تھر کے عوام حکومتی ایکشن کے منتظر
تھر سانحے سے سب کی آنکھیں کھل جانی چاہئیں، اگر پیشگی اقدامات کیے جاتے تو یہ سب کچھ نہ ہوتا
سر چارلس نیپئر کے دور کا ’’ایسٹرن سندھ فرنٹیر‘‘ آج کا صحرائے تھر کہلاتا ہے، اس کو اس کی وسعت اور تاریخ کے تناسب سے مقام ملنا چاہیے۔ فوٹو:آئی این پی
ضلع تھرپارکر سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق خشک سالی اور بیماریوں سے متاثرہ صحرا نشینوں کی بحالی اور فوری امداد ی سرگرمیوں میں تیزی آرہی ہے ، متعدد ریلیف ٹیمیں اور میڈیکل دستے موقعے پر پہنچ گئے ہیں جب کہ گندم کی تقسیم اور بیمار بچوں کے علاج معالجے کے لیے وزیراعلیٰ سید قائم علی شاہ نے فوری اقدامات کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔ صورتحال میں بہتری کے آثار نظر آنے لگے ہیں اور ہونا بھی یہی چاہیے ۔تھر سانحے سے سب کی آنکھیں کھل جانی چاہئیں، اگر پیشگی اقدامات کیے جاتے تو یہ سب کچھ نہ ہوتا ۔ وزیراعظم میاں نوازشریف نے گزشتہ روز متاثرین کو یقین دلایا کہ وفاق اور سندھ حکومت میں آیندہ بھی رابطہ رہے گا، تھرپارکر میں خشک سالی سے متاثرہ افراد کی ہر ممکن مدد کی جائے گی۔
انھوں نے متاثرہ افراد کو اشیائے خوردنی اور پینے کے پانی کی جلد فراہمی کو یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے بنیادی سبب کی نشاندہی کے بعد مستقبل میں تھرپارکر میں خشک سالی سے بچنے کے لیے مناسب حکمت عملی اور منصوبہ بندی کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ حقیقت یہ ہے کہ تھرپارکر میں غذائی قلت قدرتی حادثہ ہے مگر بیماریوں کی روک تھام تو مشکل نہیں تھی بشرطیکہ اس طرف کسی کا دھیان بھی جاتا۔ارباب اختیار اس حقیقت پر مزید توجہ دیں کہ تھر محض ایک بے آب و گیاہ میدان اور دشت وجبل کا اسپاٹ منظر نامہ یا کینویس نہیں ہے ، یہاں جفاکش اور مفلوک الحال انسان دکھوں سے اپنی خوشیاں کشید کرتے ہیں، شہری کلچر سے دور تھر کا اپنا ایک تہذیبی تناظر ہے، تھری عورتیں اگر نامحرموں کے سامنے گھونگھٹ نہیں اٹھاتیں تویہی حیا ان کا گہنا اور منفرد شناخت ہے ۔مفلسی میں بھی ان کی حس لطافت نہیں مٹ سکی، وزیراعلیٰ نے کہا کہ مشکل وقت میں تعاون پر وزیراعظم کے شکرگزار ہیں۔
تاہم ضرورت اب انتظامی اوورہالنگ کی ہے، یہ مستحسن اقدام ہے کہ صحافیوں اور مقامی افراد پر مشتمل6رکنی کمیٹی امدادی سامان کی تقسیم کی نگرانی کرے گی ، خاتون ڈاکٹروں کی کمی دور ہونی چاہیے بتایا گیا ہے کہ جو خواتین ڈاکٹر تھر میں کام کرنا چاہتی ہیں انھیں دگنی تنخواہ، مراعات، رہائش اور ٹرانسپورٹ کی سہولتیں مہیا کی جائیں گی، ادھر ڈپٹی کمشنر تھرپارکر نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ سندھ حکومت نے تھرپارکر کی چھ تحصیلوں کے مکینوں میں گندم کے ایک لاکھ 25 ہزار تھیلے تقسیم کیے ہیں ۔ جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین میں دو دو لاکھ روپے تقسیم ہوں گے ، 45 لاکھ جانوروں میں سے بھیڑیں زیادہ متاثر ہوئی ہیں ۔وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر گزشتہ روز تھر کے قحط زدگان کے لیے امدادی سامان کی دوسری کھیپ روانہ کی گئی جس میں 5200 فوڈ ہیمپرز اور 16500 منرل واٹر بوتلیں شامل ہیں جو 15 ٹرکوں کے ذریعے روانہ کی گئیں ۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پرویزخٹک کی ہدایت پر 10کروڑ روپے کی نقد امداد دیے اور ساتھ ہی قحط کے متاثرین کے لیے غذائی سامان لے کر پندرہ ٹرکوں کا پہلا امدادی قافلہ میرپور خاص پہنچ گیا۔ جنرل سیکریٹری پی پی پی اور وزیراعلیٰ سندھ کے کوآرڈینیٹر تاج حیدر کے مطابق پچھلے 3 دن کے دوران ضلع تھرپارکر میں گندم کی 16800 بوریاں متاثرین میں تقسیم کی جاچکی ہیں ۔ حکومت سندھ نے متاثرین تھر پارکر کی امداد کے لیے65 کروڑ روپے کے فنڈ ہنگامی بنیاد پر جاری کردیے، صوبائی محکمہ خزانہ نے 65 کروڑ روپے میں سے 36کروڑ روپے ریلیف کمشنر کو جاری کیے ہیں، ان میں سے31 کروڑ روپے خوراک اور 5 کروڑ روپے ٹرانسپورٹیشن کی مد میں جب کہ20 کروڑ روپے پراونشل ڈزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے ) کوجاری کیے گئے ہیں۔ٹرانسپورٹیشن اور صحت مراکز کے شعبے میں بہتری ناگزیر ہے۔سڑکوں کا نیٹ ورک جلد سے جلد مکمل کیا جائے، تھر کے بچوں کے لیے تفریحات مہیا ہونی چاہئیں۔
امید کی جانی چاہیے کہ اسی رفتار سے امدادی کام مکمل ہوئے تو متاثرہ خاندان اور بیمار بچے جلد صحتیاب ہوکر معمول کی زندگی گزارنے کے قابل ہوجائیں گے۔ صحرائے تھر دنیا کا 9 واں بڑا صحرا ہے جب کہ کوئلے کے ذخائر اور دیگر پوشیدہ معدنی دولت تھر کا سب سے اہم معاشی استعارہ ہیں ۔ اسی تھر کے صحرا میں 30 نومبر تا دسمبر 2012-13 کو تھر ڈیزرٹ چیلنج کے تحت فیسٹیول ہوا ،تقریبات منعقد کی گئیں اور موٹر شوز ، ریس اور اسپورٹس کے مقابلے ہوئے جہاں منصوبہ بندی کے تحت دبئی قطر اور یو اے ای کی طرح صحرائی گیمز متعارف کیے جاسکتے ہیں ۔ سندھ حکومت نئے ترقیاتی پروجیکٹ منظور کرکے تھری عوام کو جدید سہولتوں سے فیضیاب کراسکتی ہے ۔ میڈیا اس ضمن میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے ۔ لہٰذا قحط اور خشک سالی سے پیدا ہونے والی افسوسناک صورت حال کی ساری ذمے داری سرکاری افسران پر ڈالنے کی بجائے سانحے کی اجتماعی ذمے داری سب قبول کریں اور آگے بڑھیں۔
اب ضرورت تھر کے عوام کو بہتر سہولتوں کی فراہمی کے مستقل انتظامی میکنزم کی ہے، وہاں کی آبادی کا 70 فیصد ہندو آبادی پر مشتمل ہے، اس اقلیت کو پاکستانی ہونے کا بینیفٹ ملنا چاہیے، ان کی محرومیاں دور کرنے کے لیے ضلعی انتظامیہ کوفعال اور شفاف انتظامی ڈھانچہ تیار کرنا چاہیے۔ سر چارلس نیپئر کے دور کا ''ایسٹرن سندھ فرنٹیر'' آج کا صحرائے تھر کہلاتا ہے، اس کو اس کی وسعت اور تاریخ کے تناسب سے مقام ملنا چاہیے۔ بہت سارا وقت بلیم گیم میں ضایع ہوچکا ،آیندہ ہونے والے نقصانات کے امکانات کو ختم کرنے کا سوچیں، وزیرخوراک جام مہتاب ڈاھر ، وزیر ریلیف مخدوم جمیل الزماں اور وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ جن کے پاس صحت کا قلمدان بھی ہے تھر میں صحت کی بنیادی سہولتوں کی فراہمی کو یقینی بنائیں ۔ صوبائی وزیر بحالی مخدوم جمیل الزمان نے خبردار کیا ہے کہ تھر میں گرمیوں کا موسم بہت خطرناک ہوگا جس کے لیے ابھی سے ٹھوس منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔
انھوں نے متاثرہ افراد کو اشیائے خوردنی اور پینے کے پانی کی جلد فراہمی کو یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے بنیادی سبب کی نشاندہی کے بعد مستقبل میں تھرپارکر میں خشک سالی سے بچنے کے لیے مناسب حکمت عملی اور منصوبہ بندی کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ حقیقت یہ ہے کہ تھرپارکر میں غذائی قلت قدرتی حادثہ ہے مگر بیماریوں کی روک تھام تو مشکل نہیں تھی بشرطیکہ اس طرف کسی کا دھیان بھی جاتا۔ارباب اختیار اس حقیقت پر مزید توجہ دیں کہ تھر محض ایک بے آب و گیاہ میدان اور دشت وجبل کا اسپاٹ منظر نامہ یا کینویس نہیں ہے ، یہاں جفاکش اور مفلوک الحال انسان دکھوں سے اپنی خوشیاں کشید کرتے ہیں، شہری کلچر سے دور تھر کا اپنا ایک تہذیبی تناظر ہے، تھری عورتیں اگر نامحرموں کے سامنے گھونگھٹ نہیں اٹھاتیں تویہی حیا ان کا گہنا اور منفرد شناخت ہے ۔مفلسی میں بھی ان کی حس لطافت نہیں مٹ سکی، وزیراعلیٰ نے کہا کہ مشکل وقت میں تعاون پر وزیراعظم کے شکرگزار ہیں۔
تاہم ضرورت اب انتظامی اوورہالنگ کی ہے، یہ مستحسن اقدام ہے کہ صحافیوں اور مقامی افراد پر مشتمل6رکنی کمیٹی امدادی سامان کی تقسیم کی نگرانی کرے گی ، خاتون ڈاکٹروں کی کمی دور ہونی چاہیے بتایا گیا ہے کہ جو خواتین ڈاکٹر تھر میں کام کرنا چاہتی ہیں انھیں دگنی تنخواہ، مراعات، رہائش اور ٹرانسپورٹ کی سہولتیں مہیا کی جائیں گی، ادھر ڈپٹی کمشنر تھرپارکر نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ سندھ حکومت نے تھرپارکر کی چھ تحصیلوں کے مکینوں میں گندم کے ایک لاکھ 25 ہزار تھیلے تقسیم کیے ہیں ۔ جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین میں دو دو لاکھ روپے تقسیم ہوں گے ، 45 لاکھ جانوروں میں سے بھیڑیں زیادہ متاثر ہوئی ہیں ۔وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر گزشتہ روز تھر کے قحط زدگان کے لیے امدادی سامان کی دوسری کھیپ روانہ کی گئی جس میں 5200 فوڈ ہیمپرز اور 16500 منرل واٹر بوتلیں شامل ہیں جو 15 ٹرکوں کے ذریعے روانہ کی گئیں ۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پرویزخٹک کی ہدایت پر 10کروڑ روپے کی نقد امداد دیے اور ساتھ ہی قحط کے متاثرین کے لیے غذائی سامان لے کر پندرہ ٹرکوں کا پہلا امدادی قافلہ میرپور خاص پہنچ گیا۔ جنرل سیکریٹری پی پی پی اور وزیراعلیٰ سندھ کے کوآرڈینیٹر تاج حیدر کے مطابق پچھلے 3 دن کے دوران ضلع تھرپارکر میں گندم کی 16800 بوریاں متاثرین میں تقسیم کی جاچکی ہیں ۔ حکومت سندھ نے متاثرین تھر پارکر کی امداد کے لیے65 کروڑ روپے کے فنڈ ہنگامی بنیاد پر جاری کردیے، صوبائی محکمہ خزانہ نے 65 کروڑ روپے میں سے 36کروڑ روپے ریلیف کمشنر کو جاری کیے ہیں، ان میں سے31 کروڑ روپے خوراک اور 5 کروڑ روپے ٹرانسپورٹیشن کی مد میں جب کہ20 کروڑ روپے پراونشل ڈزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے ) کوجاری کیے گئے ہیں۔ٹرانسپورٹیشن اور صحت مراکز کے شعبے میں بہتری ناگزیر ہے۔سڑکوں کا نیٹ ورک جلد سے جلد مکمل کیا جائے، تھر کے بچوں کے لیے تفریحات مہیا ہونی چاہئیں۔
امید کی جانی چاہیے کہ اسی رفتار سے امدادی کام مکمل ہوئے تو متاثرہ خاندان اور بیمار بچے جلد صحتیاب ہوکر معمول کی زندگی گزارنے کے قابل ہوجائیں گے۔ صحرائے تھر دنیا کا 9 واں بڑا صحرا ہے جب کہ کوئلے کے ذخائر اور دیگر پوشیدہ معدنی دولت تھر کا سب سے اہم معاشی استعارہ ہیں ۔ اسی تھر کے صحرا میں 30 نومبر تا دسمبر 2012-13 کو تھر ڈیزرٹ چیلنج کے تحت فیسٹیول ہوا ،تقریبات منعقد کی گئیں اور موٹر شوز ، ریس اور اسپورٹس کے مقابلے ہوئے جہاں منصوبہ بندی کے تحت دبئی قطر اور یو اے ای کی طرح صحرائی گیمز متعارف کیے جاسکتے ہیں ۔ سندھ حکومت نئے ترقیاتی پروجیکٹ منظور کرکے تھری عوام کو جدید سہولتوں سے فیضیاب کراسکتی ہے ۔ میڈیا اس ضمن میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے ۔ لہٰذا قحط اور خشک سالی سے پیدا ہونے والی افسوسناک صورت حال کی ساری ذمے داری سرکاری افسران پر ڈالنے کی بجائے سانحے کی اجتماعی ذمے داری سب قبول کریں اور آگے بڑھیں۔
اب ضرورت تھر کے عوام کو بہتر سہولتوں کی فراہمی کے مستقل انتظامی میکنزم کی ہے، وہاں کی آبادی کا 70 فیصد ہندو آبادی پر مشتمل ہے، اس اقلیت کو پاکستانی ہونے کا بینیفٹ ملنا چاہیے، ان کی محرومیاں دور کرنے کے لیے ضلعی انتظامیہ کوفعال اور شفاف انتظامی ڈھانچہ تیار کرنا چاہیے۔ سر چارلس نیپئر کے دور کا ''ایسٹرن سندھ فرنٹیر'' آج کا صحرائے تھر کہلاتا ہے، اس کو اس کی وسعت اور تاریخ کے تناسب سے مقام ملنا چاہیے۔ بہت سارا وقت بلیم گیم میں ضایع ہوچکا ،آیندہ ہونے والے نقصانات کے امکانات کو ختم کرنے کا سوچیں، وزیرخوراک جام مہتاب ڈاھر ، وزیر ریلیف مخدوم جمیل الزماں اور وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ جن کے پاس صحت کا قلمدان بھی ہے تھر میں صحت کی بنیادی سہولتوں کی فراہمی کو یقینی بنائیں ۔ صوبائی وزیر بحالی مخدوم جمیل الزمان نے خبردار کیا ہے کہ تھر میں گرمیوں کا موسم بہت خطرناک ہوگا جس کے لیے ابھی سے ٹھوس منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