6 اور 9 سیٹر سی این جی رکشوں پر پابندی ختم کی جائے قیوم خان

حکومت نے فوری پابندی کا خاتمہ نہ کیا تو پھراحتجاج کا دائرہ کار وسیع کردینگے

حکومت نے فوری پابندی کا خاتمہ نہ کیا تو پھراحتجاج کا دائرہ کار وسیع کردینگے۔ فوٹو : فائل

آل کراچی متحد سی این جی 6اور 9سیٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے صدر محمد قیوم خان نے کہا ہے کہ 6اور 9سیٹر سی این جی رکشے صرف کراچی میں نہیں بلکہ پورے پاکستان میں چل رہے ہیں۔


کراچی میں ان رکشوں پر پابندی لگا کر 4لاکھ افراد کو بے روزگار کردیا گیا ہے جبکہ لاکھوں عوام سفری سہولیات سے محروم ہوگئے ہیں ،اگر حکومت نے فوری طور پر پابندی کا خاتمہ نہ کیا تو پھر احتجاج کا دائرہ کار وسیع کردیں گے ،ان خیالات کا اظہار انھوں نے جمعہ کو کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا،انھوں نے کہا کہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک جن میں بنکاک ،چین ،سنگاپور اور دیگر شامل ہیں ان ممالک میں یہ رکشے چل رہے ہیں، صوبہ خیبرپختونخوا میں وہاں کی حکومت نے ان رکشوں کو ریگولرائز کردیا ہے ،صرف صوبہ سندھ خصوصاً کراچی میں پابندی ناانصافی کے مترادف ہے ،اس پابندی سے نہ صرف لاکھوں افراد بے روزگار ہوئے ہیں بلکہ گھروں میں فاقہ کشی کی نوبت بھی آپہنچی ہے۔

انھوں نے کہا کہ پابندی کے بعد 2ہزار سے زائد رکشے تحویل میں لے لیے گئے اور جرمانے عائد کیے گئے،انھوں نے کہا کہ اگر پابندی لگانی ہے تو پورے ملک میں پابندی لگائی جائے،انھوں نے کہا کہ ایسوسی ایشن کی جانب سے اس پابندی کے خلاف سندھ ہائی کورٹ میں درخواست دائر کردی گئی ہے ،ہمیں امید ہے کہ عدلیہ عوام کے وسیع تر مفاد میں ان رکشوں پر پابندی کے خلاف حکم امتناع جاری کرے گی، انھوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر اس پابندی کو ختم کرکے رکشوں کو ریگولرائز کرے۔
Load Next Story