دستی کی پیش دستی پر زبردستی

بس بہت ہو چکا صبر اور درگزر کی بھی حد ہوتی ہے اب تو ہم بجلی کے چھوٹے وزیر کی خبر لے لیں گے ہی

barq@email.com

ISLAMABAD:
بس بہت ہو چکا صبر اور درگزر کی بھی حد ہوتی ہے اب تو ہم بجلی کے چھوٹے وزیر کی خبر لے لیں گے ہی، جو ہر پھر کر ہمارے ہی آڑے آ جاتا ہے ہمارا اشارہ اس وزیر کی طرف ہے جو وزیر ہوں گے تو اپنے گھر کے عابد ہوں گے تو اپنے لیے، شیر علی ہوں گے تو کسی اور کے لیے۔ اب تک تو ہم اپنے صوبے کے وزیروں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کر درگزر کرتے رہے کہ چلو نیا تازہ واردان بساط ہوائے دل ہیں اپنے پیر جمانے کے لیے کچھ شوخیاں شاخیاں کر رہے ہیں، کرنے دو ویسے بھی

چھیڑ ''خوباں'' سے چلی جائے اسدؔ
گر نہیں وصل تو حسرت ہی سہی

آپ سے کیا پردہ، صوبائی وزیروں کی ٹانگ کھینچتے ہوئے یہ ہمیں اچھا بھی لگا کیوں کہ وزیروں پذیروں بلکہ ان تمام مخلوقات سے ہمیں سخت پرخاش ہے جن کے ناموں کے آخر میں ''زیر'' لگتا ہے کیوں کہ بچپن میں ہمیں ''خنازیر'' کا مرض ہو گیا تھا جس سے ہم نے بڑی مشکل سے جاں چھڑائی تھی کیونکہ تب سے ہمیں پتہ ہے کہ جن ناموں کے آخر میں ''زیر'' آتا ہے وہ بڑے ڈھیٹ ہوتے ہیں، لیکن اب اس نے ہماری ''تیسری آنکھ'' پر وار کیا ہے اور آپ تو جانتے ہیں کہ کسی کی تیسری آنکھ پر وار کرنے کا نتیجہ کیا ہوتا ہے قہر ہی قہر غضب ہی غضب اور آگ ہی آگ بھڑک اٹھتی ہے، جمشید دستی کی پیش دستی کے ساتھ وہ جتنی بھی زبردستی کریں اس سے کوئی لینا دینا نہیں لیکن یہ کیا کہ جمشید دستی پارلیمنٹ کی ''وینا ملک'' ہے آخر اس کا مطلب کیا ہوا اور وزیر موصوف کہنا کیا چاہ رہے ہیں جتانا کیا چاہ رہے ہیں اور بتانا کیا چاہ رہے ہیں۔ یہ تو وہی بات ہوئی کہ بیٹی تم سے کہہ رہی ہوں اور بہو کو سنا رہی ہوں، ماروں گھٹنا پھوٹے آنکھ، شکایت زید سے ہے غصہ ''عمر'' پر آیا، گولی ''عمر'' کو ماری، لگ گئی ''بشیر'' کو اور مر گیا ''ظفر''

کسی کا درد ہو، کرتے ہیں تیرے نام رقم
کسی سے جو بھی گلہ ہے ترے سبب سے ہے

ہر پھر کر ہمارے صوبے کو نشانے پر رکھ لیتے ہیں حالانکہ اسے پتہ ہونا چاہیے کہ وینا ملک اب وینا ملک نہیں رہی ہے بلکہ وینا خٹک ہو گئی ہے کوئی اداکارہ نہیں بلکہ کسی کی بہو بیٹی بن چکی ہے، شف شف کیا کریں سیدھا سیدھا شفتالو ہی کہہ ڈالتے ہیں، ہماری پورے صوبے کی بہو بن چکی ہے اور یہ بات اس نے خود بہ نفس نفیس اور ببانگ دہل کہی ہے اور آپ خود سوچیں کسی کی بہو بیٹی کے بارے میں اگر کچھ کہا جائے تو غصہ تو آئے گا ہی اور اس وقت ہم غصہ کے مارے تھر تھر کانپ رہے ہیں

