ملک میں بادشاہت نہیں جو پسند ناپسند پر ترقیاں ملیں سپریم کورٹ

پاکستان انگریزکی کالونی نہیں،یہ آئینی دور ہے، سابق حکومت سے تعلق پر کسی کی ترقی نہیں روکی جاسکتی، وزارت خارجہ

سمجھ میں نہیں آتا کہ لاپتہ افراد افغانستان کیسے پہنچ گئے، جس شخص کا مقدمہ حل نہ کرنا ہو اس کے بارے میں کہہ دیا جاتا ہے وہ ہمسایہ ملک چلا گیا،جسٹس جواد۔ فوٹو: فائل

سپریم کورٹ کے جج جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا ہے کہ پاکستان انگریزکی کالونی یا بادشاہ نگری نہیں کہ سرکاری افسران کی ترقیاں پسند و ناپسندکی بنیاد پر ہوں۔


وزارت خارجہ کے سابق افسر سلیم نوازگنڈا پورکی درخواست پر ریمارکس میں ان کا کہنا تھا کہ یہ آئینی دور ہے، کسی افسرکی ترقی اس کے سابق حکومت سے تعلق کی بنا پر نہیں روکی جاسکتی نہ ہی یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس افسرکی مجھے شکل پسند نہیں اس لیے ترقی یا تعیناتی نہیں ملے گی۔ سابق ایڈیشنل سیکریٹری خارجہ سلیم نوازگنڈا پورنے2000 میں مشرف دورمیں ترقی سے محروم کرنے اوراسپین میں سفیر مقررکرنے کا نوٹیفکیشن روکنے کے امتیازی سلوک کیخلاف درخواست دائرکی تھی۔ انھوں نے کہا کہ اس وقت کے وزیر خارجہ عبدالستار نے بتایا تھا کہ چونکہ سابقہ نواز حکومت کے ساتھ ان کا قریبی تعلق رہا ہے اس لیے تعیناتی نہیں ہوسکی۔ ریکارڈ کے لیے وقت مانگنے پر عدالت نے ڈپٹی اٹارنی جنرل سے کہا اس کیس کو 8سال ہو گئے ہیں، آپ اب بھی وقت مانگ رہے ہیں، عدالت نے سماعت آج تک ملتوی کردی۔

دریں اثنا لاپتہ افراد کیس میں جسٹس جواد خواجہ نے ریمارکس دیے کہ سننے میں آ رہا ہے کہ اسلام آباد واقعے میں ملوث لوگ افغانستان سے آئے تھے، ایڈیشنل اٹارنی جنرل شاہ خاور نے کہا کنڑاورنورستان میں دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہیں ہیں، اکثر دہشتگردوں نے وہاںپناہ لے رکھی ہے۔ شاہ خاور نے کہا اخونزادہ کے بارے میں فاٹا سیکرٹریٹ کو خط لکھا تھا تاہم جواب نہیں آیا،جسٹس جواد نے برہمی کااظہارکرتے ہوئے کہا یہ سنجیدگی کی حد ہے کہ ابھی تک خط بازی ہو رہی ہے،24 فروری کو حکم دیا تھا، پانچ مارچ ہوگئی لیکن جواب نہیں ملا ، معاملے کو لٹکایا جارہا ہے، ہمیں یہ بات سمجھ نہیں آتی کہ لاپتہ افراد افغانستان کیسے پہنچ گئے،آن لائن کے مطابق جسٹس جواد نے ریمارکس دیے کہ حکومت نے جس لاپتہ شخص کا مقدمہ حل نہ کرنا ہو تو اس کے بارے میں کہہ دیا جاتاہے کہ وہ افغانستان میں ہے،کچہری واقعہ کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ حملہ آورافغانستان سے آئے،آپ کہہ رہے کہ آٹھ لاپتہ افراد افغانستان کنڑ چلے گئے، آخر یہ ہوکیا رہا ہے۔ ملاکنڈ حراستی مرکز کے35لاپتہ افرادسے متعلق کیس کی سماعت آج تک ملتوی کردی گئی۔
Load Next Story