بحری جہاز ایم وی البیڈو کے عملے کی رہائی معمہ بن گئی

اہل خانہ امید و بیم کی کیفیت میں زندگی گزارنے پر مجبور،مغویوں کی ویڈیو بھی جاری

اہل خانہ امید و بیم کی کیفیت میں زندگی گزارنے پر مجبور،مغویوں کی ویڈیو بھی جاری

صومالی قزاقوں کے ہاتھوں یرغمال بنائے گئے بحری جہاز ایم وی البیڈو کے عملے کی رہائی معمہ بن گئی ، مغویوں کے اہل خانہ امید و بیم کی کیفیت میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ، سی پی ایل سی کے چیف احمد چنائے نے ایک مرتبہ پھر آئندہ 10 سے 15 روز میں رہائی کی امید دلادی ، مغویوں کی ویڈیو بھی جاری کردی گئی جس میں ان کی حالت زار انتہائی خراب دکھائی دے رہی ہے اور انھیں تپتی ریت پر لٹایا ہوا ہے۔


تفصیلات کے مطابق 26 نومبر 2010 کو دبئی کی پورٹ جبل علی سے کینیا کے لیے روانہ ہونے والے بحری جہاز ایم وی البیڈو کو صومالی قزاقوں نے جہاز کے 22 رکنی عملے کو یرغمال بنالیا ، عملے میں 7 پاکستانیوں کے علاوہ بنگلہ دیشی ، سری لنکن ، ایرانی اور بھارتی باشندے بھی شامل ہیں ، جہاز کا مالک ایرانی نژاد ملائیشین ہے ، عملے کی رہائی کے لیے سٹیزن پولیس لائژن کمیٹی کے چیف احمد چنائے نے صومالی قزاقوں سے مذاکرات کا آغاز کیا ، قزاقوں نے ابتدا میں 10 ملین امریکی ڈالر تاوان طلب کیا بعدازاں طویل مذاکرات کے بعد 2.28 ملین امریکی ڈالر پر رضامندی ظاہر کی گئی ،

پاکستان نے اپنے حصے کے گیارہ کروڑ روپے جمع کرلیے لیکن احمد چنائے کے مطابق ملائیشین حکام باقی رقم کا انتظام کرنے میں لیت و لعل سے کام لے رہے ہیں ، اس دوران مغویوں کے اہل خانہ کی زندگی سولی پر لٹکی ہوئی ہے اور وہ اپنے پیاروں کی بحفاظت واپسی کے لیے امید و بیم کی کیفیت میں مبتلا ہیں ، گذشتہ روز بھی سی پی ایل سی کے چیف احمد چنائے نے ایک مرتبہ پھر 10 سے 15 روز میں رہائی کی امید دلائی ہے ، علاوہ ازیں گذشتہ روز مغویوں کی ویڈیو بھی جاری کی گئی جس میں انھیں تپتی ریت اور کھلے آسمان تلے دکھایا گیا ہے ، ویڈیو میں مغویوں کی حالت زار انتہائی خراب دکھائی دے رہی ہے ، اس حوالے سے مغویوں کے اہل خانہ نے کہا کہ انھیں ویڈیو دیکھ کر انتہائی دکھ ہوا ہے اور وہ اپنے پیاروں کی سلامتی کے لیے دعا گو ہیں ۔
Load Next Story