تھری جی نیلامی ٹیلی کام انڈسٹری نے شرائط کو پالیسی سے متصادم قرار دیدیا
نیلامی کے ڈیزائن،ادائیگیوں اورلائسنسنگ کے طریقہ کارمیں مشکلات کامیابی کی راہ میں رکاوٹ ہیں ، ٹیک پولیز
آپریٹرز کی جانب سے اعتراضات پی ٹی اے کوجلد جمع کرادیے جائیں گے۔ فوٹو: فائل
نیکسٹ جنریشن ٹیکنالوجی کے لائسنس کی نیلامی کے لیے پی ٹی اے کے انفارمیشن میمورنڈم پر ٹیلی کام انڈسٹری کے اعتراضات سامنے آگئے ہیں۔
انڈسٹری نے آکشن کی شرائط کو ٹیلی کام پالیسی سے متصادم قرار دیتے ہوئے آکشن کے ڈیزائن ، ادائیگیوں اور لائسنسنگ کے طریقہ کار میں موجود مشکلات کو اسپیکٹرم کی کامیاب نیلامی کے لیے خطرہ قرار دے دیا ہے۔ پاکستان میں کام کرنے والے پانچوں آپریٹرز میں آکشن پر اعتراضات کے حوالے سے مکمل ہم آہنگی پائی جاتی ہے، یہی وجہ ہے کہ پانچوں آپریٹرز نے اسپیکٹرم کی نیلامی کے لیے پالیسی پر مشاورت کے لیے مشترکہ طور پر ایک ہی غیرملکی ایڈوائزر ٹیک پولیز نامی بین الاقوامی کنسلٹنٹ کی خدمات حاصل کی ہیں۔ ٹیک پولیز کے سی ای اوRicardo Tavares نے پاکستان میں اسپیکٹرم کے آکشن کے انفارمیشن میمورنڈم کا تنقیدی جائزہ مکمل کرلیا ہے جس کی بنیاد پر آکشن میں حصہ لینے والے آپریٹرز اپنے باضابطہ اعتراضات پی ٹی اے کے مقرر کردہ شیڈول کے تحت جمع کرانے کا فیصلہ کر چکے ہیں۔ ٹیک پولیزکے غیرملکی ماہر نے کہا ہے کہ اسپیکٹرم لائسنس کی نیلامی میں حکومت کے ایما پر پی ٹی اے کی شرائط آپریٹرز کے ہاتھ باندھنے کے مترادف ہیں ۔ انڈسٹری کے مشترکہ ایڈوائزر نے کہاکہ آکشن کی نیلامی سال 2013-14 کے بجٹ اہداف اور نواز حکومت کی سرمایہ کاری پالیسی کیلیے بھی پہلا امتحان ہے، نیلامی سے قبل آپریٹرز کے اعتراضات اور نئے انویسٹر کیلیے ممکنہ مسائل کا حل نکالا جاسکتا ہے۔
ایڈوائزر کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں نئی ٹیکنالوجی کیلیے جاری کردہ انفارمیشن ٹیلی کام انڈسٹری میں سخت حکومتی مداخلت کی وجہ سے غلط سمت میں گامزن ہے جو آپریٹرز کے لیے انتہائی مایوس کن ہونے کی وجہ سے فوری توجہ کاطلب گار ہے دوسری صورت میں ٹیلی کام سیکٹر کے ساتھ پوری معیشت کے لیے انتہائی اہم نیلامی ناکام ہوسکتی ہے، نیوٹرل ٹیکنالوجی کے نام پر ٹیلی کام پالیسی کی صریحاً خلاف ورزی کی جارہی ہے، نیوٹرل ٹیکنالوجی کا حقیقی مطلب یہ ہے کہ ٹیکنالوجی متعارف کرانے کا اختیار سرمایہ کاروں کو دیا جائے جو مارکیٹ کے تقاضوں کے مطابق حکومتی لائسنس کے تحت صارفین کے لیے موزوں ٹیکنالوجی متعارف کرائے، نیکسٹ جنریشن ٹیکنالوجی کے لیے جاری کردہ انفارمیشن میمورنڈم کے مطابق آپریٹرز صرف وہ ٹیکنالوجی متعارف کراسکیں گے جس کے لیے انہوں نے لائسنس لیا ہے۔ ایڈوائزرکے مطابق یہ شرط ٹیلی کام پالیسی 2004کی بنیادی روح کے برعکس ہے جس میں حکومت نے ٹیلی کام سیکٹر میں عدم مداخلت اور ٹیکنالوجی مسلط نہ کرنے کی ضمانت دی تھی۔ ایڈوائزر کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی کے انتخاب پر قدغن لگانا آپریٹر کے ہاتھ باندھنے کے مترادف ہے جس سے آکشن کی ناکامی کا خدشہ ہے، پاکستانی مارکیٹ نے نئی ٹیکنالوجی کے لیے بہت انتظار کیا ہے، اگرچہ نیکسٹ جنریشن ٹیکنالوجی کے جلد از جلد رول آؤٹ کے لیے حکومت کی نیت درست ہے لیکن اس مقصد کے لیے آپریٹرز کے ہاتھ باندھنا دیگر بڑی غلطیوں میں سے ایک ہے جو خود نئی ٹیکنالوجی کے جلد از جلد فروغ کے حکومتی مقصد کی راہ میں رکاوٹ بنے گی۔
بہتر ہے کہ ٹیکنالوجی کا رول آؤٹ آپریٹرز پر چھو ڑ دیا جائے جو اپنی اپنی حکمت عملی کے تحت ٹیکنالوجی متعارف اور پھیلاسکیں۔ ایڈوائزر کا کہنا ہے کہ آکشن میں مصنوعی مسابقت کے لیے جان بوجھ کر تھری جی لائسنس کی تعداد کم رکھی گئی ہے، ملک میں 5 آپریٹرز کام کررہے ہیں لیکن تھری جی کے 3 لائسنس کی نیلامی کی جائیگی، اس طریقے سے لائسنس کی نیلامی میں مسابقت بڑھا کر زیادہ قیمت حاصل کی جاسکتی ہے لیکن یہ حربہ آپریٹرز کی نیلامی کے عمل سے دلچسپی ختم بھی کرسکتا ہے، حکومت 1800 میگا ہرٹز کے 2 سلوٹس نیلام کررہی ہے جو ٹو جی اور فور جی ٹیکنالوجی کیلیے کارآمد ہیں، اسی طرح 850میگا ہرٹز کا 1 سلوٹ ہے جو تھری جی اور فور جی دونوں کے لیے استعمال ہوسکتا ہے لیکن ان سلوٹس کی بڈنگ میں بھی آپریٹرزپر پابندیاں ہیں، کوئی آپریٹر ان تمام سلاٹس کے لیے بولی نہیں دے سکتا، صرف 1800میگا ہرٹز کی بولی میں کامیاب ہونے والے موجودہ آپریٹرز یا نیا آپریٹر ہی 850میگا ہرٹز کے لائسنس کے لیے بولی دے سکے گا، آکشن کی کامیابی اور بہترین مالی نتائج کے لیے آکشن کے ڈیزائن میں تبدیلی ناگزیر ہے، زیادہ سے زیادہ شرکت کیلیے تمام موجودہ اور نئے آپریٹر کو تمام سلوٹس کے لیے نیلامی میں حصہ لینے کی اجازت دی جائے، موجودہ ڈیزائن نئے آپریٹر کے لیے بھی مشکل ہے،آکشن کی شرائط میں تکنیکی خامیوں کے ساتھ ساتھ انڈسٹری کو مالی مشکلات کا بھی سامنا ہوگا ۔
