مذاکرات کا مقصد انتہا پسندی اور تشدد کا خاتمہ ہے پرویز رشید

حکومتی کمیٹی اورطالبان کمیٹیوں کے فعال کردارکی وجہ سے حکومت اور طالبان کے ساتھ روابط بڑھے ہیں

حکومتی کمیٹی اورطالبان کمیٹیوں کے فعال کردارکی وجہ سے حکومت اور طالبان کے ساتھ روابط بڑھے ہیں۔ فوٹو: فائل

وفاقی وزیراطلاعات ونشریات سینیٹرپرویزرشیدنے کہا ہے کہ مذاکرات کامقصدامن کاقیام اورریاست سے تشدداورانتہاپسندی کاخاتمہ ہے۔


ہماری زندگیاں محفوظ اوروطن عزیزمیں امن قائم ہوتاہے تو سلامتی پالیسی پر عملدرآمد کیلئے وسائل کی فراہمی کوئی معنی نہیں رکھتی ،خون خرابے کے بغیرامن کی منزل تک پہنچنا چاہتے ہیں،وزیراعظم نوازشریف جلدایک اورکمیٹی قائم کرینگے جوطالبان سے مذاکرات کے عمل کوآگے بڑھائیگی، نوازشریف جلد سینٹ میں خطاب کرکے سینیٹرزکے تمام سوالوں اور خدشات کاجواب دیںگے ۔ایک انٹرویو میں وزیراطلاعات نے کہاکہ مذاکرات کیلئے قائم کی گئی کمیٹیوں کا بنیادی کام روابط کاقیام تھا جو گزشتہ 13 سال میں کبھی نہیں ہوا تھا، حکومتی کمیٹی اورطالبان کمیٹیوں کے فعال کردارکی وجہ سے حکومت اور طالبان کے ساتھ روابط بڑھے ہیں۔انہوں نے کہا پاک آرمی نے ہمیشہ حکومت کی سپورٹ کی ہے اس وقت تمام ادارے اشتراک عمل سے اچھے اندازمیں کام کررہے ہیں۔
Load Next Story