ٹائروربڑ انڈسٹری کا درآمد میں انڈر انوائسنگ کا نوٹس لینے کا مطالبہ
قومی صنعت کے علاوہ معیشت کیلیے بہت بڑا خطرہ،آئی ٹی پی میں اضافہ ناگزیر ہے،صنعتی ذرائع
قومی صنعت کے علاوہ معیشت کیلیے بہت بڑا خطرہ،آئی ٹی پی میں اضافہ ناگزیر ہے،صنعتی ذرائع۔ فوٹو: فائل
ٹائر اور ربڑ کی مقامی صنعت نے وزیر خزانہ اسحاق ڈار پر زور دیا ہے کہ وہ مختلف اقسام کے ٹائروں کی درآمدات پر بھاری انڈر انوائسنگ کا نوٹس لیں جو ایک جانب تو ایف بی آر کو محاصل سے محروم کر رہی ہے اور دوسری جانب مقامی پیداوار کو بھاری نقصان پہنچا رہی ہے۔
ٹائر کی صنعت اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ انڈر انوائس ٹائروں کی درآمد کے خلاف کارروائی اور ایف بی آر کی جانب سے آئی ٹی پی میں اضافہ کرنے سے حکومت کو موجود جمع ہونے والے محاصل کی نسبت ہر سال محاصل کی مد میں تقریباً 500کروڑ روپے اور دیگر فوائد حاصل ہوں گے۔صنعتی ذرائع کے مطابق چین سے درآمد کیے جانے والے ٹائروں کی یہ انڈر انوائسنگ قومی صنعت اور معیشت کے لیے بہت بڑا خطرہ ہے۔ وزارت خزانہ نے حال ہی میں ایف بی آر کو ہدایت جاری کی تھی کہ اس حرکت کے خلاف موزوں کارروائی کی جائے لیکن حکام (کسٹم ویلوایشن ڈپارٹمنٹ) نے تا حال کوئی ایسی کارروائی نہیں کی اور یہ غیرقانونی حرکت جاری و ساری ہے۔ گزشتہ سال جولائی میں، ملک کی ربڑ اور ٹائر صنعت نے وزیر خزانہ کو ٹائروں کی درآمد میںبھاری انڈر انوائسنگ کے بارے میں تحریر کیا تھا جو حکومت کو قانونی محاصل سے محروم کر رہی ہے اور ٹائر کی مقامی صنعت کو اس حد تک متاثر کر رہی ہے کہ ان کی بقا کا مسئلہ پیدا ہو گیا ہے۔
وزیر خزانہ نے فوری طور پر موزوں کارروائی کا حکم دیا تھا، لیکن صنعت نے ابھی تک اس سلسلے میں کوئی کارروائی ہوتی ہوئی نہیں دیکھی۔صنعتی ذرائع کا کہنا ہے کہ تحریری رابطے کے علاوہ گزشتہ دو سالوں کے دوران کسٹم ویلوایشن کے دفاتر میں بہت سے اجلاس بھی منعقد ہوئے جن میں ثبوت پیش کیے گئے اور ویلوایشن میں غلطیوں کی نشان دہی بھی کی گئی لیکن پھر بھی اس سلسلے میں کوئی اقدام نہیں کیا گیا۔ صنعت نے وزیر خزانہ پر زور دیا ہے کہ وہ ٹائرز / ٹیوبس پر درآمدی تجارتی قیمتوں کی موجود سطح میں چین سے آنے والی تمام درآمدات پرکم از کم 50فی صد اور باقی ماندہ درآمدات پر 40فی صد اضافہ کریں۔انہوں نے کہا کہ ایف بی آر کی جانب سے درآمدی تجارتی قیمتوں میں بھاری انڈر انوائسنگ کو دور کرنے میں غیر ضروری تاخیر ملک کو انتہائی ضروری محاصل سے محروم کر رہی ہے۔ درآمد کنندگان کم ڈیوٹی ادا کرنے کی غرض سے ''دیگر'' کیٹگری کے تحت اپنے درآمد ٹائروں کو کلیئر کروا رہے ہیں۔
ایسے ٹائروں کی تعداد 5لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے جو ملک کے لیے انتہائی نقصان کا باعث ہے۔ یہاں اس بات کا ذکر ضروری ہے کہ اسمگل شدہ اور انڈر انوائس ٹائر مارکیٹ کی تقرییاً دو تہائی ضرورت پوری کر رہے ہیں جب کہ اس کی نسبت ٹائر کی مقامی صنعت کے ٹائروں کی بہت کم تعداد یعنی صرف ایک تہائی استعمال ہوتی ہے۔ذرائع نے بتایا کہ یہ دھندہ نہ صرف قومی خزانے کو بے انتہا نقصان پہنچا رہا ہے بلکہ ملازمت کی فراہمی، زرمبادلہ کی بچت اور مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کی مقامی صنعتوں پر بھی کاری ضرب لگا رہا ہے۔ذرائع نے کہا کہ اگر حکومت ان غیرقانونی تاجروں پر توجہ دے تو وہ محاصل میں خو دانحصاری کی جانب گامزن ہو سکے گی اور صرف ٹائروں کی سمگلنگ اور درآمد میںانڈر انوائسنگ کی صورت میں ہونے والی80ملین ڈالرکا سالانہ نقصان اٹھانے سے بچ جائے گی۔
