ترقیاتی منصوبے اور حکومت کی ذمے داری
حکومت نے جو رقوم جاری کی ہیں‘ اب ضرورت انھیں ایمانداری سے خرچ کرنے کی ہے۔
مالی سال2013-14ء کے لیے مختلف منصوبوں کے لیے ترقیاتی فنڈز پی ایس ڈی پی کے تحت 1 کھرب 91 ارب 85 کروڑ34 لاکھ روپے سے زائد کے فنڈز جاری کردیے ہیں۔فوٹو:فائل
وزارت منصوبہ بندی و ترقی نے مالی سال2013-14ء کے لیے مختلف منصوبوں کے لیے ترقیاتی فنڈز پی ایس ڈی پی کے تحت 1 کھرب 91 ارب 85 کروڑ34 لاکھ روپے سے زائد کے فنڈز جاری کردیے ہیں۔ وزارت منصوبہ بندی کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق موجودہ مالی سال میں ادارہ برائے بحالی قدرتی آفات و زلزلہ متاثرین کے لیے مختص رقم 10 ارب روپے میں سے 6 ارب 32 کروڑ 90لاکھ روپے جاری کیے گئے جب کہ سیفران/فاٹا کے لیے11ارب3کروڑ10لاکھ روپے جاری کیے گئے ہیں۔ حکومت نے گلگت بلتستان کے لیے4ارب50کروڑ22لاکھ روپے' واپڈا کے لیے38ارب10کروڑ21لاکھ روپے جب کہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے لیے مالی سال کے لیے مختص رقم 63 ارب3کروڑ86لاکھ روپے میں 25ارب60کروڑ69لاکھ روپے جاری کیے ہیں۔ ریلوے ڈویژن کے لیے12 ارب6کروڑ38لاکھ روپے۔ہائی ایجوکیشن کمیشن کے لیے مختص رقم 18 ارب49کروڑ روپے میں سے 7ارب 59 کروڑ 60لاکھ روپے جاری کیے۔ حکومت نے مالی سال 2013-14کے لیے پورے ملک میں صحت کی سہولیات کے لیے مختص رقم 25 ارب 73کروڑ91لاکھ روپے میں سے13ارب 25کروڑ52لاکھ روپے جاری کیے ہیں۔
حکومت نے جو رقوم جاری کی ہیں' اب ضرورت انھیں ایمانداری سے خرچ کرنے کی ہے۔ ہمارے ہاں دیکھنے میں آیا ہے کہ اول تو وسائل کی کمی ہوتی ہے۔ اگر کسی طریقے سے وسائل اکٹھے کر لیے جائیں تو انھیں درست طریقے سے خرچ نہیں کیا جاتا۔ قدرتی آفات اور زلزلہ متاثرین کی صورت حال سب کے سامنے ہے' اب حکومت نے جو فنڈز جاری کیے ہیں' اگر انھیں ہی مناسب طریقے اور ایمانداری سے خرچ کر دیا جائے تو صورت حال میں بہت تبدیلی آ سکتی ہے۔ ہماری انتظامی مشینری کی حالت تو یہ ہے کہ سیلاب ہر سال آتے ہیں اور ہر سال تباہی مچاتے ہیں لیکن سیلاب سے بچاؤ کے اقدامات اس وقت کیے جاتے ہیں' جب مصیبت سر پر آ جاتی ہے۔زلزلے سے بچاؤ کے لیے ابھی تک کوئی میکنزم سامنے نہیں آیا ہے۔ صحرائے تھر میں آنے والا قحط اس رویے یا پالیسی کی زندہ مثال ہے۔ ماحولیاتی تبدیلی ڈویژن کے لیے3کروڑ روپے جاری کیے گئے ہیں' یہ انتہائی قلیل رقم ہے۔ پاکستان اس وقت شدید ماحولیاتی آلودگی کا شکار ہے۔ ایک جانب جنگلات کم ہو رہے ہیں تو دوسری جانب صنعتی آلودگی میں اضافہ ہوا ہے۔زیر زمین پانی بھی آلودہ ہے۔ ایک خبر کے مطابق حکومتی اداروں کی ناقص پلاننگ' فنڈز کی کمی اور آبادی میں اضافے کے باعث جنگلات کے رقبے میں سالانہ 39ہزار ایکڑ کی کمی ہو رہی ہے' میگا پراجیکٹ کے تحت پنجاب سمیت ملک بھر میں 1فیصد جنگلات بڑھانے کا منصوبہ کامیاب نہیں ہو سکا۔
