امریکا دہشت گردی کیخلاف جنگ کے واجبات ادا کرے اسحق ڈار

موجودہ حکومت کی ڈھانچہ جاتی اصلاحات کے مثبت نتائج آنا شروع ہوگئے ہیں،وزیرخزانہ

ہالینڈ کے سرمایہ کاروں کو مکمل معاونت اور سہولتیں فراہم کرینگے،ڈچ نائب وزیر سے گفتگو،ہالینڈ کی سیلاب سے نمٹنے اور نکاسی آب کے منصوبوں میں معاونت کی پیشکش فوٹو: فائل

وفاقی وزیر خزانہ اسحق ڈار نے امریکا سے درخواست کی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے واجبات ادا کیے جائیں۔


پیر کو امریکی سفارتخانے کے ناظم الامور تھامس ویلیم سے گفتگو میں انھوں نے کہا کہ رواں مالی سال کے پہلے 8 ماہ کے دوران معاشی صورتحال میں بہتری آئی ہے۔ امریکی ناظم الامور نے یقین دہانی کرائی کہ پاکستان کے واجبات کی ادائیگی تیز تر کی جائے گی۔ اسحاق ڈار نے انھیں بتایا کہ موجودہ حکومت کی جانب سے گزشتہ2ماہ کے دوران کی گئی ڈھانچہ جاتی اصلاحات کے مثبت نتائج آنا شروع ہو گئے ہیں، تمام معاشی اشاریے ہمارے اندازوں کے مطابق اور بعض شعبوں میں اس سے بھی بہتر ہیں۔ آج پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر نسبتاً مستحکم ہیں اور اسٹاک مارکیٹ میں تیزی حکومتی پالیسیوں پر تاجروں کے اعتماد کی عکاس ہے۔ اس مرحلے پر امریکا کو کولیشن سپورٹ فنڈز کی مد میں پاکستان کو ادائیگیوں کا عمل تیزکرنے کی ضرورت ہے۔ امریکی سفارتخانے کے ناظم الامور نے وزیرخزانہ کو یقین دہانی کرائی کہ امریکا پاکستان کے ساتھ شراکت داری برقرار رکھتے ہوئے خطے میں امن و استحکام کے لیے کام جاری رکھے گا۔

ہالینڈ کے نائب وزیر تجارت سمن سمٹس سے بات چیت میں وزیرخزانہ نے کہاکہ پاکستانی معیشت کے مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع ہیں، موجودہ حکومت ہالینڈ کے سرمایہ کاروں کو مکمل معاونت اور سہولتیں فراہم کرے گی۔ اس موقع پر ہالینڈ کے نائب وزیر تجارت نے بتایا کہ ان کا ملک پاکستان کے ساتھ تجارتی اور اقتصادی شراکت داری کا خواہاں ہے۔ ہالینڈ کی کمپنیاں پاکستان میں اپنے کاروبار کو وسعت دینا چاہتی ہیں۔ انھوں نے سیلاب کی صورتحال سے نمٹنے اور نکاسی آب کے منصوبوں میں معاونت کی پیشکش بھی کی اور کہا کہ ان کی حکومت ہیگ میں 24سے25مارچ تک نیوکلیئر سیکیورٹی سمٹ میں شرکت کے سلسلے میں وزیراعظم نواز شریف کے دورے کی منتظر ہے۔ وزارت خزانہ میں پاکستان ایسوسی ایشن آف آٹو موٹیوز پارٹس ایسسریز مینوفیکچررز کے نمائندوں کے ساتھ ملاقات میں اسحاق ڈار نے کہا کہ حکومت مقامی آٹو موبائل کے شعبے کی ترقی کی لیے ہرممکن اقدامات کرے گی، ہم نے ایک نئی موٹر سائیکل پالیسی دی ہے اور جلد آٹو موبائل شعبے کے لیے بھی ایک پالیسی تیار کرینگے۔

Recommended Stories

Load Next Story