مذہبی یاتراکیلیے بھارت جانیوالے 170 ہندوئوں کا واپسی سے انکار

پاکستان میںہندوئوںکوسماجی ومذہبی امتیازکانشانہ بنایاجارہاہے،چیتن رام،میڈیاسے گفتگو

پاکستان میںہندوئوںکوسماجی ومذہبی امتیازکانشانہ بنایاجارہاہے،چیتن رام،میڈیاسے گفتگو, فوٹو: اے ایف پی

KARACHI:
پاکستان سے زیارت کے ویزے پربھارت جانے والے170ہندوئوں کے گروپ نے کہاہے کہ وہ پاکستان میں مبینہ امتیازی سلوک کے باعث وطن واپس نہیں جائینگے۔


مغربی بھارتی ریاست راجستھان میں حکام نے ہندوپناہ گزینوں کی آمدمیں اضافے کے بارے میں اطلاعات دی ہیں لیکن پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ اس تعدادکوبڑھاچڑھاکرپیش کیا جارہاہے اورجولوگ گئے ہیں وہ بہتر روزگار کے خواہاں ہیں،سندھ سے ہندوئوں کاایک گروپ جودھ پورپہنچاہے اوراس نے بھارتی حکومت سے مددکی اپیل کی ہے،گروپ کے لیڈرچیتن رام نے غیرملکی میڈیاکوبتایاکہ پاکستان میں ہندوئوں کوسماجی اورمذہبی امتیاز کانشانہ بنایا جارہا ہے،میری اہلیہ،والدہ اور خاندان میرے ساتھ ہیں اورہم بھارت میں جیسی بھی حالت ہوواپس پاکستان نہیں جائیں گے۔راجستھان کے وزیراعلیٰ اشوک گہلوٹ نے گروپ کے بعض افرادسے ملاقات کی اور مرکزی حکام سے معاونت حاصل کرنے کاوعدہ کیا۔

27 سالہ دھرمانے جو صرف ایک نام استعمال کرتا ہے کہا کہ میں مزدورکے طور پر کام کرتا ہوں لیکن اپنے خاندان کو نہیں کھلا سکتاکیونکہ آجرباقاعدگی سے ہمیں ادائیگی نہیںکرتاہم کافی خوراک سے بھی محروم ہیں۔دھرمانے کہا کہ وہ اپنے خاندان کے مزید23لوگوں کے ساتھ ٹرین کے ذریعے پاکستان سے آیاہے،پاکستان چھوڑناایک تکلیف دہ فیصلہ تھاکیونکہ میری بہن ہمارے ساتھ نہیں آسکی،اس کی وہاں شادی ہوچکی ہے لیکن ہم واپس نہیں جائیں گے،گزشتہ سال بہت سے ہندوئوں کے اغوا،قتل اورزبردستی اسلام قبول کرنے کے واقعات کے بعدوہ ملک چھوڑچکے ہیں۔
Load Next Story