تشدد اور جدید طریقے

کچہری پر حملے کے واقعے نے دنیا کو ایک دفعہ پھر دہشت زدہ کر دیا، یوں اسلام آباد کی سیکیورٹی کا معاملہ گھمبیر ہو گیا

tauceeph@gmail.com

اسلام آباد میں کچہری پر حملے کے واقعے نے دنیا کو ایک دفعہ پھر دہشت زدہ کر دیا، یوں اسلام آباد کی سیکیورٹی کا معاملہ گھمبیر ہو گیا۔ اگرچہ تحریکِ طالبان پاکستان نے ضلع کچہری میں ہونے والے اس حملے کی ذمے داری قبول کرنے سے انکار کر دیا مگر تحریک کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اسلام آباد واقعے میں ہمارا کوئی گروپ ملوث ہوا تو باز پرس کریں گے۔ وزیر داخلہ چوہدری نثار کا کہنا ہے کہ اعلانِ لاتعلقی کافی نہیں، طالبان خود اسلام آباد واقعے میں ملوث گروپ کو بے نقاب کریں۔ ادھر بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں کا اصل نشانہ ایڈیشنل سیشن جج رفاقت اعوان تھے۔ انھوں نے لال مسجد کیس میں سابق صدر پرویز مشرف کی ضمانت منظور کی تھی اور مقدمے کے اندراج کی درخواست مسترد کر دی تھی۔ یہ بھی الزام لگایا گیا ہے کہ انٹیلی جنس رپورٹوں کے باوجود اسلام آباد پولیس کچہری کی سیکیورٹی کے لیے خاطر خواہ انتظام نہیں کر سکی۔ پاکستان کی تاریخ میں ضلعی عدالت پر حملے میں ایک جج سمیت 11 وکلاء کی شہادت ایک انتہائی خوفناک واقعہ ہے۔ یہ واردات ایسے وقت ہوئی ہے جب حکومت نے شمالی وزیرستان میں ہوائی حملے بند کر دیے تھے اور طالبان کی جنگ بندی کی پیشکش کو قبول کرتے ہوئے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔

اگرچہ تحریکِ طالبان نے اس دہشت گردی کی ذمے داری قبول نہیں کی مگر احرار الہند نامی تنظیم کی طرف سے ذمے داری قبول کرنے سے یہ تاثر حقیقت بن گیا ہے کہ مختلف نام سے بہت سے گروہ ان واقعات میں ملوث ہیں۔کچھ ماہرین ان گروپوں کی تعداد 100 کے قریب بتاتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ چھوٹے سے چھوٹا گروپ 10 سے 15 افراد پر مشتمل ہے اور زیادہ سے زیادہ 500 افراد تک ایک گروپ میں شامل ہیں۔ یہی کہا جاتا ہے کہ بڑے شہروں میں اعلیٰ تعلیم یافتہ انتہا پسند منظم ہیں۔ ان شہری گوریلا گروپوں کے بارے میں پولیس اور انٹیلی جنس ایجنسیاں نہیں جانتیں۔ پولیس اور قانون نافذ کرنے والی ایجنسیاں مسلسل کوششوں کے بعد جب ایک گروہ کا خاتمہ کرتی ہیں تو دوسرے گروپ متحرک ہو جاتے ہیں۔ ایک تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق حملہ آور شمالی وزیرستان سے آئے تھے مگر اسلام آباد میں مقامی افراد کی مدد کے بغیر اتنی منظم کارروائی ممکن نہیں۔ چند سال قبل میرٹ ہوٹل پر دہشت گردی کے حملے کے بعد سابق وزیر داخلہ رحمن ملک نے اسلام آباد کو سیل کرنے کا فیصلہ کیا تھا، اسلام آباد کو سیل کرنے کے لیے اسلام آباد میں داخل ہونے والے راستوں کی نگرانی سخت کر دی گئی تھی اور اسلحہ بارود کا پتہ چلانے کے لیے چین سے درآمد کردہ آلات نصب کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ رحمن ملک کے اس اعلان پر کسی حد تک عمل درآمد ہوا، یوں اسلام آباد بہت عرصے تک دہشت گردی کی وارداتوں سے محفوظ رہا مگر پھر حفاظتی اقدامات کمزور ہوتے چلے گئے۔

