ارکان قومی اسمبلی نے اقوام متحدہ کے وفد کی آمد کو سازش قرار دیدیا
یواین وفد ڈرونزمتاثرین کودیکھنے یا مقبوضہ کشمیرکیوںنہیںجاتا: اراکین، وفدکمیشن نہیں ورکنگ گروپ ہے،،وزیرخارجہ۔
یواین وفد ڈرونزمتاثرین کودیکھنے یا مقبوضہ کشمیرکیوںنہیںجاتا: اراکین، وفدکمیشن نہیں ورکنگ گروپ ہے، پاکستان کوفائدہ ہوگا،وزیرخارجہ, فوٹو: اے پی پی
قومی اسمبلی میں ارکان نے لاپتہ افرادکے بارے میںاقوام متحدہ کے ورکنگ گروپ کے دورے پر شدیدتشویش کا اظہارکیا ہے۔
جبکہ وزیر خارجہ نے وفدکے دورے کو ملکی مفاد میں قرار دیا۔ حناربانی کھر نے پالیسی بیان دیتے ہوئے کہاہے کہ پاکستان کے دورے پرآیا اقوام متحدہ کا وفد کمیشن نہیںبلکہ ورکنگ گروپ ہے جو حکومت کی دعوت پر آیا ہے، ورکنگ گروپ قواعد وضوابط میں رہتے ہوئے گائیڈ لائنز کے مطابق کام کررہا ہے ، گروپ حساس معاملے یا سیاسی امور کے حوالے سے کام نہیںکر رہا۔ وفدکے متعلق غلط تاثر پھیلایا جا رہا ہے، اس کی آمد پرتمام فریقین کو اعتماد میں لیا گیا تھا۔
وزیرخارجہ نے کہاکہ اقوام متحدہ کاگروپ خفیہ مشن پرہے نہ صرف لاپتہ افراد کے حوالے سے تحقیقات کررہا ہے بلکہ یہ پاکستان میں انسانی حقوق کی مجموعی صورتحال کا جائزہ لے رہا ہے تاکہ شفاف اور جامع رپورٹ تیار کی جا سکے، یہ گروپ تحقیقات کر سکے گا نہ نتائج اخذ کریگا بلکہ پاکستان کیساتھ اپنی رپورٹ پر تبادلہ خیال کریگا، رپورٹ سے پاکستان کوفائدہ ہوگا اور دنیا میں ہمارا تاثر بہتر ہوگا۔ دریں اثناء عطیہ عنایت اللہ نے نکتہ اعتراض پر کہا کہ وزیر خارجہ نے اہم معاملے پر بیان دیا ہے، اس پر بات کرنیکی اجازت دی جائے،اس پرپینل آف چیئرمین کے رکن ندیم افضل نے کہا کہ قواعدکے تحت بیان پرسوالات اٹھانے کی اجازت نہیں دی، نور عالم نے نکتہ اعتراض پر کہاکہ وزیر خارجہ نے بیان دیاکہ پاکستان نے اقوام متحدہ کے وفدکو دعوت دی۔
وہ بتائیں کیا بھارت بھی ایسے ہی وفدکومقبوضہ کشمیر جانیکی اجازت دے گا؟ اقوام متحدہ کا وفد ڈرون حملوں کے متاثرین کی صورتحال دیکھنے کیوںنہیںآتا۔ عثمان ایڈووکیٹ نے کہا کہ بلوچستان کی صورتحال کشمیر اور فاٹاسے زیادہ خراب ہے۔ ایازامیر نے کہا کہ صوبہ میںسکیورٹی کے نام پر ہر طرح کا ظلم ڈھایا جا رہا ہے، بلوچستان میں پاکستان کانام لینا مشکل ہوگیا اور صورتحال مشرقی پاکستان جیسی ہوگئی۔
ظفر بیٹنی نے کہا کہ اقوام متحدہ وفد کی آمد سازش کاحصہ ہے۔ آئی این پی کے مطابق وزیر مملکت صمصام بخاری کو ندیم افضل نے نکتہ اعتراض پر ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کا معاملہ اٹھانے سے روک دیا، ندیم افضل نے کہا کہ بطور وزیر آپ یہ معاملہ اسمبلی کے بجائے کابینہ میںاٹھائیں، اس پر صمصام بخاری نے کہا کہ مجھے حلقے کے عوام کے مسائل اجاگر کرنیکی اجازت نہیں تو پھر ایسی وزارت کی کوئی ضرورت نہیں۔ آن لائن کے مطابق اے این پی نے سندھ میں بلدیاتی آرڈیننس کیخلاف اجلاس کابائیکاٹ جاری رکھا ۔
