صوبائی اعلیٰ تعلیمی کمیشن کا وجود خطرے سے دوچار

سیکریٹری تعلیم نے حکومت کوصوبائی ایچ ای سی ایکٹ میں تبدیلی تک اسے فعال نہ کرنے کا مشورہ دے دیا.

سیکریٹری تعلیم نے حکومت کوصوبائی ایچ ای سی ایکٹ میں تبدیلی تک اسے فعال نہ کرنے کا مشورہ دے دیا. فوٹو: فائل

سندھ کی سرکاری جامعات کو اکیڈمک بنیادوں پرکنٹرول کرنے اور انھیں فنڈزکی فراہمی کے لیے قائم ادارہ صوبائی اعلیٰ تعلیمی کمیشن عضو معطل بن کر وجود کے خطرے سے دوچار ہوگیا، صوبائی سیکریٹری تعلیم فضل اللہ پیچوہو ایچ ای سی سندھ کی فعالیت کی راہ میں رکاوٹ بن گئے ہیں۔


تفصیلات کے مطابق سندھ کے طاقتور بیوروکریٹ اورصوبائی سیکریٹری تعلیم فضل اللہ پیچوہو نے حکومت سندھ کے اعلیٰ سطحی اجلاس میں صوبائی ایچ ای سی کے ایکٹ میں تبدیلی اور درستگی تک حکومت کو اسے فعال نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے ایچ ای سی کے ایکٹ میں ترامیم تک اسے کام سے روکے رکھنے کی تجویز بھی دی گئی ہے جس کے بعد حکومت سندھ نے صوبائی اعلیٰ تعلیمی کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹرعاصم حسین کی بحیثیت سربراہ ایچ ای سی 4 سالہ مدت کے نوٹیفکیشن کااجرا اورایچ ای سی دفترکے قیام کا کام روک دیا ہے اس فیصلے کے سبب سندھ میں جداگانہ حیثیت سے صوبائی اعلیٰ تعلیمی کمیشن کے قیام کے بعد اس کے فعال ہونے کے امکانات معدوم ہوگئے ہیں اورسندھ کی جامعات کوصوبے ہی سے مالی اوراکیڈمک سطح پرکنٹرول کرنے کا منصوبہ دھرا رہ گیا ہے جبکہ ایچ ای سی سندھ کا مالی اور انتظامی ڈھانچہ بھی نہیں بن سکا ہے۔

''ایکسپریس''کومعلوم ہواہے کہ صوبائی سیکریٹری تعلیم فضل اللہ پیچوہونے ایک اجلاس میں حکومت سندھ کومشورہ دیا تھاکہ ایچ ای سی کا موجودہ ایکٹ کے تحت فعال ہوناممکن نہیں ہے اوراس کی بعض شقوں میں تبدیلی ناگزیر ہے اجلاس میں تجویز دی گئی تھی کہ صوبائی اعلیٰ تعلیمی کمیشن کوفی الحال فعال نہ کیاجائے اوراس کے ایکٹ میں تبدیلیاں کی جائیں سیکریٹری تعلیم کی رائے تھی کہ صوبائی ایچ ای سی کوضرورت سے زیادہ اختیارات دیے گئے ہیں سیکریٹری تعلیم فضل اللہ پیچوہوکی رائے سامنے آنے کے بعد حکومت سندھ نے صوبائی ایچ ای سی کو فعال کرنے اور اس کے دفترکے قیام کا معاملہ بھی روک دیا ہے جبکہ ڈاکٹرعاصم حسین کے بحیثیت چیئرمین صوبائی ایچ ای سی 4 سالہ مدت کا نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوسکا ہے یادرہے کہ ڈاکٹرعاصم حسین کوچیئرمین ایچ ای سی مقررکیے جانے سے قبل نوٹیفکیشن میں عہدے کی مدت ظاہر ہی نہیں کی گئی تھی نہ ہی اب تک ایچ ای سی کے لیے دفترکا انتظام ہوسکا ہے صوبائی ایچ ای سی کا انتظامی اور مالی ڈھانچہ بن سکا نہ ہی اسے کام شروع کرنے دیاگیا، چیئرمین ڈاکٹرعاصم حسین بھی شروع نہیں کرسکے۔
Load Next Story