محکمہ تعلیم 1500 اسامیوں پر 23 ہزار بھرتیاں کرنے کا انکشاف
بھرتیاں جعلی اور خلاف قانون ہیں، تقرریوں کے لیے فی کس 3 سے 18 لاکھ روپے رشوت وصول کی گئی
ایک شناختی کارڈ پر 190 افراد کو بھرتی کیا گیا،8سے9ہزار تقرریوں کے ثبوت جمع کیے جارہے ہیں،ایڈووکیٹ جنرل سندھ کے دفتر میںحکومت سندھ نے رپورٹ جمع کرادی۔ فوٹو: فائل
سندھ ہائیکورٹ میں محکمہ تعلیم کے ملازمین کو تنخواہوں کی عدم ادائیگی سے متعلق زیر سماعت کیس میں محکمہ تعلیم نے اپنی رپورٹ میں تسلیم کیاہے کہ 1500 خالی اسامیوں پر23ہزار ملازمین کو غیر قانونی طور پر تقرریاں دی گئیں۔
ان تقرریوں کے لیے فی کس 3 سے 18 لاکھ روپے رشوت وصول کی گئی ہے، کراچی ریجن کے سیکڑوں ملازمین نے تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے خلاف درخواست دائر کی ہے اور موقف اختیارکیا ہے کہ انھیں مطلوبہ شرائط پوری کرکے محکمہ تعلیم میں بھرتی کیا گیا تھا مگر جولائی2012 سے تاحال انھیں تنخواہیں ادا نہیں گی گئی، محکمہ تعلیم کے ملازمین کو تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے حوالے سے زیر سماعت مقدمے میں حکومت سندھ نے ایک رپورٹ ایڈووکیٹ جنرل سندھ آفس میں جمع کرائی ہے، محکمہ تعلیم نے اپنی رپورٹ میں موقف اختیارکیا ہے کہ ان ملازمین کی بھرتیاںجعلی اور خلاف قانون ہیں اس لیے انھیں تنخواہوںکی ادائیگی مشکل ہے ۔
محکمہ تعلیم کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جولائی 2012 میں محکمہ تعلیم کی 1500اسامیوں پر 23 ہزار ملازمین بھرتی کیے گئے تھے، رپورٹ کے مطابق ان میں سے14 ہزار 500ملازمین کے نام اور دیگر کوائف معلوم کیے جاچکے ہیں، قواعد کیخلاف کی گئی مزید8سے9ہزار تقرریوں کے ثبوت جمع کیے جارہے ہیں، رپورٹ میں انکشاف کیا گیاہے کہ سابق ڈائریکٹر اسکولز نے اپنی تعیناتی کے دوران ایک ماہ 5 دن میں 11 ہزار سے زائد بھرتیاں کیں،قواعد کے خلاف ان بھرتیوں کی ذمے داری ای ڈی او اور ڈی او سمیت محکمے کے12 افسران پرعائد ہوتی ہے، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھرتیوں کے ان غیر قانونی احکامات کو محکمہ تعلیم نے معطل کردیا ہے، بھرتیوں کے دوران 3 سے18 لاکھ روپے فی کس رشوت لی گئی ہے، بعض بھرتیاں سیاسی بنیادوں پر کی گئیں، ایک شناختی کارڈ پر 190 افراد کو بھرتی کیا گیا، رپورٹ آج(بدھ کو)جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ کے روبرو پیش کی جائیگی ۔
ان تقرریوں کے لیے فی کس 3 سے 18 لاکھ روپے رشوت وصول کی گئی ہے، کراچی ریجن کے سیکڑوں ملازمین نے تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے خلاف درخواست دائر کی ہے اور موقف اختیارکیا ہے کہ انھیں مطلوبہ شرائط پوری کرکے محکمہ تعلیم میں بھرتی کیا گیا تھا مگر جولائی2012 سے تاحال انھیں تنخواہیں ادا نہیں گی گئی، محکمہ تعلیم کے ملازمین کو تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے حوالے سے زیر سماعت مقدمے میں حکومت سندھ نے ایک رپورٹ ایڈووکیٹ جنرل سندھ آفس میں جمع کرائی ہے، محکمہ تعلیم نے اپنی رپورٹ میں موقف اختیارکیا ہے کہ ان ملازمین کی بھرتیاںجعلی اور خلاف قانون ہیں اس لیے انھیں تنخواہوںکی ادائیگی مشکل ہے ۔
محکمہ تعلیم کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جولائی 2012 میں محکمہ تعلیم کی 1500اسامیوں پر 23 ہزار ملازمین بھرتی کیے گئے تھے، رپورٹ کے مطابق ان میں سے14 ہزار 500ملازمین کے نام اور دیگر کوائف معلوم کیے جاچکے ہیں، قواعد کیخلاف کی گئی مزید8سے9ہزار تقرریوں کے ثبوت جمع کیے جارہے ہیں، رپورٹ میں انکشاف کیا گیاہے کہ سابق ڈائریکٹر اسکولز نے اپنی تعیناتی کے دوران ایک ماہ 5 دن میں 11 ہزار سے زائد بھرتیاں کیں،قواعد کے خلاف ان بھرتیوں کی ذمے داری ای ڈی او اور ڈی او سمیت محکمے کے12 افسران پرعائد ہوتی ہے، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھرتیوں کے ان غیر قانونی احکامات کو محکمہ تعلیم نے معطل کردیا ہے، بھرتیوں کے دوران 3 سے18 لاکھ روپے فی کس رشوت لی گئی ہے، بعض بھرتیاں سیاسی بنیادوں پر کی گئیں، ایک شناختی کارڈ پر 190 افراد کو بھرتی کیا گیا، رپورٹ آج(بدھ کو)جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ کے روبرو پیش کی جائیگی ۔