ٹائر کی صنعت اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ انڈر انوائس ٹائروں کی درآمد کے خلاف کارروائی اور ایف بی آر کی جانب سے آئی ٹی پی میں اضافہ کرنے سے حکومت کو موجود جمع ہونے والے محاصل کی نسبت ہر سال محاصل کی مد میں تقریباً 500کروڑ روپے اور دیگر فوائد حاصل ہوں گے۔صنعتی ذرائع کے مطابق چین سے درآمد کیے جانے والے ٹائروں کی یہ انڈر انوائسنگ قومی صنعت اور معیشت کے لیے بہت بڑا خطرہ ہے۔ وزارت خزانہ نے حال ہی میں ایف بی آر کو ہدایت جاری کی تھی کہ اس حرکت کے خلاف موزوں کارروائی کی جائے لیکن حکام (کسٹم ویلوایشن ڈپارٹمنٹ) نے تا حال کوئی ایسی کارروائی نہیں کی اور یہ غیرقانونی حرکت جاری و ساری ہے۔ گزشتہ سال جولائی میں، ملک کی ربڑ اور ٹائر صنعت نے وزیر خزانہ کو ٹائروں کی درآمد میںبھاری انڈر انوائسنگ کے بارے میں تحریر کیا تھا جو حکومت کو قانونی محاصل سے محروم کر رہی ہے اور ٹائر کی مقامی صنعت کو اس حد تک متاثر کر رہی ہے کہ ان کی بقا کا مسئلہ پیدا ہو گیا ہے۔
وزیر خزانہ نے فوری طور پر موزوں کارروائی کا حکم دیا تھا، لیکن صنعت نے ابھی تک اس سلسلے میں کوئی کارروائی ہوتی ہوئی نہیں دیکھی۔صنعتی ذرائع کا کہنا ہے کہ تحریری رابطے کے علاوہ گزشتہ دو سالوں کے دوران کسٹم ویلوایشن کے دفاتر میں بہت سے اجلاس بھی منعقد ہوئے جن میں ثبوت پیش کیے گئے اور ویلوایشن میں غلطیوں کی نشان دہی بھی کی گئی لیکن پھر بھی اس سلسلے میں کوئی اقدام نہیں کیا گیا۔ صنعت نے وزیر خزانہ پر زور دیا ہے کہ وہ ٹائرز / ٹیوبس پر درآمدی تجارتی قیمتوں کی موجود سطح میں چین سے آنے والی تمام درآمدات پرکم از کم 50فی صد اور باقی ماندہ درآمدات پر 40فی صد اضافہ کریں۔انہوں نے کہا کہ ایف بی آر کی جانب سے درآمدی تجارتی قیمتوں میں بھاری انڈر انوائسنگ کو دور کرنے میں غیر ضروری تاخیر ملک کو انتہائی ضروری محاصل سے محروم کر رہی ہے۔ درآمد کنندگان کم ڈیوٹی ادا کرنے کی غرض سے ''دیگر'' کیٹگری کے تحت اپنے درآمد ٹائروں کو کلیئر کروا رہے ہیں۔
ایسے ٹائروں کی تعداد 5لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے جو ملک کے لیے انتہائی نقصان کا باعث ہے۔ یہاں اس بات کا ذکر ضروری ہے کہ اسمگل شدہ اور انڈر انوائس ٹائر مارکیٹ کی تقرییاً دو تہائی ضرورت پوری کر رہے ہیں جب کہ اس کی نسبت ٹائر کی مقامی صنعت کے ٹائروں کی بہت کم تعداد یعنی صرف ایک تہائی استعمال ہوتی ہے۔ذرائع نے بتایا کہ یہ دھندہ نہ صرف قومی خزانے کو بے انتہا نقصان پہنچا رہا ہے بلکہ ملازمت کی فراہمی، زرمبادلہ کی بچت اور مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کی مقامی صنعتوں پر بھی کاری ضرب لگا رہا ہے۔ذرائع نے کہا کہ اگر حکومت ان غیرقانونی تاجروں پر توجہ دے تو وہ محاصل میں خو دانحصاری کی جانب گامزن ہو سکے گی اور صرف ٹائروں کی سمگلنگ اور درآمد میںانڈر انوائسنگ کی صورت میں ہونے والی80ملین ڈالرکا سالانہ نقصان اٹھانے سے بچ جائے گی۔