ڈاؤ یونیورسٹی طلبا اور فیکلٹی ارکان کیلیے ریسرچ ڈے کا انعقاد
150 تحقیقات پیش کی گئیں،تحقیقی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا،ڈاکٹر ایس ایم رب
150 تحقیقات پیش کی گئیں،تحقیقی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا،ڈاکٹر ایس ایم رب۔ فوٹو: فائل
ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے ریسرچ ڈپارٹمنٹ نے اوجھا کیمپس میں میڈیکل اینڈ ڈینٹل کے طلبہ وطالبات اور فیکلٹی ارکان کے لیے پانچویں انٹریونیورسٹی ریسرچ ڈے کا انعقاد کیا جس میں کراچی سے متعدد یونیورسٹیوں کے طالب علموں نے حصہ لیا۔
اس کا مقصد طلبا اور فیکلٹی اراکین میں تحقیق کی سرگرمیوں کو فروغ دینا تھا، اس تقریب میں کراچی کے مختلف میڈیکل اور ڈینٹل کالجز اور یونیورسٹی میں سال2013-14 میں ہونے والی 150تحقیق کو پوسٹروںکی شکل میں آویزاں کیا گیا، اس موقع پر مہمان خصوصی پروفیسر سید ایس ایم رب، ڈائو یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر مسعود حمیدخان، ڈاکٹر عمر فاروق، ڈاکٹر جنید اشرف اور ڈاکٹر نذیر خان سمیت دیگر فیکلٹی ارکان نے شرکت کی، اس موقع پر پروفیسر سید ایس ایم رب نے طلبا کو تحقیقی سرگرمیوں میں حصہ لینے پر زور دیا،انھوں نے کہا کہ خوشی ہوئی کہ ڈائو یونیورسٹی تحقیق کرنے والے طلبا اور فیکلٹی ارکان کو گرانٹ فراہم کرتی ہے، پروفیسر مسعود نے بتایا کہ ڈائو یونیورسٹی کا ویژن تعلیمی معیارکو بلند کرنا ہے جبکہ ریسرچ ڈپارٹمنٹ بھی اسی مقصد کیلیے قائم کیا گیا ہے، نوجوان سائنسدان کا فرض ہے کہ وہ اپنے تحقیقی سرگرمیوں سے اپنے ملک کا نام روشن کریں، انھوں نے جیتنے والے طلبہ وطالبات اور فیکلٹی اراکین کو مبارکباد پیش کی۔
اس کا مقصد طلبا اور فیکلٹی اراکین میں تحقیق کی سرگرمیوں کو فروغ دینا تھا، اس تقریب میں کراچی کے مختلف میڈیکل اور ڈینٹل کالجز اور یونیورسٹی میں سال2013-14 میں ہونے والی 150تحقیق کو پوسٹروںکی شکل میں آویزاں کیا گیا، اس موقع پر مہمان خصوصی پروفیسر سید ایس ایم رب، ڈائو یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر مسعود حمیدخان، ڈاکٹر عمر فاروق، ڈاکٹر جنید اشرف اور ڈاکٹر نذیر خان سمیت دیگر فیکلٹی ارکان نے شرکت کی، اس موقع پر پروفیسر سید ایس ایم رب نے طلبا کو تحقیقی سرگرمیوں میں حصہ لینے پر زور دیا،انھوں نے کہا کہ خوشی ہوئی کہ ڈائو یونیورسٹی تحقیق کرنے والے طلبا اور فیکلٹی ارکان کو گرانٹ فراہم کرتی ہے، پروفیسر مسعود نے بتایا کہ ڈائو یونیورسٹی کا ویژن تعلیمی معیارکو بلند کرنا ہے جبکہ ریسرچ ڈپارٹمنٹ بھی اسی مقصد کیلیے قائم کیا گیا ہے، نوجوان سائنسدان کا فرض ہے کہ وہ اپنے تحقیقی سرگرمیوں سے اپنے ملک کا نام روشن کریں، انھوں نے جیتنے والے طلبہ وطالبات اور فیکلٹی اراکین کو مبارکباد پیش کی۔