاف انکار کر دیا ہے چنانچہ فی الحال ہم میڈیا میں اور سینماؤں میں بھارتی فلموں اور اداکاراؤں کی نمائش میں مصروف ہیں اور ہمارے اشتہاروں میں بھارتی اداکارائیں جلوہ گر ہیں۔ پاکستانی قوم کی طرف سے مزاحمت اور ناپسندیدگی کی وجہ سے رفتہ رفتہ بھارت کے ساتھ دوستی اور پیار کی باتیں قدرے کم ہو گئی ہیں لیکن بھارت کا سرپرست امریکا اس سے خوش نہیں ہے چنانچہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ طالبان کی طرف سے مہینہ بھر کی خاموشی کے اعلان کے باوجود کوئی دن نہیں جاتا کہ وہ سب کچھ ہو جاتا ہے جو کسی قسم کی مبینہ جنگ بندی سے پہلے ہو رہا تھا۔ طالبان کی طرف سے خاموشی امن کی کوئی ضمانت نہیں ہے۔
ہم نے امن کے مذاکرات کے لیے چوکمیٹی بنا رکھی ہے وہ حکومتوں کی روایتی کمیٹی کی طرح ہے اور اس کے جواب میں جو طالبان کی جو کمیٹی ہے نہ جانے وہ کیا ہے اور اس کا کیا اختیار ہے۔ مسئلہ یہ نہیں کہ کیا جائز ہے اور کیا ناجائز، اسلام کس عمل کی اجازت دیتا ہے اور کس کی نہیں دیتا، ان تخریبی کارروائیوں کے پیچھے بھارت ہے اور بھارت کی دشمنی کمیٹیوں اور امن کی امیدوں سے ختم نہیں ہو سکتی۔ طالبان سے معاملہ کرنے میں ہماری حکومت سے بعض بنیادی غلطیاں ہو گئی ہیں مثلاً طالبان کو عملاً ایک ملک جیسے فریق کی حیثیت دینا اور بھی بہت کچھ، اب ہم کھل کر طالبان کو کوئی ایسی حیثیت دے رہے ہیں جس کی ان کو توقع ہی نہیں تھی۔ بہر کیف ہمیں ہر صورت حال کے لیے تیار رہنا چاہیے اور بے حد تعجب اور حیرت ہے کہ ہماری پولیس وغیرہ کہاں ہے اور کیا کر رہی ہے بلکہ یہ کہ پولیس ہے ہی کیوں؟
کچھ پہلے جب اسلام آباد کو ایک شخص نے صرف اپنی بیوی کی مدد سے یرغمال بنا لیا تھا اور کئی گھنٹے وہ اسلام آباد کے ایک حصے پر قابض رہا تو اس سے اندازہ ہو گیا کہ یہ شہر ایک شہر ناپرساں ہے اور اس کے ہزاروں محافظ جو کچھ بھی ہیں اس شہر کے محافظ نہیں ہیں۔ پولیس کے سپاہی سے لے کر آئی جی صاحب تک کے متعدد افسر اس شہر میں موجود تھے لیکن اس وقت ٹی وی جیسے بد لحاظ اطلاعاتی ذریعہ نے پورے ملک کو اس کے دارالحکومت کی اس بے بسی سے مطلع کر رکھا تھا۔ ٹی وی اس شخص واحد سکندر نامی کی نقل و حرکت سے قوم کو لمحہ بہ لمحہ باخبر کر رہا تھا تاآنکہ راولپنڈی کے ایک شہری نے ہمت کر کے اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر یہ ڈرامہ ختم کر دیا۔ سکندر کو قابو کر لیا ورنہ پولیس کی تمام نفری عملاً اس شخص کی حفاظت پر کمربستہ تھی۔ یہ ڈرامہ اور تماشا ختم ہونے کے بعد ہماری غیر فوجی سیکیورٹی فورسز کے سربراہ وزیر داخلہ نے حسب معمول ایک طویل تقریر کے ذریعے قوم کو مطمئن کرنے کی کوشش کی کیونکہ وہ کہہ چکے تھے کہ اسلام آباد ایک محفوظ ترین شہر ہے اور اس کو غیر محفوظ کہنے والے تمام غلط ہیں۔
اسلام آباد کے اس چشم کشا حادثے کے بعد نہ صرف اہل اسلام آباد بلکہ اس دارالحکومت کے ماتحت پورے ملک میں تشویش اور اضطراب کی لہر دوڑ گئی کہ اگر ایک اکیلا شخص اس مرکزی شہر کو اپنے قبضے میں لے سکتا ہے تو کسی منصوبے کے تحت زیادہ لوگ نہ جانے اس کا کیا حال کر سکتے ہیں چنانچہ یہی حال ہوا، بھری کچہری میں دن دہاڑے ایک سیشن جج اور گیارہ بارہ دوسرے جاں بحق اور کئی ایک زخمی ہو گئے جن میں سے جو بچ بھی گئے تو وہ اپنی زخمی زندگی کو نہ جانے کیسے بسر کریں گے بہر کیف یہ ایک افسوسناک ہی نہیں شرمناک حادثہ بھی ہے۔ کچہری پر دہشت گردوں نے حملہ کیا اور وہ کامیاب رہے، خبروں میں بتایا گیا کہ حملے کے وقت یہاں سے بھاگنے والوں میں پولیس والے بھی تھے۔ طالبان چونکہ بظاہر جنگ بندی کا اعلان کر چکے ہیں یعنی ایک مہینے تک وہ کارروائیوں سے باز رہیں گے اس لیے جس تنظیم نے یہ حادثہ کیا اس نے ایک اور نام بتا دیا، احرار الہند نامی تنظیم۔ طالبان کی طرف سے ایک ماہ کی جنگ بندی کے کئی معنی لیے جا رہے ہیں۔ یہ تک بھی کہا جا رہا ہے کہ وہ اس مدت میں نئی جنگ کی تیاری کریں گے کیونکہ پاکستان فضائی فوج لے آیا ہے جس کی بمباری کا مقابلہ کرنے کے لیے نئی حکمت عملی کی ضرورت ہے۔
