جب خود کو ٹیم پر بوجھ سمجھا کرکٹ چھوڑ دوں گا آفریدی
ہر میچ میں رنز نہیں بنائے جا سکتے، خود ہی اپنا کوچ ہوں،عمدہ کھیل خوش آئند ہے، آفریدی
ہر میچ میں رنز نہیں بنائے جا سکتے، خود ہی اپنا کوچ ہوں،عمدہ کھیل خوش آئند ہے، آفریدی۔ فوٹو: فائل
آل رائونڈر شاہد آفریدی کا کہنا ہے کہ جس دن سمجھا ٹیم پر بوجھ ہوں کرکٹ چھوڑ دوں گا، کسی کو باتیں بنانے کا موقع نہیں دوں گا، ہر میچ میں رنز نہیں بنائے جا سکتے، بیٹنگ ہو یا بولنگ اپنی پرفارمنس کے ذریعے فتوحات کا راستہ بنانا چاہتا ہوں، دیکھنا ہوگا کہ میرے چھکے کتنی دیر تک بھارتی ٹیم کے اعصاب پر سوار رہتے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق بھارت اور بنگلہ دیش کے جبڑوں سے فتح چھین کر پاکستان کو ایشیا کپ کے فائنل تک رسائی دلانے والے شاہد آفریدی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جس دن سمجھا ٹیم پر بوجھ ہوں کرکٹ چھوڑ دوں گا،کسی کو باتیں بنانے کا موقع نہیں دوں گا،جب تک فٹ اور کچھ کردکھانے کے قابل ہوں کھیلتے رہنا چاہتا ہوں،انھوں نے کہا کہ اپنی پرفارمنس سے ملک کیلیے کچھ کرنے کی خواہش ہے، ضروری نہیں کہ کوئی ہر میچ میں رنز کرسکے، بولنگ پر بھی پوری توجہ دی ہے،بیٹنگ ہو یا بولنگ اپنی کارکردگی سے ٹیم کیلیے اہم کردارادا کرنے کی خواہش ہوتی ہے۔ بھارت اور بنگلہ دیش کے خلاف اننگز میں سے کون سی زیادہ بہتر تھی اس سوال پر انھوں نے کہا کہ دونوں ہی ذاتی طور پر میرے اور ملک کیلیے اہم تھیں۔ آفریدی نے ایک بار پھر اپنا موقف دہرایا کہ طویل عرصہ انٹرنیشنل کرکٹ کھیلنے کے بعد مجھے کوچ کی ضروت نہیں، میں خود ہی اپنا کوچ ہوں،اچھی طرح جانتا ہوں کہ مجھے کیا کرنا ہے اور کیا نہیں،بس کھلاڑی کا حوصلہ بڑھانے اور سپورٹ کرنے والوں کی ضرورت ہوتی ہے، کوچنگ اسٹاف پہلے مختلف تھا،اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ اچھا نہیں تھا لیکن موجودہ لوگ زیادہ معلومات اور کھلاڑیوں کا رویہ مثبت رکھتے ہیں۔
آفریدی کو یاد دلایا گیا کہ شارجہ میں 1986 میں لگائے گئے چھکے نے پاکستان کو فتح دلائی لیکن بعد ازاں کے مقابلوں میں بھارتی ٹیم حاوی رہی، آل رائونڈر کا جواب تھاکہ بلو شرٹس پر منحصر ہے کہ ان چھکوں کا کیا اثر لیتے ہیں۔کسی بھی میگا آئی سی سی ایونٹ میں بھارت کے خلاف فتح کا قحط ورلڈ ٹوئنٹی20 میں ختم کرنے کے امکانات کا پوچھا گیا تو انھوں نے کہا کہ فی الحال میری اور ٹیم کی پوری توجہ ایشیا کپ کے فائنل پر مرکوز ہے، اگلا ایونٹ شروع ہوگا تو اس کے مقابلوں اور بھارت سے میچ پر بات کرینگے۔ انھوں نے کہا کہ ورلڈ ٹوئنٹی20 سے قبل ایشیا کپ میں ٹیم کی عمدہ کارکردگی میں بہتری بڑی خوش آئند ہے، گرین شرٹس ضروت کے مطابق بروقت درست ٹریک پر آگئے، شاہد آفریدی نے کہا کہ ورلڈ کپ 2015میرے اور ٹیم کیلیے ایک بہت بڑا موقع ہے، میگا ایونٹ کی تیاریوں کیلیے کافی وقت باقی ہے، آئندہ کئی سیریز میسر آئیں گی، مینجمنٹ کا تعاون بھی حاصل ہے، اگر ہم بہتری کی جانب گامزن رہتے ہوئے درست کمبی نیشن بنانے میں کامیاب ہوگئے تو آسٹریلیا میں دوسری بار عالمی ٹائٹل اپنے نام کرسکتے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق بھارت اور بنگلہ دیش کے جبڑوں سے فتح چھین کر پاکستان کو ایشیا کپ کے فائنل تک رسائی دلانے والے شاہد آفریدی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جس دن سمجھا ٹیم پر بوجھ ہوں کرکٹ چھوڑ دوں گا،کسی کو باتیں بنانے کا موقع نہیں دوں گا،جب تک فٹ اور کچھ کردکھانے کے قابل ہوں کھیلتے رہنا چاہتا ہوں،انھوں نے کہا کہ اپنی پرفارمنس سے ملک کیلیے کچھ کرنے کی خواہش ہے، ضروری نہیں کہ کوئی ہر میچ میں رنز کرسکے، بولنگ پر بھی پوری توجہ دی ہے،بیٹنگ ہو یا بولنگ اپنی کارکردگی سے ٹیم کیلیے اہم کردارادا کرنے کی خواہش ہوتی ہے۔ بھارت اور بنگلہ دیش کے خلاف اننگز میں سے کون سی زیادہ بہتر تھی اس سوال پر انھوں نے کہا کہ دونوں ہی ذاتی طور پر میرے اور ملک کیلیے اہم تھیں۔ آفریدی نے ایک بار پھر اپنا موقف دہرایا کہ طویل عرصہ انٹرنیشنل کرکٹ کھیلنے کے بعد مجھے کوچ کی ضروت نہیں، میں خود ہی اپنا کوچ ہوں،اچھی طرح جانتا ہوں کہ مجھے کیا کرنا ہے اور کیا نہیں،بس کھلاڑی کا حوصلہ بڑھانے اور سپورٹ کرنے والوں کی ضرورت ہوتی ہے، کوچنگ اسٹاف پہلے مختلف تھا،اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ اچھا نہیں تھا لیکن موجودہ لوگ زیادہ معلومات اور کھلاڑیوں کا رویہ مثبت رکھتے ہیں۔
آفریدی کو یاد دلایا گیا کہ شارجہ میں 1986 میں لگائے گئے چھکے نے پاکستان کو فتح دلائی لیکن بعد ازاں کے مقابلوں میں بھارتی ٹیم حاوی رہی، آل رائونڈر کا جواب تھاکہ بلو شرٹس پر منحصر ہے کہ ان چھکوں کا کیا اثر لیتے ہیں۔کسی بھی میگا آئی سی سی ایونٹ میں بھارت کے خلاف فتح کا قحط ورلڈ ٹوئنٹی20 میں ختم کرنے کے امکانات کا پوچھا گیا تو انھوں نے کہا کہ فی الحال میری اور ٹیم کی پوری توجہ ایشیا کپ کے فائنل پر مرکوز ہے، اگلا ایونٹ شروع ہوگا تو اس کے مقابلوں اور بھارت سے میچ پر بات کرینگے۔ انھوں نے کہا کہ ورلڈ ٹوئنٹی20 سے قبل ایشیا کپ میں ٹیم کی عمدہ کارکردگی میں بہتری بڑی خوش آئند ہے، گرین شرٹس ضروت کے مطابق بروقت درست ٹریک پر آگئے، شاہد آفریدی نے کہا کہ ورلڈ کپ 2015میرے اور ٹیم کیلیے ایک بہت بڑا موقع ہے، میگا ایونٹ کی تیاریوں کیلیے کافی وقت باقی ہے، آئندہ کئی سیریز میسر آئیں گی، مینجمنٹ کا تعاون بھی حاصل ہے، اگر ہم بہتری کی جانب گامزن رہتے ہوئے درست کمبی نیشن بنانے میں کامیاب ہوگئے تو آسٹریلیا میں دوسری بار عالمی ٹائٹل اپنے نام کرسکتے ہیں۔