جس سے آپریٹرز پر مالی بوجھ میں اضافہ ہوگا، لائسنس کی فیس ڈالر میں مقرر کی گئی جبکہ انڈسٹری کا ریونیو پاکستانی روپے میں ہوگا اور یہ عدم مطابقت مالیاتی لحاظ سے بڑی رکاوٹ ثابت ہوگی، ڈالر کی شکل میں 50فیصد ادائیگی کی صورت میں باقی رقم پر لائیبور پلس 3فیصد کے حساب سے ادائیگیاں بھی مسئلہ ہیں کیونکہ افراط زر کا معاملہ پاکستانی روپے کو درپیش ہے ڈالر کو نہیں، اسی طرح ادائیگی کے لیے متعدد ریگولیٹری فیسوں کی ادائیگی کے لیے گارنٹی کی شرط سے بھی کاسٹ میں اضافہ ہوگا، فیسوں کی عدم ادائیگی کی صورت میں لائسنس کی منسوخی کی شرط کی موجودگی میں ادائیگیوں کیلیے ضمانت کی شرط بلاجواز ہے، آکشن کے لیے لائسنسنگ کی شرائط میں بھی بنیادی ابہام ہے، مجوزہ لائسنس کا مسودہ آپریٹرز کے لیے ہر گز قابل قبول نہیں کیونکہ آپریٹرز پہلے ہی ایک آپریٹنگ لائسنس کے تحت کام کررہے ہیں، نیکسٹ جنریشن لائسنس کا مسودہ پہلے سے موجودلائسنس سے کئی لحاظ سے متصادم ہے جس کی وجہ سے آپریٹرز کو نئے اور پرانے دونوں لائسنس کے تحت خدمات کی انجام دہی کے لیے بیک وقت دو اکاؤنٹنگ آپریشنز چلانا ہوں گے۔
انڈسٹری کے لیے ٹیکسوں کی بلند شرح بھی ایک بڑا مسئلہ ہے جو نیکسٹ جنریشن ٹیکنالوجی کے فروغ میں بھی رکاوٹ بنے گا، نارمل سیکٹر کے لیے 17فیصد کے سیلز ٹیکس کے برعکس ٹیلی کام پر 19.5فیصد سیلز ٹیکس عائد ہے، 15سے 20سال کی مدت میں ٹیکسوں کی بھاری شرح ریٹرنز پر اثر انداز ہوگی جس کے خاتمے کے لیے حکومت کو یکساں 17فیصد سیلز ٹیکس عائد کرتے ہوئے 250روپے کے ایکٹیویشن چارجز ختم کرنا ہوں گے، ٹیکس میں کمی سے متعلق وعدوں کو آکشن سے قبل عملی جامہ پہنانا ہوگا۔
انڈسٹری نے آکشن کی شرائط کو ٹیلی کام پالیسی سے متصادم قرار دیتے ہوئے آکشن کے ڈیزائن ، ادائیگیوں اور لائسنسنگ کے طریقہ کار میں موجود مشکلات کو اسپیکٹرم کی کامیاب نیلامی کے لیے خطرہ قرار دے دیا ہے۔ پاکستان میں کام کرنے والے پانچوں آپریٹرز میں آکشن پر اعتراضات کے حوالے سے مکمل ہم آہنگی پائی جاتی ہے، یہی وجہ ہے کہ پانچوں آپریٹرز نے اسپیکٹرم کی نیلامی کے لیے پالیسی پر مشاورت کے لیے مشترکہ طور پر ایک ہی غیرملکی ایڈوائزر ٹیک پولیز نامی بین الاقوامی کنسلٹنٹ کی خدمات حاصل کی ہیں۔ ٹیک پولیز کے سی ای اوRicardo Tavares نے پاکستان میں اسپیکٹرم کے آکشن کے انفارمیشن میمورنڈم کا تنقیدی جائزہ مکمل کرلیا ہے جس کی بنیاد پر آکشن میں حصہ لینے والے آپریٹرز اپنے باضابطہ اعتراضات پی ٹی اے کے مقرر کردہ شیڈول کے تحت جمع کرانے کا فیصلہ کر چکے ہیں۔ ٹیک پولیزکے غیرملکی ماہر نے کہا ہے کہ اسپیکٹرم لائسنس کی نیلامی میں حکومت کے ایما پر پی ٹی اے کی شرائط آپریٹرز کے ہاتھ باندھنے کے مترادف ہیں ۔ انڈسٹری کے مشترکہ ایڈوائزر نے کہاکہ آکشن کی نیلامی سال 2013-14 کے بجٹ اہداف اور نواز حکومت کی سرمایہ کاری پالیسی کیلیے بھی پہلا امتحان ہے، نیلامی سے قبل آپریٹرز کے اعتراضات اور نئے انویسٹر کیلیے ممکنہ مسائل کا حل نکالا جاسکتا ہے۔