ہم پیشہ و ہم مشرب و ہمراز ہے میرا
غالبؔ کو برا کیوں کہو، اچھا مرے آگے


ایک تو ہمیں یہ وزیر مملکت کی ترکیب سمجھ میں نہیں آتی۔ اگر چھوٹے وزیر مملکت کے ہیں تو بڑے وزیر کیا مڈغا سکر کے ہیں اور اگر اتنا ہی ضروری ہے تو سیدھے سیدھے چھوٹے وزیر اور بڑے وزیر کیوں نہیں کہا جاتا، چلیے مان لیا کہ وزیر مملکت اس مملکت خداداد پاکستان کے وزیر ہوتے ہیں تو پھر اس کے ساتھ یہ دوسرے دم چھلے کیوں لگائے جاتے ہیں وزیر مملکت برائے بجلی، وزیر مملکت برائے چٹنی، وزیر مملکت برائے اچار، سلاد اور سوپ وغیرہ، اور پھر وزیر مملکت ہیں تو اپنی مملکت کے مملوگوں سے کام رکھیں یہ ادھر ادھر کی کیوں ہانکتے رہتے ہیں ۔۔۔ ہونہہ جمشید دستی پارلیمنٹ کی وینا ملک ہے، منہ سنبھال کر بات کرنا چاہیے وہ دن لد گئے جب وینا ۔۔۔۔ وینا ملک ہوا کرتی تھی اور ہر کوئی اس بے چاری کی طرف پتھر پھینکا کرتا تھا اب وہ وینا خٹک ہی نہیں پورے صوبے کی عزت ہے اور اس کی شادی نہایت ''شرعی انداز'' میں کہیں چھپ چھپا کر نہیں بلکہ بمقام امریکا، یعنی دنیا کے عین مرکز میں، ہوئی ہے اور ایک دنیا جانتی ہے کہ جس چیز پر میڈ ان امریکا کی مہر لگ جائے چاہے وہ خانہ آبادی ہو یا خانہ بربادی انتہائی مستند اور سالڈ ہو جاتی ہے، مان لیا کہ جمشید دستی نے جو حرکت کی ہے وہ ویسی ہی نازیبا ہے جیسا وینا ملک بمقام موم بائی کیا کرتی تھی جسے موم بائی کی بھاشا میں ''ایکسپوز'' کرنا کہتے ہیں لیکن اس میں بڑا فرق ہے اس بے چاری نے تو وہاں اگر ایکسپوز کیا تھا تو خود کو کیا تھا اور خود کے ساتھ خود کچھ بھی کرنا ہر کسی کے خود کا حق ہوتا ہے لیکن جمشید دستی نے تو ''بھری محفل'' میں راز کی بات کہی ہے اس لیے سزا کا مستوجب ٹھہر سکتا ہے وہ بھی اگر کوئی خواہ مخواہ دینا چاہیے ورنہ دن کو دن اور رات کو رات کہنا کوئی جرم تو نہیں ۔۔۔ البتہ جمشید دستی کو نادانی اور بے خبری کی سزا ضرور دی جا سکتی ہے

بھری بزم میں راز کی بات کہہ دی
بڑا بے ادب ہے سزا چاہتا ہے

دراصل یہ سارا کچھ ناتجربہ کاری کا شاخسانہ ہے ورنہ اس نے جن جن باتوں پر انگلی اٹھائی ہے وہ بھلے ہی عوام کے لیے نازیبا ہوں لیکن جو لوگ قوم و ملک کی فلاح و بہبود کے لیے دن رات باتدبیری میں لگے ہوتے ہیں انھیں تھوڑا بہت ریلیکس کرنا تو بنتا ہی ہے اور پھر جمشید دستی کو یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ ۔۔۔ جو لوگ قانون بناتے ہیں ضروری نہیں کہ وہ ان پر خود بھی عمل کریں، مرغی کبھی اپنے انڈے کا آملیٹ بنا کر نہیں کھاتی، سائنس دان لوگ اپنے تجربات خود پر نہیں کرتے بلکہ اس کے لیے انھوں نے چوہے مینڈک وغیرہ رکھے ہوتے ہیں ہاں اگر وہ دستیاب نہ ہوں تو وہ اور بات ہے لیکن اپنے یہاں تو آئی ایم ایف کی سرپرستی، حکومت کی مہربانی اور وزیروں کی محنت کی وجہ سے نہ مینڈکوں کی کمی ہے اور نہ چوہوں کی ۔۔۔ وہ بھی پنجروں کے اندر بند ۔۔۔ تو پھر سائنس دان اور موجد اپنے آپ پر اپنی ایجادیں کیوں آزمائیں، اور یہ کوئی یورپی ملک یا امریکا نہیں پاکستان ہے جہاں حکم رانوں کے لیے وہ کام بھی ممنوع ہوتے ہیں جو عوام کے لیے جائز ہوتے ہیں بلکہ یہاں جو کام عوام کے لیے ممنوع ہوتے ہیں وہ حکمرانوں اور منتخب نمائندوں کے لیے قطعی جائز بلکہ باثواب ہوتے ہیں۔ اتنی سی بات تھی جسے افسانہ کر دیا

