سعودی عرب میں انتہاپسند تنظیموں پر پابندی
ملک سے باہر لڑائی کرنے والے اپنے شہریوں کو حکم دیا ہے کہ وہ 15 دن کے اندر اندر وطن واپس آ جائیں
سرکاری حکم میں یمن میں مصروف پیکار ایک تنظیم پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے ۔ فوٹو: فائل
سعودی عرب نے اخوان المسلمون، القاعدہ، حزب اللہ اور شام وعراق کی بعض تنظیموں کو دہشت گرد قرار دے کر ان پر پابندی لگا دی ہے اور ملک سے باہر لڑائی کرنے والے اپنے شہریوں کو حکم دیا ہے کہ وہ 15 دن کے اندر اندر وطن واپس آ جائیں ورنہ ان کے خلاف قانونی اقدامات کیے جائیں گے۔ سعودی عرب کا یہ اقدام مصر کے معزول صدر محمد مرسی کی جماعت کے خلاف کشیدگی میں اضافے کا غماض ہے جب کہ ریاض کو اس بات کا خطرہ ہے کہ کہیں اخوان مصر میں دوبارہ برسراقتدار نہ آ جائے۔ سعودیہ نے شام کی جس تنظیم پر پابندی عائد کی ہے اس کا نام النصرہ فرنٹ ہے جس کا تعلق القاعدہ سے بتایا گیا ہے۔ اس تنظیم کا ایک حصہ عراق میں بھی مصروف جنگ ہے۔ سرکاری حکم میں یمن میں مصروف پیکار ایک تنظیم پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے جب کہ سعودی عرب کے اندر حزب اللہ گروپ بھی غیرقانونی قرار دے دیا گیا ہے۔ یہاں یہ بات تعجب انگیز لگتی ہے کہ شام کے اندر صدر بشارا لاسد کی حکومت کے خلاف لڑنے والے باغیوں کو سعودی عرب کی حمایت حاصل ہے جو بشار کی حکومت کا تختہ الٹنا چاہتے ہیں۔
سعودی فرمانروا شاہ عبداللہ نے گزشتہ ماہ ایک حکم جاری کیا تھا کہ بیرون ملک لڑائی کرنے والے گروپوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو 20 سال قید کی سزا دی جائے گی۔ نیز دہشت گرد تنظیموں سے تعلق رکھنے والے دیگر تمام افراد کے لیے بھی یہی سزا ہو گی۔ ان گروپوں کی تحریری اور تقریری حمایت کرنے والوں کو بھی اس سلوک کا سزاوار ٹھہرایا جائے گا۔ تاہم حقوق انسانی کی تنظیموں نے سعودی عرب کی اس پالیسی کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ اس حکم کا اطلاق مخالف سیاست دانوں پر کیا جائے گا۔ واضح رہے سعودی عرب، بحرین اور متحدہ عرب امارات نے گزشتہ دنوں قطر سے اپنے سفیروں کو واپس بلا لیا تھا کیونکہ قطر کی حکومت مصر میں اخوان المسلمون کی حمایت کر رہی ہے۔ موجودہ صورت حال کو سامنے رکھا جائے تو عرب ممالک حالیہ واقعات کے باعث نئے بحران کی طرف بڑھتے نظر آتے ہیں۔ پاکستان کو خطہ عرب میں تبدیل ہوتی ہوئی صورتحال پر گہری نظر رکھنی چاہیے۔ پاکستان کے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ گہرے تعلقات ہیں۔ اس طرح اسے قطر اور شام کے ساتھ بھی اچھے مراسم برقرار رکھنا ہیں۔ ادھر القاعدہ، حزب اللہ اور اخوان المسلمون کے حوالے سے بھی پاکستان کو تبدیل ہوتی ہوئی صورت حال پر نظر رکھنی ہو گی۔
سعودی فرمانروا شاہ عبداللہ نے گزشتہ ماہ ایک حکم جاری کیا تھا کہ بیرون ملک لڑائی کرنے والے گروپوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو 20 سال قید کی سزا دی جائے گی۔ نیز دہشت گرد تنظیموں سے تعلق رکھنے والے دیگر تمام افراد کے لیے بھی یہی سزا ہو گی۔ ان گروپوں کی تحریری اور تقریری حمایت کرنے والوں کو بھی اس سلوک کا سزاوار ٹھہرایا جائے گا۔ تاہم حقوق انسانی کی تنظیموں نے سعودی عرب کی اس پالیسی کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ اس حکم کا اطلاق مخالف سیاست دانوں پر کیا جائے گا۔ واضح رہے سعودی عرب، بحرین اور متحدہ عرب امارات نے گزشتہ دنوں قطر سے اپنے سفیروں کو واپس بلا لیا تھا کیونکہ قطر کی حکومت مصر میں اخوان المسلمون کی حمایت کر رہی ہے۔ موجودہ صورت حال کو سامنے رکھا جائے تو عرب ممالک حالیہ واقعات کے باعث نئے بحران کی طرف بڑھتے نظر آتے ہیں۔ پاکستان کو خطہ عرب میں تبدیل ہوتی ہوئی صورتحال پر گہری نظر رکھنی چاہیے۔ پاکستان کے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ گہرے تعلقات ہیں۔ اس طرح اسے قطر اور شام کے ساتھ بھی اچھے مراسم برقرار رکھنا ہیں۔ ادھر القاعدہ، حزب اللہ اور اخوان المسلمون کے حوالے سے بھی پاکستان کو تبدیل ہوتی ہوئی صورت حال پر نظر رکھنی ہو گی۔