جبکہ وزیر خارجہ نے وفدکے دورے کو ملکی مفاد میں قرار دیا۔ حناربانی کھر نے پالیسی بیان دیتے ہوئے کہاہے کہ پاکستان کے دورے پرآیا اقوام متحدہ کا وفد کمیشن نہیںبلکہ ورکنگ گروپ ہے جو حکومت کی دعوت پر آیا ہے، ورکنگ گروپ قواعد وضوابط میں رہتے ہوئے گائیڈ لائنز کے مطابق کام کررہا ہے ، گروپ حساس معاملے یا سیاسی امور کے حوالے سے کام نہیںکر رہا۔ وفدکے متعلق غلط تاثر پھیلایا جا رہا ہے، اس کی آمد پرتمام فریقین کو اعتماد میں لیا گیا تھا۔
وزیرخارجہ نے کہاکہ اقوام متحدہ کاگروپ خفیہ مشن پرہے نہ صرف لاپتہ افراد کے حوالے سے تحقیقات کررہا ہے بلکہ یہ پاکستان میں انسانی حقوق کی مجموعی صورتحال کا جائزہ لے رہا ہے تاکہ شفاف اور جامع رپورٹ تیار کی جا سکے، یہ گروپ تحقیقات کر سکے گا نہ نتائج اخذ کریگا بلکہ پاکستان کیساتھ اپنی رپورٹ پر تبادلہ خیال کریگا، رپورٹ سے پاکستان کوفائدہ ہوگا اور دنیا میں ہمارا تاثر بہتر ہوگا۔ دریں اثناء عطیہ عنایت اللہ نے نکتہ اعتراض پر کہا کہ وزیر خارجہ نے اہم معاملے پر بیان دیا ہے، اس پر بات کرنیکی اجازت دی جائے،اس پرپینل آف چیئرمین کے رکن ندیم افضل نے کہا کہ قواعدکے تحت بیان پرسوالات اٹھانے کی اجازت نہیں دی، نور عالم نے نکتہ اعتراض پر کہاکہ وزیر خارجہ نے بیان دیاکہ پاکستان نے اقوام متحدہ کے وفدکو دعوت دی۔
وہ بتائیں کیا بھارت بھی ایسے ہی وفدکومقبوضہ کشمیر جانیکی اجازت دے گا؟ اقوام متحدہ کا وفد ڈرون حملوں کے متاثرین کی صورتحال دیکھنے کیوںنہیںآتا۔ عثمان ایڈووکیٹ نے کہا کہ بلوچستان کی صورتحال کشمیر اور فاٹاسے زیادہ خراب ہے۔ ایازامیر نے کہا کہ صوبہ میںسکیورٹی کے نام پر ہر طرح کا ظلم ڈھایا جا رہا ہے، بلوچستان میں پاکستان کانام لینا مشکل ہوگیا اور صورتحال مشرقی پاکستان جیسی ہوگئی۔
ظفر بیٹنی نے کہا کہ اقوام متحدہ وفد کی آمد سازش کاحصہ ہے۔ آئی این پی کے مطابق وزیر مملکت صمصام بخاری کو ندیم افضل نے نکتہ اعتراض پر ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کا معاملہ اٹھانے سے روک دیا، ندیم افضل نے کہا کہ بطور وزیر آپ یہ معاملہ اسمبلی کے بجائے کابینہ میںاٹھائیں، اس پر صمصام بخاری نے کہا کہ مجھے حلقے کے عوام کے مسائل اجاگر کرنیکی اجازت نہیں تو پھر ایسی وزارت کی کوئی ضرورت نہیں۔ آن لائن کے مطابق اے این پی نے سندھ میں بلدیاتی آرڈیننس کیخلاف اجلاس کابائیکاٹ جاری رکھا ۔