الیاس نے کرکٹ بورڈ کیخلاف قانونی جنگ چھیڑدی

بطور چیف سلیکٹر برطرفی کا فیصلہ لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج ،2 ہفتے میں جواب طلب

بطور چیف سلیکٹر برطرفی کا فیصلہ لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج ،2 ہفتے میں جواب طلب۔ فوٹو: فائل

برطرف شدہ چیف سلیکٹر محمد الیاس نے کرکٹ بورڈ کے خلاف قانونی جنگ چھیڑدی، انھوں نے فیصلے کولاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا ہے۔


عدالت عالیہ کے مسٹر جسٹس شاہد وحید نے پی سی بی سے2ہفتے میں جواب طلب کر لیا، سابق ٹیسٹ کرکٹر نے اپنے وکیل عرفان غزنوی کی وساطت سے ہائی کورٹ میں دائر درخواست میں موقف اختیار کیاکہ پی سی بی سروس قوانین کے مطابق کسی کنٹریکٹ ملازم کو عہدے کی میعاد ختم ہونے سے پہلے ہٹایا نہیں جا سکتا، اگر فارغ کیا جانا مقصود بھی ہو تو اسے پیشگی ایک ماہ کا نوٹس دینا ضروری ہوتا ہے، محمد الیاس کے معاملے میں ایسا نہیں کیا گیا۔

وکیل نے اپنے دلائل میں مزید کہا کہ محمد الیاس نے چیف سلیکٹر کے عہدے پر کام کرتے ہوئے آئی سی سی ورلڈ ٹوئنٹی20کے ابتدائی30 کھلاڑیوں کا انتخاب کیا، اسی کے ساتھ انڈر19 ورلڈکپ کیلیے بھی ٹیم تشکیل دی،اگر محمد الیاس کی تقرری غیر قانونی تھی تو میگا ایونٹس کیلیے تشکیل دی گئی دونوں ٹیموں پر بھی سوالیہ نشان موجود ہے۔ عدالت نے وکیل کے دلائل سے اتفاق کرتے ہوئے درخواست سماعت کیلیے منظور کرتے ہوئے پی سی بی سے2ہفتے میں جواب طلب کر لیا۔ یاد رہے کہ محمد الیاس کو ذکا اشرف کے دوسرے دور میں جونیئر ٹیم کا چیف سلیکٹر بنایا گیا تھا تاہم نجم سیٹھی نے دوبارہ چیئرمین بننے کے بعد سابق ٹیسٹ کرکٹر کو برطرف کر دیا۔
Load Next Story