کیف میں پاکستانی نژاد آبادی محفوظ ہے سفیر روس کے حق میں ہزاروں افراد کے مظاہرے
یوکرین کے شہروں ڈونٹسک اور خارکیف کی بھی روس کے ساتھ الحاق کی خواہش، عالمی مبصرین کو کریمیا میں داخل ہونے سےروک دیاگیا
ماسکو میں یوکرینی سفیر کی روسی حکام سے بات چیت، اوباما کا جرمن چانسلر اور فرانسیسی صدر کو فون، روس کو باز رہنے کی پھر دھمکی۔فوٹو:اے ایف پی
یوکرین کے شہروں ڈونٹسک اور خارکیف میں ہزاروں افراد نے روس کے حق میں ریلیاں نکالیں جبکہ روس نے دھمکی دی ہے کہ وہ غیرملکی انسپکٹرز کو اپنے ایٹمی اسلحے کے معائنے کی اجازت نہ دینے پر غور کررہا ہے۔
یوکرین میں پاکستانی سفیر کا کہنا ہے کہ کیف میں پاکستانی نژاد آبادی محفوظ ہے۔ یوکرین کے شہر ڈونٹسک کے لینن اسکوائر میں شہریوں نے روس کے حق میں مسلسل دھرنا دیا ہوا ہے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ کریمیا کی طرح ڈونٹسک میں بھی ریفرنڈم کرایا جائے، ہم روس کے ساتھ الحاق چاہتے ہیں۔ یوکرین کے شہر خارکیف میں بھی روس کے حق میں ریلی نکالی گئی جس میں شہریوں نے روس کے ساتھ الحاق کی خواہش کا اظہار کیا۔ دریں اثنا دوسرے دن بھی عالمی مبصرین کے ایک وفد نے کریمیا میں داخل ہونے کی کوشش کی لیکن روس نواز مسلح افراد نے انھیں خبردار کرنے کیلیے ہوائی فائرنگ کی اور انھیںکریمیا میں داخل ہونے سے روک دیا۔ روس نواز افراد نے کریمیا میں یوکرین فضائیہ کے ایک اڈے کے آہنی جنگلوں کو تہس نہس کردیا۔ اطلاع کے مطابق روسی فوج نے کریمیا میں اہم عمارتوں اور فوجی تنصیبات پر اپنا کنٹرول سنبھال لیا۔ دوسری طرف امریکا اور یورپی یونین کی دھمکیوں کے جواب میں روسی وزارت دفاع کے ترجمان نے کہا کہ ماسکو اس بات پر غور کررہا ہے کہ غیر ملکی انسپکٹرز کو اپنے ایٹمی اسلحے کے معائنے سے روک دیا جائے۔
ماسکو میں یوکرین کے سفیر اور روسی نائب وزیر خارجہ نے تنازع کو حل کرنے کیلیے بات چیت کی ہے۔ روسی وزیرخارجہ نے کہاکہ یوکرین کا بحران 'مصنوعی' ہے اور اسے خطے کی سیاست کے تناظر میں پیدا کیا گیا ہے، وہ یوکرین کے معاملے پر عالمی طاقتوں کے ساتھ ایماندارانہ مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔ انھوں نے کیف حکومت کے ساتھ مذاکرات کو خارج از امکان قرار دیا۔ ادھر کییف کی عبوری حکومت نے کہاکہ اس نے روس کے ساتھ مذاکرات کے لیے رابطہ گروپ بنانا شروع کر دیا۔ روسی وزیرِ خارجہ نے اپنے امریکی ہم منصب جان کیری سے فون پر گفتگو کے دوران انھیں متنبہ کیا کہ روس کے کریمیا میں اقدام کی وجہ سے اگر روس پر پابندیاں لگائی گئیں تو نتائج پابندیاں لگانے والوں کو بھی بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔
صدر پوتن نے کہا کہ روس میں ہونے والی پہلی رشین گرینڈ پرکس کی تیاریاں عروج پر ہیں۔ یوکرین کے مسئلے کے حوالے سے امریکی صدر نے جرمن چانسلرانجلا مرکل سے فون پر بات چیت کی ہے۔ فرانس کے صدر کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے اوباما نے کہاکہ اگر روس اشتعال انگیزی سے باز نہ آیا تو اس کیخلاف مزید اقدام پر غور کیا جائے گا۔ بھارت نے یوکرین کے معاملے پر روسی موقف کی حمایت کردی۔ یوکرین میں پاکستانی سفیرمیجرجنرل ریٹائرڈ وجاہت علی مفتی نے کہاکہ یوکرین میں پاکستانی نژادآبادی محفوظ ہے، پاکستان یوکرین کی یکجہتی کی حمایت کرتا ہے اور اس بات کا حامی ہے کہ تنازع کا حل تلاش کرنے کیلیے روس اورمغربی ممالک بات چیت کا طریقہ اختیارکریں۔