ماہرین کے مابق اگر موجودہ شرح سے جنگلات میں کمی کا عمل جاری رہا تو آیندہ 30سال تک جنگلات کا رقبہ برائے نام رہ جائے گا۔پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں جنگلات پہلے ہی کم ہیں۔اگر اس میں مزید کمی جاری رہی تو پاکستان بدترین قدرتی آفات کا شکار ہوتا رہے گا۔ اسی طرح صحت کے شعبے کے لیے بھی زیادہ فنڈز کی ضرورت ہے۔ پاکستان میں اچھے ڈاکٹروں اور اسپتالوں کی بہت کمی ہے۔ مریضوں کے لیے مفت ادویات کی فراہمی بھی محدود سطح پر ہے اسے بڑھایا جانا چاہیے۔ تعلیم کے شعبے کے لیے بھی زیادہ رقم مختص کی جائے۔ حکومت کو تعلیم کے شعبے پر حد درجہ زیادہ توجہ دینی چاہیے کیونکہ تعلیم کے بغیر ملک ترقی نہیں کر سکتا۔ تعلیم کی جانب ہماری حکومتوں اور بیوروکریسی کا رویہ انتہائی بے حسی پر مبنی ہوتا ہے۔ یہ بھی سننے میں آیا ہے کہ بیرون ملک تعلیم کے لیے جو وظائف مقرر ہوتے ہیں وہ بھی ضایع ہو جاتے ہیں۔اگر یہ سچ ہے تواس رویے کو تبدیل کیا جانا چاہیے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتیں آئین میں درج اپنی ذمے داریوں کو احسن طریقے سے پورا کریں تو کوئی وجہ نہیں ملک ترقی نہ کر سکے۔
حکومت نے جو رقوم جاری کی ہیں' اب ضرورت انھیں ایمانداری سے خرچ کرنے کی ہے۔ ہمارے ہاں دیکھنے میں آیا ہے کہ اول تو وسائل کی کمی ہوتی ہے۔ اگر کسی طریقے سے وسائل اکٹھے کر لیے جائیں تو انھیں درست طریقے سے خرچ نہیں کیا جاتا۔ قدرتی آفات اور زلزلہ متاثرین کی صورت حال سب کے سامنے ہے' اب حکومت نے جو فنڈز جاری کیے ہیں' اگر انھیں ہی مناسب طریقے اور ایمانداری سے خرچ کر دیا جائے تو صورت حال میں بہت تبدیلی آ سکتی ہے۔ ہماری انتظامی مشینری کی حالت تو یہ ہے کہ سیلاب ہر سال آتے ہیں اور ہر سال تباہی مچاتے ہیں لیکن سیلاب سے بچاؤ کے اقدامات اس وقت کیے جاتے ہیں' جب مصیبت سر پر آ جاتی ہے۔زلزلے سے بچاؤ کے لیے ابھی تک کوئی میکنزم سامنے نہیں آیا ہے۔ صحرائے تھر میں آنے والا قحط اس رویے یا پالیسی کی زندہ مثال ہے۔ ماحولیاتی تبدیلی ڈویژن کے لیے3کروڑ روپے جاری کیے گئے ہیں' یہ انتہائی قلیل رقم ہے۔ پاکستان اس وقت شدید ماحولیاتی آلودگی کا شکار ہے۔ ایک جانب جنگلات کم ہو رہے ہیں تو دوسری جانب صنعتی آلودگی میں اضافہ ہوا ہے۔زیر زمین پانی بھی آلودہ ہے۔ ایک خبر کے مطابق حکومتی اداروں کی ناقص پلاننگ' فنڈز کی کمی اور آبادی میں اضافے کے باعث جنگلات کے رقبے میں سالانہ 39ہزار ایکڑ کی کمی ہو رہی ہے' میگا پراجیکٹ کے تحت پنجاب سمیت ملک بھر میں 1فیصد جنگلات بڑھانے کا منصوبہ کامیاب نہیں ہو سکا۔
ماہرین کے مابق اگر موجودہ شرح سے جنگلات میں کمی کا عمل جاری رہا تو آیندہ 30سال تک جنگلات کا رقبہ برائے نام رہ جائے گا۔پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں جنگلات پہلے ہی کم ہیں۔اگر اس میں مزید کمی جاری رہی تو پاکستان بدترین قدرتی آفات کا شکار ہوتا رہے گا۔ اسی طرح صحت کے شعبے کے لیے بھی زیادہ فنڈز کی ضرورت ہے۔ پاکستان میں اچھے ڈاکٹروں اور اسپتالوں کی بہت کمی ہے۔ مریضوں کے لیے مفت ادویات کی فراہمی بھی محدود سطح پر ہے اسے بڑھایا جانا چاہیے۔ تعلیم کے شعبے کے لیے بھی زیادہ رقم مختص کی جائے۔ حکومت کو تعلیم کے شعبے پر حد درجہ زیادہ توجہ دینی چاہیے کیونکہ تعلیم کے بغیر ملک ترقی نہیں کر سکتا۔ تعلیم کی جانب ہماری حکومتوں اور بیوروکریسی کا رویہ انتہائی بے حسی پر مبنی ہوتا ہے۔ یہ بھی سننے میں آیا ہے کہ بیرون ملک تعلیم کے لیے جو وظائف مقرر ہوتے ہیں وہ بھی ضایع ہو جاتے ہیں۔اگر یہ سچ ہے تواس رویے کو تبدیل کیا جانا چاہیے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتیں آئین میں درج اپنی ذمے داریوں کو احسن طریقے سے پورا کریں تو کوئی وجہ نہیں ملک ترقی نہ کر سکے۔