سینیٹ اپوزیشن کا کچہری حملہ رپورٹ اور سلامتی پالیسی پیش نہ کرنے پر احتجاج

فوج کو مذاکرات میں شامل کرنیکی مخالفت، چیئرمین نے مزار قائد کے احاطے میں غیراخلاقی سرگرمیوں پر رپورٹ طلب کرلی

بچے بھوک سے مرگئے، حکمران جشن منارہے ہیں، کامل آغا، وفاقی عدالت تنسیخ اورجوڈیشل پالیسی بل کمیٹی کے سپرد۔ فوٹو: فائل

سینیٹ میں اپوزیشن نے قومی سلامتی پالیسی کا مسودہ اوراسلام آبادکچہری حملہ کی رپورٹ پیش نہ کرنے پرشدیداحتجاج کیا۔

قائدایوان راجا ظفرالحق نے قومی سلامتی پالیسی رواں سینیٹ سیشن میںہی پیش کرنے کی یقین دہانی کرادی۔جمعرات کوچیئرمین سینیٹ نیئرحسین بخاری کی زیرصدارت اجلاس میںنکتہ اعتراض پراظہارخیال کرتے ہوئے رضا ربانی نے کہا کہ 3اور4مارچ کی سینیٹ کارروائی میں چیئرمین سینیٹ نے حکومت کوہدایت کی تھی کہ سینیٹ میں حکومت اپنی قومی سلامتی پالیسی دستاویزپیش کرے ،قواعدکے مطابق چیئرمین کی ہدایت پرعمل نہ کرنا ایوان کی توہین ہے ۔جس پرقائدایوان ظفرالحق نے کہا کہ یہ طے نہیں ہوا تھا کہ کس تاریخ کوپالیسی پیش کی جائے گی۔جس پرچیئرمین نے کہا کہ قائدایوان خودبتا دیں کہ کب قومی سلامتی پالیسی ایوان میں پیش کرینگے۔جس پرراجا ظفرالحق نے ایوان کویقین دلایا کہ سینیٹ کے رواں سیشن میںہی قومی سلامتی پالیسی ایوان میں پیش کردی جائے گی۔بابرغوری نے کہا کہ حکومت نے آج سینیٹ میں اسلام آباددہشتگردی واقعے کی رپورٹ پیش کرنا تھی اس حوالے سے جواب دیاجائے کہ کب تک دہشت گردلوگوں کومارتے رہیںگے اورحکومت مذاکرات کرتی رہے گی۔


ایم کیوایم اوراے این پی کے ارکان کی جانب سے طالبان کے ساتھ مذاکرات کی مخالفت پر راجا ظفرالحق نے کہاکہ 3 آل پارٹیز کانفرنسوں میںان جماعتوں نے اپنے دستخطوں سے قراردادوں پرلکھ کردیا کہ طالبان سے مذاکرات کیے جائیں جب مذاکرات کی بات کی جاتی ہے تواس کی یہ جماعتیں مخالفت میں پیش پیش ہوجاتی ہیں اس پرحاجی عدیل،زاہدخان،بابرغوری اورطاہرمشہدی نے ایک ساتھ بولتے ہوئے کہا ہے ہم نے کہا تھا کے مذاکرات ان کے ساتھ ہوںگے جوآئین کے مانتے ہوئے مذاکرات کریںگے۔ رضا ربانی نے بھی مذاکرات کے عمل میںفوج کوشامل کرنے پرشدیدنکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ پارلیمنٹ کوسائیڈ لائن نہ کیاجائے۔کامل علی آغا نے نکتہ اعتراض پربولنے کی اجازت نہ ملنے پرشدیداحتجاج کیا اورکہا کہ حکومتیں یوتھ فیسٹول منا رہی ہیں تھرمیں40 بچے بھوک سے مرگئے ایوان کوچاہیے کے حکومت کی توجہ اس جانب مبذول کرائے، انھوں نے کہا کہ لاہورمیں ایک ماںکے ہاتھوں بھوک کی وجہ سے 2 بچوں کو مارنے کا واقعہ ہوا مگرخادم اعلیٰ جشن منا رہے ہیں۔

مشاہدحسین نے کہا کہ حکومت کے کسی رکن نے اسلام آبادواقعے میں شہدا کے گھرجا کر اظہار تعزیت تک نہیں کی اورنہ متاثرہ خاندانوںکوامداددی گئی ۔دریں اثنا چیئرمین نے پیپلز پارٹی کے چیف وہیپ اسلام الدین شیخ کی رہائش گاہ پرحملے کی تحقیقات کا حکم دیدیا۔اعتزازاحسن نے کہا کہ یہ تشویش ناک بات ہے،ظفرالحق نے ایوان کویقین دلایا کہ وہ اس معاملے کو وزارت داخلہ حکام کیساتھ اٹھائیں گے،جعفراقبال نے کہا کے کراچی میں مزارقائدپرفحاشی کی خبریں شائع ہوئی ہیں سرونٹ کوارٹرکوکرائے پردیاجا رہا ہے ۔مزارقائدپرہونے والے واقعات کا سندھ حکومت نے نوٹس نہیں لیا۔ اپوزیشن نے کہا کہ مزار قائد وفاقی حکومت کے کنٹرول میں ہے ۔این این آئی کے مطابق چیئرمین نے وفاقی حکومت کو مزار قائدپرفحاشی کے اڈے کے بارے میں خبروں پر حکومت سندھ سے رابطہ کرکے رپورٹ ایوان میں پیش کرنیکی ہدایت کردی۔ ایوان کی کارروائی آج صبح 10 بجے تک ملتوی کردی۔
Load Next Story