یوکرین میں پاکستانی سفیر کا کہنا ہے کہ کیف میں پاکستانی نژاد آبادی محفوظ ہے۔ یوکرین کے شہر ڈونٹسک کے لینن اسکوائر میں شہریوں نے روس کے حق میں مسلسل دھرنا دیا ہوا ہے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ کریمیا کی طرح ڈونٹسک میں بھی ریفرنڈم کرایا جائے، ہم روس کے ساتھ الحاق چاہتے ہیں۔ یوکرین کے شہر خارکیف میں بھی روس کے حق میں ریلی نکالی گئی جس میں شہریوں نے روس کے ساتھ الحاق کی خواہش کا اظہار کیا۔ دریں اثنا دوسرے دن بھی عالمی مبصرین کے ایک وفد نے کریمیا میں داخل ہونے کی کوشش کی لیکن روس نواز مسلح افراد نے انھیں خبردار کرنے کیلیے ہوائی فائرنگ کی اور انھیںکریمیا میں داخل ہونے سے روک دیا۔ روس نواز افراد نے کریمیا میں یوکرین فضائیہ کے ایک اڈے کے آہنی جنگلوں کو تہس نہس کردیا۔ اطلاع کے مطابق روسی فوج نے کریمیا میں اہم عمارتوں اور فوجی تنصیبات پر اپنا کنٹرول سنبھال لیا۔ دوسری طرف امریکا اور یورپی یونین کی دھمکیوں کے جواب میں روسی وزارت دفاع کے ترجمان نے کہا کہ ماسکو اس بات پر غور کررہا ہے کہ غیر ملکی انسپکٹرز کو اپنے ایٹمی اسلحے کے معائنے سے روک دیا جائے۔
ماسکو میں یوکرین کے سفیر اور روسی نائب وزیر خارجہ نے تنازع کو حل کرنے کیلیے بات چیت کی ہے۔ روسی وزیرخارجہ نے کہاکہ یوکرین کا بحران 'مصنوعی' ہے اور اسے خطے کی سیاست کے تناظر میں پیدا کیا گیا ہے، وہ یوکرین کے معاملے پر عالمی طاقتوں کے ساتھ ایماندارانہ مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔ انھوں نے کیف حکومت کے ساتھ مذاکرات کو خارج از امکان قرار دیا۔ ادھر کییف کی عبوری حکومت نے کہاکہ اس نے روس کے ساتھ مذاکرات کے لیے رابطہ گروپ بنانا شروع کر دیا۔ روسی وزیرِ خارجہ نے اپنے امریکی ہم منصب جان کیری سے فون پر گفتگو کے دوران انھیں متنبہ کیا کہ روس کے کریمیا میں اقدام کی وجہ سے اگر روس پر پابندیاں لگائی گئیں تو نتائج پابندیاں لگانے والوں کو بھی بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔
صدر پوتن نے کہا کہ روس میں ہونے والی پہلی رشین گرینڈ پرکس کی تیاریاں عروج پر ہیں۔ یوکرین کے مسئلے کے حوالے سے امریکی صدر نے جرمن چانسلرانجلا مرکل سے فون پر بات چیت کی ہے۔ فرانس کے صدر کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے اوباما نے کہاکہ اگر روس اشتعال انگیزی سے باز نہ آیا تو اس کیخلاف مزید اقدام پر غور کیا جائے گا۔ بھارت نے یوکرین کے معاملے پر روسی موقف کی حمایت کردی۔ یوکرین میں پاکستانی سفیرمیجرجنرل ریٹائرڈ وجاہت علی مفتی نے کہاکہ یوکرین میں پاکستانی نژادآبادی محفوظ ہے، پاکستان یوکرین کی یکجہتی کی حمایت کرتا ہے اور اس بات کا حامی ہے کہ تنازع کا حل تلاش کرنے کیلیے روس اورمغربی ممالک بات چیت کا طریقہ اختیارکریں۔