امریکی ڈالر 104روپے سے بھی نیچے آگیا

ڈالرکے انٹربینک ریٹ85پیسے گھٹ کر7ماہ کی نچلی سطح103.6 اوراوپن مارکیٹ1روپے کمی سے103.7روپے پر آ گئے

2روز میں روپے کی قدر میں1.89فیصداضافہ، ڈالرکی تنزلی سے سٹے بازپریشان، خریدار غائب اور فروخت کاحجم200 فیصد بڑھ گیا، قیمت مزید گرے گی، ملک بوستان فوٹو: فائل

لاہور:
زرمبادلہ کی دونوں مارکیٹس میں امریکی ڈالر کی بے قدری جمعرات کو بھی جاری رہی اور انٹربینک میں ڈالر 85 پیسے جبکہ اوپن مارکیٹ میں مزید 1روپے گرگیا۔


یاد رہے کہ 2 روز کے دوران انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر کے مقابل روپے کی قدر میں 1.14 فیصد اضافہ ہوا اور ڈالر 1 روپے 20 پیسے گرکر 7ماہ کی کم ترین سطح 103روپے 60 پیسے کا ہوگیا جبکہ اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قدر 2 روز میں 2 روپے گری یعنی روپے کی قدر میں 1.89 فیصد اضافہ ہوا اور ڈالر 103روپے 70 پیسے کا ہوگیا۔ ایکس چینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے چیئرمین ملک بوستان نے ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ انٹربینک اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی تیز رفتار تنزلی نے سٹے بازوں میں کھلبلی پیدا کردی ہے جس کی وجہ سے دونوں مارکیٹس میں امریکی ڈالر کی فروخت کا حجم200 فیصد بڑھ گیا ہے جبکہ خریدار مارکیٹ سے غائب ہوگئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پہلے ڈالر کی سپلائی کم تھی اور خریداروں کی تعداد زیادہ تھی لیکن گزشتہ 2 روز کے دوران صورتحال یکسرتبدیل ہوگئی ہے، لوگ ڈالر خریدنے کے بجائے فروخت کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں اسی وجہ سے قیمت کے ساتھ امریکی کرنسی کی قلت بھی ختم ہوگئی ہے جس کے باعث ایکس چینج کمپنیوں نے جمعرات کو اپنے پاس موجود 1کروڑ ڈالر کے سرپلس ذخائر بھی انٹربینک میں فروخت کیے۔

اس طرح سے امریکی ڈالر کی فراوانی کے باعث آئندہ دنوں میں امریکی ڈالر کی قدر مزید گھٹ کر102 روپے کی سطح پر آجائے گی۔ ملک بوستان نے بتایا کہ وفاقی وزیرخزانہ اسحاق ڈالر اور گورنراسٹیٹ بینک کی نئی حکمت عملی نے ڈالر کے سٹے بازوں کو مایوس کردیا ہے حالانکہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے تاحال اپنے مانیٹری ٹولز کو استعمال نہیں کیا گیا ہے، وزیرخزانہ نے ان برآمدکنندگان کو بھی متنبہ کیا ہے جنہوں نے اپنی برآمدی آمدنی 4 ماہ گزرنے کے باوجود تاحال ملک میں منتقل نہیں کی تاہم اسٹیٹ بینک کے متعلقہ حکام ایسے برآمدکنندگان کی جانچ پڑتال کررہے ہیں جن کے خلاف کسی بھی وقت تادیبی کارروائی متوقع ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اگر صرف برآمدی شعبہ نے بیرونی ممالک سے اپنی ایکسپورٹ پروسیڈز ملک میں منتقل کر دیں تو ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں فوری طور پر2 ارب ڈالر کا اضافہ ہوسکتا ہے۔ ملک بوستان نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ممکنہ نقصانات سے بچنے کے لیے امریکی ڈالر کی بلاضرورت خریداری سے گریز کریں کیونکہ وزارت خزانہ کی ہدایت پر ایکس چینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان نے امریکی ڈالر کی قدر کو100 روپے تک نیچے لانے کا ہدف مقررکیا ہوا ہے۔
Load Next Story