پی پی متحدہ ڈیڈلاک ختم پارٹی رہنما آج ملاقات کریں گے
سیاسی صورت حال، کراچی میں امن و امان، بلدیاتی مسائل سمیت دیگر ایشوز پر بات ہوگی
رحمن ملک کا اہم کردار، دوسرے مرحلے میں بلدیاتی نظام، حکومت میں شمولیت پر غور ہوگا۔ فوٹو: ایکسپریس/فائل
پیپلزپارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ کی اعلیٰ قیادت میں پس پردہ رابطوں کے بعد دونوں جماعتوں کے درمیان تعلقات میں اہم پیش رفت ہوئی ہے اور دونوں جماعتوں کی اعلیٰ قیادت کے گرین سگنل کے بعد پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم کے رہنماؤں کے درمیان کئی ماہ بعد پہلی باضابطہ ملاقات آج (جمعے کو) وزیر اعلیٰ ہاؤس میں ہوگی۔
باخبر ذرائع کے مطابق ملاقات میں پیپلزپارٹی کی جانب سے ڈاکٹر سکندر میندھرو، شرجیل میمن اور راشد ربانی جبکہ ایم کیو ایم کی جانب سے ڈاکٹر صغیر احمد، سردار احمد اور کنور نوید جمیل شامل ہوں گے۔ ملاقات میں سیاسی صورت حال،کراچی میں امن و امان، بلدیاتی مسائل سمیت دیگر ایشوز پر بات کی جائے گی۔ ایم کیو ایم کا وفد پیپلزپارٹی کوکراچی میں جاری ٹارگٹڈ آپریشن کے دوران کارکنان کی گرفتاری، ماورائے عدالت قتل کے واقعات اور دیگر تحفظات کے حوالے سے آگاہ کرے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ ابتدائی مرحلے کی ملاقات ہے،اس موقع پر دونوں جماعتوں کے رہنما آئندہ کے روابط کے حوالے سے حکمت عملی مرتب کریں گے۔
دوسرے مرحلے کی ملاقات گورنر ہاؤس میں ہوگی جہاں گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباداور وزیر اعلیٰ سندھ قائم علی شاہ کی موجودگی میں پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم کے رہنمائوں کے مابین اہم امور پر باضابطہ بات چیت کی جائے گی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پس پردہ رابطوں میں دونوں جماعتوں میں اس بات پر اتفاق ہواکہ تمام ایشوز کو بات چیت کے ذریعے طے کیا جائے گا، دونوں جماعتوں کے درمیان موجود ڈیڈ لاک ختم کرانے میں سابق وفاقی وزیر داخلہ رحمن ملک نے اہم کردار ادا کیا، ذرائع کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم اور پیپلزپارٹی کی جمعے کے بعد ہونے والی ملاقات میں سندھ میں بلدیاتی نظام کے حوالے سے بات چیت کی جائے گی جبکہ آئندہ ملاقات میں ایم کیو ایم کی سندھ حکومت میں شمولیت کے حوالے سے بھی گفتگو ہوگی۔
باخبر ذرائع کے مطابق ملاقات میں پیپلزپارٹی کی جانب سے ڈاکٹر سکندر میندھرو، شرجیل میمن اور راشد ربانی جبکہ ایم کیو ایم کی جانب سے ڈاکٹر صغیر احمد، سردار احمد اور کنور نوید جمیل شامل ہوں گے۔ ملاقات میں سیاسی صورت حال،کراچی میں امن و امان، بلدیاتی مسائل سمیت دیگر ایشوز پر بات کی جائے گی۔ ایم کیو ایم کا وفد پیپلزپارٹی کوکراچی میں جاری ٹارگٹڈ آپریشن کے دوران کارکنان کی گرفتاری، ماورائے عدالت قتل کے واقعات اور دیگر تحفظات کے حوالے سے آگاہ کرے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ ابتدائی مرحلے کی ملاقات ہے،اس موقع پر دونوں جماعتوں کے رہنما آئندہ کے روابط کے حوالے سے حکمت عملی مرتب کریں گے۔
دوسرے مرحلے کی ملاقات گورنر ہاؤس میں ہوگی جہاں گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباداور وزیر اعلیٰ سندھ قائم علی شاہ کی موجودگی میں پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم کے رہنمائوں کے مابین اہم امور پر باضابطہ بات چیت کی جائے گی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پس پردہ رابطوں میں دونوں جماعتوں میں اس بات پر اتفاق ہواکہ تمام ایشوز کو بات چیت کے ذریعے طے کیا جائے گا، دونوں جماعتوں کے درمیان موجود ڈیڈ لاک ختم کرانے میں سابق وفاقی وزیر داخلہ رحمن ملک نے اہم کردار ادا کیا، ذرائع کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم اور پیپلزپارٹی کی جمعے کے بعد ہونے والی ملاقات میں سندھ میں بلدیاتی نظام کے حوالے سے بات چیت کی جائے گی جبکہ آئندہ ملاقات میں ایم کیو ایم کی سندھ حکومت میں شمولیت کے حوالے سے بھی گفتگو ہوگی۔