حیدرآباد سندھ یونیورسٹی کی طالبہ اور طالبعلم کا پراسرار قتل گاڑی سے لاشیں ملیں

ہوسکتا ہے کہ کار کی سی این جی لیک ہوجانے کی وجہ سے دونوں کی ہلاکت ہوئی ہو، پولیس

ہوسکتا ہے کہ کار کی سی این جی لیک ہوجانے کی وجہ سے دونوں کی ہلاکت ہوئی ہو، پولیس فوٹو : فائل

قاسم آباد کے قریب سندھ یونیورسٹی کے طالبعلم اور طالبہ پراسرار طور پر مردہ پائے گئے۔


جن کی لاشیں سول اسپتال حیدرآباد پہنچائی گئیں۔ تھانہ بھٹائی نگر کی حد جیجل اسپتال کے قریب فرید اسکوائر کے گیراج میں کھڑی کار میں 24 سالہ نوجوان عابد علی انصاری اور22 سالہ لڑکی سیدہ کنول کی لاشیں برآمد ہوئیں۔ عابد انصاری کے بھائی ڈاکٹر زاہد انصاری مذکورہ پلازہ میں رہائش پذیر ہیں، ان کے ملازم حبیب اللہ کا کہنا ہے کہ دونوں دن 12 بجے وہاں آئے اور اس کو کہا کہ وہ گیراج کا شٹر گرا کر چلا جائے اور جب اسے فون کریں تو واپس آکر گیٹ کھول دے۔

تاہم جب 8 گھنٹے بعد جب ملازم نے گیراج کا شٹر اٹھایا تودونوں مردہ حالت میں کار میں پڑے تھے جبکہ کار کے شیشے بھی بند تھے، پولیس کے مطابق کار عابد انصاری کی تھی اور ہوسکتا ہے کہ کار کی سی این جی لیک ہوجانے کی وجہ سے دونوں کی ہلاکت ہوئی ہو ۔ پولیس کے مطابق لڑکی سیدہ کنول بنت سلامت علی ہاشمی لطیف آباد کی رہائشی تھی جبکہ لڑکا عابد انصاری اصل نیوہالا کے رہائشی تھے اور سندھ یونیورسٹی میں زیر تعلیم تھے۔
Load Next Story