یہ بحث جاری ہے کہ پاکستان پر حملہ آور کیا طالبان جیسی ایک غیر سرکاری تنظیم ہے یا کوئی باقاعدہ ملک چھپ کر اور کسی دوسرے ذریعہ سے پاکستان پر حملہ کر رہا ہے اور طالبان یا کوئی دوسری تنظیم صرف ایک آلہ کار ہے اور وہ خود حملہ آور نہیں ہے۔ مشرق وسطیٰ میں تین مسلمان ملکوں پر مغربی ملکوں نے حملہ کیا ہے عراق میں کامیابی کے بعد افغانستان میں کامیابی نہیں ہو سکی اسی طرح شام میں بھی حالات قابو سے باہر ہیں۔ تباہی بلاشبہ بہت ہوئی لاکھوں انسان حملہ آوروں کا نشانہ بن گئے لیکن کسی ملک پر مکمل قبضہ نہیں ہو سکا۔ اس خطے میں مغرب کے لیے سب سے بڑا کانٹا پاکستان ہے اور چونکہ یہ ایک ایٹمی ملک ہے اس لیے مغربی ملکوں کا آلہ کار بھارت اس پر براہ راست حملہ نہیں کر سکتا۔ وہ خود اتنی تباہی برداشت نہیں کر سکتا اس لیے بھارت نے تخریب کاری اور دہشت گردی شروع کر رکھی ہے، نقصان ایک باقاعدہ جنگ کے برابر یا زیادہ لیکن جنگی خطرے سے دور۔ یہ ایک بہترین حکمت عملی ہے جس نے پاکستان کو زچ کر دیا ہے۔ پاکستان کی طرف سے اس خفیہ حملے کا جو جواب دیا جا رہا ہے اس کا ذکر کرنا اپنے آپ کو شرمندہ کرنا ہے۔
ہماری دل و جان سے کوشش ہے کہ بھارت کے ساتھ تجارت شروع ہو جائے اور تجارتی سہولت کے طور پر ویزے وغیرہ ختم ہو جائیں یا برائے نام رہ جائیں۔ ہم نے تو سرحدیں کھولنے کی باتیں بھی بار بار کی ہیں اور اس طرح یہ ایک شریفانہ پیش کش کی ہے لیکن بدتمیز بھارت کے وزیر تجارت نے پاکستان کا دورہ کرنے سے صاف انکار کر دیا ہے چنانچہ فی الحال ہم میڈیا میں اور سینماؤں میں بھارتی فلموں اور اداکاراؤں کی نمائش میں مصروف ہیں اور ہمارے اشتہاروں میں بھارتی اداکارائیں جلوہ گر ہیں۔ پاکستانی قوم کی طرف سے مزاحمت اور ناپسندیدگی کی وجہ سے رفتہ رفتہ بھارت کے ساتھ دوستی اور پیار کی باتیں قدرے کم ہو گئی ہیں لیکن بھارت کا سرپرست امریکا اس سے خوش نہیں ہے چنانچہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ طالبان کی طرف سے مہینہ بھر کی خاموشی کے اعلان کے باوجود کوئی دن نہیں جاتا کہ وہ سب کچھ ہو جاتا ہے جو کسی قسم کی مبینہ جنگ بندی سے پہلے ہو رہا تھا۔ طالبان کی طرف سے خاموشی امن کی کوئی ضمانت نہیں ہے۔
ہم نے امن کے مذاکرات کے لیے چوکمیٹی بنا رکھی ہے وہ حکومتوں کی روایتی کمیٹی کی طرح ہے اور اس کے جواب میں جو طالبان کی جو کمیٹی ہے نہ جانے وہ کیا ہے اور اس کا کیا اختیار ہے۔ مسئلہ یہ نہیں کہ کیا جائز ہے اور کیا ناجائز، اسلام کس عمل کی اجازت دیتا ہے اور کس کی نہیں دیتا، ان تخریبی کارروائیوں کے پیچھے بھارت ہے اور بھارت کی دشمنی کمیٹیوں اور امن کی امیدوں سے ختم نہیں ہو سکتی۔ طالبان سے معاملہ کرنے میں ہماری حکومت سے بعض بنیادی غلطیاں ہو گئی ہیں مثلاً طالبان کو عملاً ایک ملک جیسے فریق کی حیثیت دینا اور بھی بہت کچھ، اب ہم کھل کر طالبان کو کوئی ایسی حیثیت دے رہے ہیں جس کی ان کو توقع ہی نہیں تھی۔ بہر کیف ہمیں ہر صورت حال کے لیے تیار رہنا چاہیے اور بے حد تعجب اور حیرت ہے کہ ہماری پولیس وغیرہ کہاں ہے اور کیا کر رہی ہے بلکہ یہ کہ پولیس ہے ہی کیوں؟