رینجرز نے 6 ماہ میں 1887 جرائم پیشہ حراست میں لے لیے

6جوان شہید اور31 شدید زخمی،ٹارگٹڈ آپریشن اور مقابلوں میں 78ملزم ہلاک

شہر بھر سے 12دہشت گرد،126ٹارگٹ کلر، 18 اغوا کار اور181بھتہ خور پکڑے گئے۔ فوٹو: فائل

رینجرز نے6 ماہ سے جاری ٹارگٹڈ آپریشن کے دوران مختلف کارروائیوں،چھاپوں اور اسنیپ چیکنگ میں ایک ہزار887 ملزم حراست میں لیکر ان کے قبضے سے 3 ہزار مختلف اقسام کے خطرناک ہتھیار برآمد کیے ہیں۔


رینجرز کے ساتھ مقابلوں میں 78ملزم مارے گئے جبکہ 6 رینجرز اہلکار شہید ہوگئے، تفصیلات کے مطابق 5 ستمبر2013 سے جرائم پیشہ افراد کے خلاف شروع کیے جانے والے ٹارگٹڈ آپریشن کے دوران رینجرز سندھ نے5 مارچ 2014 تک شہر کے مختلف علاقوں میںایک ہزار839 ٹارگٹڈ کارروائیوں اور چھاپوں کے نتیجے میں ایک ہزار887 ملزمان کو حراست میں لیا جن میں 12دہشت گرد،126ٹارگٹ کلر،18اغوا کار اور 181 بھتہ خور شامل ہیں، ترجمان رینجرز کے مطابق اس عرصے میں حراست میں لیے جانے والے ملزمان کے قبضے سے3 ہزار236 مختلف اقسام کے ہتھیار برآمد ہوئے جس میں آرپی جی 7 ، یونی بیرل راکٹ لانچر، دستی بم، ایل ایم جی، ایس ایم جی، رائفلز، شاٹ گن، پش پشا، اسنائپر رائفل، پستول، دھماکا خیز مواد ، آئی ای ڈیز، ڈیٹونیٹر، مختلف بور کی گولیاں، بلٹ پروف جیکٹیں اور منشیات شامل ہے۔

جرائم پیشہ افراد کے ساتھ رینجرز کے52 مقابلے ہوئے جس میں78 ملزمان مارے گئے اور52 ملزمان کو حراست میں لیا گیا،ملزمان کے قبضے سے18مغویوں کو بازیاب کرایا گیا اس عرصے میں ملزمان کے حملوں میں 6رینجرز اہلکار شہید اور 31 زخمی ہوئے ہیں، ایک ہزار118ملزمان کے چالان عدالتوںمیں پیش کیے گئے جن کے مقدمات عدالتوں میں زیر سماعت ہیں، گزشتہ ماہ224 ٹارگٹڈ کارروائیوں میں رینجرز نے323 ملزمان کوحراست میں لیا اور ان کے قبضے سے 673 مختلف قسم کے ہتھیار برآمد کیے گیے اس دوران رینجرز کے ساتھ ہونے والے مقابلوں میں 16ملزمان مارے گئے۔
Load Next Story