متعدد صحافیوں نے اسلام آباد آنے اور جانے کے راستوں پر سفر کے بعد اس تشویش کا اظہار کیا تھا کہ حفاظتی اقدامات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ پولیس اور قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کے اہلکار کاہلی اور سستی کا شکار ہیں ۔ صحافیوں کو خدشہ تھا کہ اسلام آباد میں کسی بھی وقت کوئی خوفناک دہشت گردی ہو سکتی ہے۔ گزشتہ برس سکندر نامی شخص نے اسلام آباد کے سیکیورٹی نظام کو جس طرح دھوکا دیا تھا اس سے ثابت ہو گیا تھا کہ کوئی بھی مسلح گروہ اپنے مذموم مقاصد پورا کر سکتا ہے۔ گزشتہ ہفتے ہونے والی اس واردات سے ان خدشات کی تصدیق ہو گئی۔ دار الحکومت اسلام آباد ایک منظم طریقے سے آباد ہونے والا شہر ہے۔ اس کے تمام راستے واضح ہیں۔ کچھ راستے کچی آبادیوں سے متصل ہیں۔ ان ہی راستوں سے اسلحہ و بارود شہر میں داخل ہوتا ہے۔ عام خیال ہے کہ قبائلی علاقوں شمالی وزیرستان کے راستے حملہ آور پہلے خیبر پختون خوا کے پھر پنجاب کے راستے اسلام آباد تک پہنچتے ہیں۔ وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ 26 خفیہ ایجنسیاں سیکیورٹی کے معاملات کی نگرانی کرتی ہیں، یوں ان ایجنسیوں کا نیٹ ورک ہر صورت میں افغانستان تک پھیلا ہو گا۔ اس صورتحال میں قبائلی علاقوں سے منتقل ہونے والے دہشت گردوں اور گولہ بارود کی نقل و حمل کے بارے میں ان بہت ساری خفیہ ایجنسیوں میں سے کسی ایک کو تو ضرور علم ہونا چاہیے تھا۔ اگر یہ خفیہ ایجنسیاں اس طرح کی وارداتوں کے بارے میں پیشگی اطلاع نہ دے سکیں تو پھر ان کی ضرورت نہیں رہتی۔ بعض اخبارات میں یہ خبریں شایع ہوئی ہیں کہ اسلام آباد پولیس کی اسپیشل برانچ نے ضلع کچہری میں خفیہ کیمروں کے کام نہ کرنے اور دہشت گردی کے ممکنہ امکانات کا خطرہ ظاہر کیا تھا مگر پولیس اپنے ہی محکمے کی ایسی اطلاع پر کوئی سنجیدہ کارروائی نہیں کر سکی۔ یہ صورتحال اور زیادہ خطرناک ہے۔


یہ محسوس ہوتا ہے کہ اب بھی پولیس اور قانون نافذ کرنے والی ایجنسیاں دہشت گردی کے خطرے کو حقیقی طور پر قبول کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ اس صورتحال کی براہِ راست ذمے داری سیاسی قیادت پر عائد ہوتی ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ پولیس فورس مسلسل انتہا پسندوں کی دہشت گردی کی زد میں ہے مگر سستی اور کاہلی کے کلچر اور میرٹ پر افسروں کی تقرری اور شفافیت کے اصولوں کو نظرانداز کرنے کی بناء پر پولیس فورس میں مطلوبہ مقاصد کے حصول کے لیے جو صلاحیت ہونی چاہیے وہ نہیں ہے۔