ایڈوائزر کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں نئی ٹیکنالوجی کیلیے جاری کردہ انفارمیشن ٹیلی کام انڈسٹری میں سخت حکومتی مداخلت کی وجہ سے غلط سمت میں گامزن ہے جو آپریٹرز کے لیے انتہائی مایوس کن ہونے کی وجہ سے فوری توجہ کاطلب گار ہے دوسری صورت میں ٹیلی کام سیکٹر کے ساتھ پوری معیشت کے لیے انتہائی اہم نیلامی ناکام ہوسکتی ہے، نیوٹرل ٹیکنالوجی کے نام پر ٹیلی کام پالیسی کی صریحاً خلاف ورزی کی جارہی ہے، نیوٹرل ٹیکنالوجی کا حقیقی مطلب یہ ہے کہ ٹیکنالوجی متعارف کرانے کا اختیار سرمایہ کاروں کو دیا جائے جو مارکیٹ کے تقاضوں کے مطابق حکومتی لائسنس کے تحت صارفین کے لیے موزوں ٹیکنالوجی متعارف کرائے، نیکسٹ جنریشن ٹیکنالوجی کے لیے جاری کردہ انفارمیشن میمورنڈم کے مطابق آپریٹرز صرف وہ ٹیکنالوجی متعارف کراسکیں گے جس کے لیے انہوں نے لائسنس لیا ہے۔ ایڈوائزرکے مطابق یہ شرط ٹیلی کام پالیسی 2004کی بنیادی روح کے برعکس ہے جس میں حکومت نے ٹیلی کام سیکٹر میں عدم مداخلت اور ٹیکنالوجی مسلط نہ کرنے کی ضمانت دی تھی۔ ایڈوائزر کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی کے انتخاب پر قدغن لگانا آپریٹر کے ہاتھ باندھنے کے مترادف ہے جس سے آکشن کی ناکامی کا خدشہ ہے، پاکستانی مارکیٹ نے نئی ٹیکنالوجی کے لیے بہت انتظار کیا ہے، اگرچہ نیکسٹ جنریشن ٹیکنالوجی کے جلد از جلد رول آؤٹ کے لیے حکومت کی نیت درست ہے لیکن اس مقصد کے لیے آپریٹرز کے ہاتھ باندھنا دیگر بڑی غلطیوں میں سے ایک ہے جو خود نئی ٹیکنالوجی کے جلد از جلد فروغ کے حکومتی مقصد کی راہ میں رکاوٹ بنے گی۔
بہتر ہے کہ ٹیکنالوجی کا رول آؤٹ آپریٹرز پر چھو ڑ دیا جائے جو اپنی اپنی حکمت عملی کے تحت ٹیکنالوجی متعارف اور پھیلاسکیں۔ ایڈوائزر کا کہنا ہے کہ آکشن میں مصنوعی مسابقت کے لیے جان بوجھ کر تھری جی لائسنس کی تعداد کم رکھی گئی ہے، ملک میں 5 آپریٹرز کام کررہے ہیں لیکن تھری جی کے 3 لائسنس کی نیلامی کی جائیگی، اس طریقے سے لائسنس کی نیلامی میں مسابقت بڑھا کر زیادہ قیمت حاصل کی جاسکتی ہے لیکن یہ حربہ آپریٹرز کی نیلامی کے عمل سے دلچسپی ختم بھی کرسکتا ہے، حکومت 1800 میگا ہرٹز کے 2 سلوٹس نیلام