تمہاری زلف میں پہنچی تو حُسن کہلائی
وہ تیرگی جو میرے نامۂ سیاہ میں تھی

خیر اس سے بھی ہمیں کوئی غرض نہیںکہ کیا جائز ہے کیا ناجائز کیا برا ہے اور کیا اچھا ۔۔۔ وہ منتخب نمائندے ہیں یعنی عالم میں انتخاب اور ہم ٹھہرے غیر منتخب، غیر مستند اور غیروں کے غیر ۔۔۔۔ اس لیے ٹانگ نہ ہی اڑائیں تو بہتر ہے، اگر جمشید دستی نے کچھ برا کیا ہے عزت سادات پر انگلی اٹھائی بھری بزم میں راز کی بات کہی ہے تو پہلے تو ہم صلح کل بن کر گزارش کریں گے کہ نیا ہے ناتجربہ کار ہے، ہو جاتی ہے غلطی، انسان ہی سے ہوتی ہے، آہستہ آہستہ سمجھ جائے گا کان نمک کا اثر دھیرے دھیرے ہو جائے گا

اقبالؔ نے منبر پر وہ راز نہاں کھولا
ناپختہ ہی اٹھ آیا از محفل رندانہ

لیکن پھر بھی اگر کچھ کرنا ہی ہے اس کے ساتھ کیجیے اس کی طرف اٹھنے والی انگلی ہماری طرف کیوں ٹیڑھی کر رہے ہیں لیکن لگتا ہے کہ اس وزیر مملکت کو اور کوئی کام دھندہ کرنا ہی نہیں تھا سوائے ہماری طرف انگلی اٹھانے کے، جب بھی بات کرتا ہے روئے سخن کسی اور کی طرف اور پائے سخن ہماری طرف کرتا ہے، جانتا ہی نہیں کہ ہم کیا ہیں اگر کرنے پر آ گئے تو پھر کہیں بھی امان نہیں ملے گی۔ وینا ملک جو کچھ بھی ہوا کرتی تھی وہ اب قصہ پارینہ ہے۔ وہ اب ہماری پنا ہ میں ہے۔ اور ایک دنیا جانتی ہے کہ ہمارے ہاں پناہ لینے والوں کی حیثیت کیا ہوتی ہے۔ وہ قصہ تو سنا ہی ہو گا کہ کسی شکاری نے ایک پرندہ کا شکار کیا لیکن اس پرندے کا گھونسلہ جس پیڑ پر تھا وہ ایک شخص کے کھیت میں تھا چنانچہ کھیت والے نے اپنی پناہ میں آئے ہوئے پرندے کو مارنے کے جرم میں اس شکاری کو گولی مار دی، شکاری کا قبیلہ بھی میدان میں آ گیا یوں یہ دشمنی کئی پشتوں تک چلتی رہی۔ بے شمار لوگوں کو کھا گئی ۔۔۔ لوگ اس دشمنی کو گھونسلے کی دشمنی کہتے تھے، پشتو میں ایک کہاوت بھی ہے کہ اگر کوئی پرندہ بھی کسی درخت کی پناہ لیتا ہے تو درخت اس کی طرف چلنے والے تیر کو اپنے سینے پر لیتا ہے، محترمہ وینا ملک نے بھی اب ہمارے چمن کے پیڑ پر آشیانہ بنا لیا ہے اگر آئندہ اس کے بارے میں کسی نے کچھ ایسا ویسا کہا تو ہم سے برا نہ کوئی تھا نہ ہے اور نہ ہو گا، پھر نہ کہنا ہمیں خبر نہ ہوئی، ہم نیک و بد حضور کو سمجھائے دیتے ہیں۔
Load Next Story