مسلم لیگی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی کے دور میں ملازمتوں اور ترقیوں میں شفافیت کا معیار پامال کیا گیا اور میرٹ کو نظر اندز کرتے ہوئے فیصلے کیے گئے۔ اس بناء پر پولیس کی کارکردگی متاثر ہوئی ہے اور پولیس فورس اپنی استعداد کے مطابق اہداف پورا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی مگر محض پیپلز پارٹی کو الزام دینے سے پولیس فورس کی کارکردگی بہتر نہیں ہو سکتی۔ مسلم لیگی حکومت کی ذمے داری ہے کہ وہ پولیس فورس کو فعال کرنے کے لیے اقدامات کرے، مگر بعض صحافیوں کا کہنا ہے کہ موجودہ دور میں بھی پیپلز پارٹی کی طرح کی صورتحال ہے۔ اسلام آباد پولیس اور انتظامیہ کچہری کے سیکیورٹی کے انتظامات کو حتمی شکل دینے کے لیے اسلام آباد ڈسٹرکٹ بار کے ساتھ میٹنگ کے لیے وقت نہ نکال سکی تھی۔ اسلام آباد ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر کا کہنا ہے کہ گزشتہ ماہ کچہری کے سیکیورٹی انتظامات کو حتمی شکل دینے کے لیے انتظامیہ کے افسروں اور بار کے نمایندوں کا مشترکہ اجلاس ہونا تھا مگر اعلیٰ حکام وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کے کرکٹ میچ کے انتظامات کو حتمی شکل دینے کے لیے چلے گئے تھے، یوں سیکیورٹی انتظامات کو آخری شکل نہیں دی جا سکی۔ وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے گزشتہ مہینے نئی سیکیورٹی پالیسی کا اعلان کیا تھا۔ اس پالیسی کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا۔ پولیس اور قانون سازی کرنے والی ایجنسیوں کو فعال کرنے کے علاوہ دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے نئی فورس بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فورس امریکا اور یورپی ایجنسیوں کی طرح فعال ہونی چاہیے۔

اس فورس میں میرٹ کو مد نظر رکھتے ہوئے ٹریننک اور کارکردگی کا معیار عالمی سطح کا ہونا چاہیے۔ وزیر اطلاعات پرویز رشید کا کہنا ہے کہ ملک کے پاس ایٹم بم ہے مگر بم ناکارہ بنانے کے آلات نہیں ہیں۔ حکومت کو جدید آلات کی فراہمی کو یقینی بنانا چاہیے ۔ سیکیورٹی کے پرانے طریقوں مثلاََ عام آدمی کو ہراساں کرنے، سڑکوں پر ناکہ لگانے اور ہر طرف مسلح سپاہیوں کی فوج کھڑی کرنے کے بجائے امریکا اور یورپ کی طرح سیکیورٹی کے جدید طریقوں پر عمل درآمد کرنا چاہیے۔ پولیس کے روایتی طریقوں سے عام آدمی بہت پریشان ہوتا ہے اور اس کا ذہن حفاظتی اقدامات کو ناکام بنانے پر سوچنے لگتا ہے۔ امریکا میں نائن الیون کی دہشت گردی اور برطانیہ میں بم دھماکوں کے بعد دہشت گردی کی کوئی واردات نہیں ہوئی، ان ممالک کی ایجنسیوں نے سڑکوں کو بند کر کے اور ہر طرف مسلح پولیس والے کھڑے کر کے یہ ہدف حاصل نہیں کیا بلکہ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال پولیس اور انٹیلی جنس نیٹ ورک کو متحرک کر کے مطلوبہ مقاصد حاصل کیے پاکستان ان ممالک کے تجربے سے فائدہ حاصل کر سکتا ہے مگر اس مقصد کے لیے جدید ذہن اور دور تک نظر رکھنے والے ویژن کی ضرورت ہے۔ یہ ویژن مرکزی قیادت ہی فراہم کر سکتی ہے۔
Load Next Story