کررہی ہے جو ٹو جی اور فور جی ٹیکنالوجی کیلیے کارآمد ہیں، اسی طرح 850میگا ہرٹز کا 1 سلوٹ ہے جو تھری جی اور فور جی دونوں کے لیے استعمال ہوسکتا ہے لیکن ان سلوٹس کی بڈنگ میں بھی آپریٹرزپر پابندیاں ہیں، کوئی آپریٹر ان تمام سلاٹس کے لیے بولی نہیں دے سکتا، صرف 1800میگا ہرٹز کی بولی میں کامیاب ہونے والے موجودہ آپریٹرز یا نیا آپریٹر ہی 850میگا ہرٹز کے لائسنس کے لیے بولی دے سکے گا، آکشن کی کامیابی اور بہترین مالی نتائج کے لیے آکشن کے ڈیزائن میں تبدیلی ناگزیر ہے، زیادہ سے زیادہ شرکت کیلیے تمام موجودہ اور نئے آپریٹر کو تمام سلوٹس کے لیے نیلامی میں حصہ لینے کی اجازت دی جائے، موجودہ ڈیزائن نئے آپریٹر کے لیے بھی مشکل ہے،آکشن کی شرائط میں تکنیکی خامیوں کے ساتھ ساتھ انڈسٹری کو مالی مشکلات کا بھی سامنا ہوگا ۔
جس سے آپریٹرز پر مالی بوجھ میں اضافہ ہوگا، لائسنس کی فیس ڈالر میں مقرر کی گئی جبکہ انڈسٹری کا ریونیو پاکستانی روپے میں ہوگا اور یہ عدم مطابقت مالیاتی لحاظ سے بڑی رکاوٹ ثابت ہوگی، ڈالر کی شکل میں 50فیصد ادائیگی کی صورت میں باقی رقم پر لائیبور پلس 3فیصد کے حساب سے ادائیگیاں بھی مسئلہ ہیں کیونکہ افراط زر کا معاملہ پاکستانی روپے کو درپیش ہے ڈالر کو نہیں، اسی طرح ادائیگی کے لیے متعدد ریگولیٹری فیسوں کی ادائیگی کے لیے گارنٹی کی شرط سے بھی کاسٹ میں اضافہ ہوگا، فیسوں کی عدم ادائیگی کی صورت میں لائسنس کی منسوخی کی شرط کی موجودگی میں ادائیگیوں کیلیے ضمانت کی شرط بلاجواز ہے، آکشن کے لیے لائسنسنگ کی شرائط میں بھی بنیادی ابہام ہے، مجوزہ لائسنس کا مسودہ آپریٹرز کے لیے ہر گز قابل قبول نہیں کیونکہ آپریٹرز پہلے ہی ایک آپریٹنگ لائسنس کے تحت کام کررہے ہیں، نیکسٹ جنریشن لائسنس کا مسودہ پہلے سے موجودلائسنس سے کئی لحاظ سے متصادم ہے جس کی وجہ سے آپریٹرز کو نئے اور پرانے دونوں لائسنس کے تحت خدمات کی انجام دہی کے لیے بیک وقت دو اکاؤنٹنگ آپریشنز چلانا ہوں گے۔
انڈسٹری کے لیے ٹیکسوں کی بلند شرح بھی ایک بڑا مسئلہ ہے جو نیکسٹ جنریشن ٹیکنالوجی کے فروغ میں بھی رکاوٹ بنے گا، نارمل سیکٹر کے لیے 17فیصد کے سیلز ٹیکس کے برعکس ٹیلی کام پر 19.5فیصد سیلز ٹیکس عائد ہے، 15سے 20سال کی مدت میں ٹیکسوں کی بھاری شرح ریٹرنز پر اثر انداز ہوگی جس کے خاتمے کے لیے حکومت کو یکساں 17فیصد سیلز ٹیکس عائد کرتے ہوئے 250روپے کے ایکٹیویشن چارجز ختم کرنا ہوں گے، ٹیکس میں کمی سے متعلق وعدوں کو آکشن سے قبل عملی جامہ پہنانا ہوگا۔