ہفتہ رفتہ دنیا بھر میں روئی کی قیمتوں میں تیزی پاکستان میں مندی کا رجحان
ملک کے بیشتر شہروں میں نرخ 7000 تا 7100 روپے،اسپاٹ ریٹ 6850 روپے فی من تک مستحکم رہے.
بھارت سے وسیع پیمانے پر کاٹن یارن کی درآمد روئی و دھاگے کی قیمتوں پر اثرانداز ہوئی، احسان الحق۔ فوٹو: فائل
چین کی جانب سے روئی درآمدکرنے کا نیا کوٹہ جاری کرنے کی اطلاعات اورامریکن کاٹن ایکسپورٹس سے متعلق مثبت رپورٹ کے اجرا نے گزشتہ ہفتے دنیا بھرکی کاٹن مارکیٹس میں روئی کی قیمتوں میں تیزی کا رجحان پیدا کردیا جس سے اس امر کا بھی امکان پیدا ہوگیا ہے کہ پیر(آج) یوایس ڈی اے کی نئی مثبت کاٹن رپورٹ جاری ہونے کے بعد روئی کی قیمت جاری کاٹن سیزن کی بلند ترین سطح تک پہنچ جائے گی تاہم اس کے برعکس گزشتہ ہفتے پاکستان میں بھارتی کاٹن یارن کی وسیع پیمانے پر درآمدات کے نتیجے میں روئی اورسوتی دھاگے کی قیمتوں میںمندی کا رجحان غالب رہا۔
پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن (پی سی جی اے) کے سابق ایگزیکٹو ممبر احسان الحق نے ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ بھارت کی جانب سے سوتی دھاگے کی برآمد پر 5فیصد اضافی مراعات کے اعلان کے بعد بھارتی کاٹن یارن ایکسپورٹرز نے پاکستان کو بڑے پیمانے پر سوتی دھاگے کی برآمد شروع کر دی ہے جس کے باعث پاکستان میں روئی اور سوتی دھاگے کی قیمتوں میں مسلسل مندی کا رجحان دیکھا جا رہا ہے انہوں نے بتایا کہ بھارت نے اپنی مقامی کاٹن انڈسٹری کے تحفظ کیلیے پاکستان سے سوتی دھاگے کی درآمد پر 25فیصد درآمدی ڈیوٹی عائد کر رکھی ہے اس لیے پی سی جی اے اور ٹیکسٹائل سپینگ سیکٹر نے حکومت پاکستان سے اپیل کی ہے کہ بھارت سے سوتی دھاگے کی درآمد پر کم از کم 10فیصد انٹی ڈیمپنگ ڈیوٹی عائد کی جائے تاکہ ملکی کاٹن انڈسٹری معاشی بحران سے بچ سکے۔انہوں نے بتایا کہ بھارت سے صرف پچھلے 3ماہ کے دوران 42لاکھ 21ہزار کلو گرام سوتی دھاگے درآمد کیا گیا ہے جبکہ پچھلے سال اسی عرصے کے دوران صرف 11لاکھ 50ہزار کلوگرام سوتی دھاگے درآمد کیا گیا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ رواں سال ملک بھر میں موسم سرما کے دورانیہ میں غیر معمولی اضافے کے باعث کپاس کی کاشت میں بھی 2سے 3ہفتوں کی تاخیر ہو سکتی ہے کیونکہ کپاس کی کاشت کیلیے مطلوبہ درجہ حرارت کی دستیابی تک کپاس کاشت کرنے کی صورت میں اس کا اگائو غیر معمولی متاثر ہو سکتا ہے ۔انہوں نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے کے دوران نیویارک کاٹن ایکس چینج میں حاضر ڈلیوری روئی کے سودے 3.50سینٹ فی پائونڈ اضافے کے ساتھ 97.55سینٹ فی پائونڈ، مئی ڈلیوری روئی کے سودے ریکارڈ 4.13سینٹ فی پائونڈ اضافے کے ساتھ 91.27سینٹ، بھارت میں روئی کی قیمتیں 711روپے فی کینڈی اضافے کے ساتھ 42ہزار 185روپے فی کینڈی،چین میں 440یو آن فی ٹن اضافے کے ساتھ 19ہزار 500یو آن فی ٹن، کراچی کاٹن ایکس چینج میں روئی کے اسپاٹ ریٹ بغیر کسی تبدیلی کے 6ہزار 850روپے فی من تک مستحکم رہے جبکہ ملک کے بیشتر شہروں میں روئی کی قیمتیں 7ہزار سے سات ہزار100روپے فی من تک دیکھی گئیں۔
انہوں نے بتایا کہ اطلاعات کے مطابق چین نے روئی کے نیشنل ریزروز کیلیے زمینداروں سے براہ راست روئی خریدنے کے بجائے ان کو سبسیڈی دینے بارے جس پالیسی کا اعلان کیا تھا اب معلوم ہوا ہے کہ زمینداروں کو سبسیڈی دینے کی پالیسی صرف ایک صوبے تک محدود کر دی گئی ہے جبکہ دیگر صوبوں سے زمینداروں سے روئی کی خریداری جاری رہے گی۔احسان الحق نے بتایا کہ پاکستانی ٹیکسٹائل ملز کی جانب سے 3,4ماہ قبل کیے جانے والے روئی کے درآمدی سودے جو کچھ عرصہ قبل واہگہ (لاہور) پہنچنا شروع ہوئے تھے، ان میں پاکستانی ٹیکسٹائل ملز مالکان کو کافی مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق مذکرہ درآمدی روئی کا معیار طے شدہ معیار سے کافی کم ہونے کے ساتھ ساتھ روئی کی بیلز کا وزن بھی کافی کم پایا جا رہا ہے جس کیلیے اپٹما نے ایک کمیٹی قائم کی ہے جو بھارتی روئی برآمدکنندگان کے ساتھ مذکورہ مسائل حل کرے گی تاہم معلوم ہو اہے کہ پاکستانی ٹیکسٹائل ملز مالکان نے بھارت کے ساتھ روئی کے یہ درآمدگی سودے 83/84 سینٹ فی پائونڈ طے کیے تھے لیکن اب روئی کی قیمتیں 90/91 سینٹ فی پائونڈ تک پہنچنے کے باعث بھارتی روئی برآمدکنندگان روئی کا معیار اور وزن کم کر رہے ہیں۔
پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن (پی سی جی اے) کے سابق ایگزیکٹو ممبر احسان الحق نے ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ بھارت کی جانب سے سوتی دھاگے کی برآمد پر 5فیصد اضافی مراعات کے اعلان کے بعد بھارتی کاٹن یارن ایکسپورٹرز نے پاکستان کو بڑے پیمانے پر سوتی دھاگے کی برآمد شروع کر دی ہے جس کے باعث پاکستان میں روئی اور سوتی دھاگے کی قیمتوں میں مسلسل مندی کا رجحان دیکھا جا رہا ہے انہوں نے بتایا کہ بھارت نے اپنی مقامی کاٹن انڈسٹری کے تحفظ کیلیے پاکستان سے سوتی دھاگے کی درآمد پر 25فیصد درآمدی ڈیوٹی عائد کر رکھی ہے اس لیے پی سی جی اے اور ٹیکسٹائل سپینگ سیکٹر نے حکومت پاکستان سے اپیل کی ہے کہ بھارت سے سوتی دھاگے کی درآمد پر کم از کم 10فیصد انٹی ڈیمپنگ ڈیوٹی عائد کی جائے تاکہ ملکی کاٹن انڈسٹری معاشی بحران سے بچ سکے۔انہوں نے بتایا کہ بھارت سے صرف پچھلے 3ماہ کے دوران 42لاکھ 21ہزار کلو گرام سوتی دھاگے درآمد کیا گیا ہے جبکہ پچھلے سال اسی عرصے کے دوران صرف 11لاکھ 50ہزار کلوگرام سوتی دھاگے درآمد کیا گیا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ رواں سال ملک بھر میں موسم سرما کے دورانیہ میں غیر معمولی اضافے کے باعث کپاس کی کاشت میں بھی 2سے 3ہفتوں کی تاخیر ہو سکتی ہے کیونکہ کپاس کی کاشت کیلیے مطلوبہ درجہ حرارت کی دستیابی تک کپاس کاشت کرنے کی صورت میں اس کا اگائو غیر معمولی متاثر ہو سکتا ہے ۔انہوں نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے کے دوران نیویارک کاٹن ایکس چینج میں حاضر ڈلیوری روئی کے سودے 3.50سینٹ فی پائونڈ اضافے کے ساتھ 97.55سینٹ فی پائونڈ، مئی ڈلیوری روئی کے سودے ریکارڈ 4.13سینٹ فی پائونڈ اضافے کے ساتھ 91.27سینٹ، بھارت میں روئی کی قیمتیں 711روپے فی کینڈی اضافے کے ساتھ 42ہزار 185روپے فی کینڈی،چین میں 440یو آن فی ٹن اضافے کے ساتھ 19ہزار 500یو آن فی ٹن، کراچی کاٹن ایکس چینج میں روئی کے اسپاٹ ریٹ بغیر کسی تبدیلی کے 6ہزار 850روپے فی من تک مستحکم رہے جبکہ ملک کے بیشتر شہروں میں روئی کی قیمتیں 7ہزار سے سات ہزار100روپے فی من تک دیکھی گئیں۔
انہوں نے بتایا کہ اطلاعات کے مطابق چین نے روئی کے نیشنل ریزروز کیلیے زمینداروں سے براہ راست روئی خریدنے کے بجائے ان کو سبسیڈی دینے بارے جس پالیسی کا اعلان کیا تھا اب معلوم ہوا ہے کہ زمینداروں کو سبسیڈی دینے کی پالیسی صرف ایک صوبے تک محدود کر دی گئی ہے جبکہ دیگر صوبوں سے زمینداروں سے روئی کی خریداری جاری رہے گی۔احسان الحق نے بتایا کہ پاکستانی ٹیکسٹائل ملز کی جانب سے 3,4ماہ قبل کیے جانے والے روئی کے درآمدی سودے جو کچھ عرصہ قبل واہگہ (لاہور) پہنچنا شروع ہوئے تھے، ان میں پاکستانی ٹیکسٹائل ملز مالکان کو کافی مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق مذکرہ درآمدی روئی کا معیار طے شدہ معیار سے کافی کم ہونے کے ساتھ ساتھ روئی کی بیلز کا وزن بھی کافی کم پایا جا رہا ہے جس کیلیے اپٹما نے ایک کمیٹی قائم کی ہے جو بھارتی روئی برآمدکنندگان کے ساتھ مذکورہ مسائل حل کرے گی تاہم معلوم ہو اہے کہ پاکستانی ٹیکسٹائل ملز مالکان نے بھارت کے ساتھ روئی کے یہ درآمدگی سودے 83/84 سینٹ فی پائونڈ طے کیے تھے لیکن اب روئی کی قیمتیں 90/91 سینٹ فی پائونڈ تک پہنچنے کے باعث بھارتی روئی برآمدکنندگان روئی کا معیار اور وزن کم کر رہے ہیں۔