مذاکرات کے نام پر ملک دشمنوں کو تقویت دی جا رہی ہے رضا ربانی
نوازشریف میں قوت فیصلہ نہیں، کبھی ڈائیلاگ، کبھی آپریشن کی پالیسی ملک کیلیے نقصان دہ ہے
ایسے مذاکرات کو مسترد کرتے ہیں، ورکرز رجسٹریشن مہم کے آغاز پر تقریب سے خطاب. فوٹو: فائل
پیپلز پارٹی کے ڈپٹی جنرل سیکریٹری سینیٹر رضا ربانی نے کہا ہے کہ نوازشریف میں قوت فیصلہ نہیں ہے،کبھی ڈائیلاگ اورکبھی آپریشن کی پالیسی ملک وقوم کے لیے نقصان دہ ہے۔
مذاکرات کے نام پر ملک دشمنوں کو تقویت دی جا رہی ہے، نظریاتی کارکن پارٹی کا اثاثہ ہیں، پارٹی میں فصلی بٹیروں اورسلطانی گواہوں کی کوئی جگہ نہیں۔ وہ اتوارکو پیپلز پارٹی کراچی ڈویژن کے زیر اہتمام کراچی میں ورکرز رجسٹریشن مہم کے آغاز کی تقریب سے خطاب کررہے تھے۔ ورکرز رجسٹریشن کا پہلا فارم سیینٹر رضا ربانی نے بھرا، جس کے بعد قادر پٹیل، نجمی عالم، وقار مہدی، راشد ربانی، سیینٹر سعید غنی، جاوید ناگوری، فرید انصاری، فرزانہ بلوچ نے فارم بھرے۔ رضا ربانی نے کہ حکومت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ناکام ہو چکی ہے اور ہمارے وزیر اعظم میں اتنی بھی اخلاقی جرات نہیں کہ وہ دہشت گردوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرسکیں۔
انھوں نے اس جنگ سے بچنے کے لیے مذاکرات شروع کر کے پاکستان کے شہریوں کے مسائل میں اضافہ کردیا ہے کیونکہ جو لوگ ملکی آئین کو تسلیم نہیں کرتے وہ کسی رعایت کے حق دار نہیں۔ انھوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے عوام سے ووٹ ملک میں دہشت کے خاتمے کے لیے لیا تھا، آج مذاکرات کے نام پر ملک دشمن عناصر کو تقویت دی جارہی ہے، ہم ایسے مذاکرات کو مسترد کرتے ہیں، ہمیں چوہدی نثار کا وہ بیان یاد ہے جب انھوں نے کہا تھا کہ ایک سال میں دہشت گردی ختم نہ کر سکا تو استعفیٰ دے دوں گا۔ ورکرز ڈیٹا رجسٹریشن ہفتے میں 3 دن جمعہ ، ہفتہ ، اتوار کو پیپلز سیکریٹریٹ میں ہوگی، مہم 27اپریل تک جاری رہے گی۔
مذاکرات کے نام پر ملک دشمنوں کو تقویت دی جا رہی ہے، نظریاتی کارکن پارٹی کا اثاثہ ہیں، پارٹی میں فصلی بٹیروں اورسلطانی گواہوں کی کوئی جگہ نہیں۔ وہ اتوارکو پیپلز پارٹی کراچی ڈویژن کے زیر اہتمام کراچی میں ورکرز رجسٹریشن مہم کے آغاز کی تقریب سے خطاب کررہے تھے۔ ورکرز رجسٹریشن کا پہلا فارم سیینٹر رضا ربانی نے بھرا، جس کے بعد قادر پٹیل، نجمی عالم، وقار مہدی، راشد ربانی، سیینٹر سعید غنی، جاوید ناگوری، فرید انصاری، فرزانہ بلوچ نے فارم بھرے۔ رضا ربانی نے کہ حکومت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ناکام ہو چکی ہے اور ہمارے وزیر اعظم میں اتنی بھی اخلاقی جرات نہیں کہ وہ دہشت گردوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرسکیں۔
انھوں نے اس جنگ سے بچنے کے لیے مذاکرات شروع کر کے پاکستان کے شہریوں کے مسائل میں اضافہ کردیا ہے کیونکہ جو لوگ ملکی آئین کو تسلیم نہیں کرتے وہ کسی رعایت کے حق دار نہیں۔ انھوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے عوام سے ووٹ ملک میں دہشت کے خاتمے کے لیے لیا تھا، آج مذاکرات کے نام پر ملک دشمن عناصر کو تقویت دی جارہی ہے، ہم ایسے مذاکرات کو مسترد کرتے ہیں، ہمیں چوہدی نثار کا وہ بیان یاد ہے جب انھوں نے کہا تھا کہ ایک سال میں دہشت گردی ختم نہ کر سکا تو استعفیٰ دے دوں گا۔ ورکرز ڈیٹا رجسٹریشن ہفتے میں 3 دن جمعہ ، ہفتہ ، اتوار کو پیپلز سیکریٹریٹ میں ہوگی، مہم 27اپریل تک جاری رہے گی۔