سینٹرل کنٹریکٹ انفرادی کارکردگی پر انعامات ختم کرنے کی تجویز
تنخواہوں اور بونس میں اضافہ ہوگا، اسٹیپنڈ کیٹیگری کے خاتمے کی بازگشت
تنخواہوں اور بونس میں اضافہ ہوگا،اسٹیپنڈ کیٹیگری کے خاتمے کی بازگشت۔ فوٹو: فائل
نئے سینٹرل کنٹریکٹ میں انفرادی کارکردگی پر انعامات کا سلسلہ ختم کرنے کی تجویز زیر غور ہے، تنخواہوں اور بونس میں اضافے کی صورت میں تلافی کردی جائے گی، صرف ٹاپ کھلاڑیوں سے معاہدے کیے جائیں گے،اسٹیپنڈ کیٹیگری کے تحت ماہانہ وظائف پانے والے بھی محروم رہ جائیں گے۔
تفصیلات کے مطابق قومی کرکٹرز کے نئے سینٹرل کنٹریکٹ تیاری کے مراحل میں ہیں، پی سی بی نے انفرادی کارکردگی پر انعامات کا سلسلہ ختم کرنے کی تجویز پر غور شروع کردیا، قبل ازیں سنچری، ڈبل سنچری، 5 یا 10 وکٹوں سمیت عمدہ کارکردگی پر 3 سے 5لاکھ روپے تک کے خصوصی انعام سے نوازا جاتا تھا۔ ذرائع کے مطابق اعلیٰ حکام کا خیال ہے کہ انفرادی کارکردگی کو تحریک دینے والے اقدامات کے بجائے ٹیم کیلیے کھیلنے کا رجحان پروان چڑھانے کی زیادہ ضرورت ہے، تلافی کیلیے تنخواہوں میں اضافے اور بونس میں زیادہ حصہ دینے کی پالیسی اختیار کرنا بہتر ہوگا۔ دوسری طرف ماہانہ وظائف پانے والوں کی اسٹیپنڈ کیٹیگری بھی ختم کرنے کی تجویز ہے،اس اقدام کا مقصد ماہانہ تنخواہیں پانے والوں کی فہرست مختصر کرکے کنٹریکٹ کھلاڑیوں کو زیادہ مراعات دینا ہے تاکہ اُبھرتا ہوا ٹیلنٹ ٹاپ کرکٹرز میں جگہ بنانے کیلیے زیادہ متحرک ہو۔
یاد رہے کہ اظہر خان کی سربراہی میں کام کرنے والی سلیکشن کمیٹی نے سینٹرل کنٹریکٹ کیلیے 22 کرکٹرز کے نام پی سی بی کو بھجوادیے تھے لیکن کچھ تبدیلیوں کے حوالے سے مشاورت کے پیش نظر حتمی فیصلہ نہیں کیا جا سکا،چیف سلیکٹر راشد لطیف باقاعدہ طور پر یکم اپریل کو ذمہ داریاں سنبھال رہے ہیں، ان سے رائے طلب کی جاسکتی ہے۔ ذرائع کے مطابق فواد عالم، صہیب مقصود، ذوالفقار بابر، بلاول بھٹی، شرجیل خان، خرم منظور، انور علی، سرفراز احمدکو سینٹرل کنٹریکٹ ملنے کا امکان روشن ہے، سابق کپتان شعیب ملک اوراوپننگ بیٹسمین ناصرجمشید کا بی کیٹیگری میں جگہ برقراررکھنا مشکل نظر آرہا ہے، سی کیٹیگری سے عمران فرحت، فیصل اقبال، توفیق عمراور اعزاز چیمہ کی چھٹی ہوسکتی ہے، کپتان مصباح الحق، شاہد آفریدی، محمد حفیظ اور سعید اجمل کے ساتھ سنیارٹی کی وجہ سے صرف ٹیسٹ کھیلنے والے یونس خان کو اے کیٹیگری میں شامل کیا جائے گا۔ اسٹیپنڈ کیٹیگری میں شامل 9 پلیئرز میں سے عمر امین اور حارث سہیل ماہانہ وظیفہ سے محروم رہیں گے، البتہ راحت علی، احسان عادل، اسد علی، وہاب ریاض، محمد طلحہٰ اور حارث سہیل کو سی کیٹیگری کے لیے زیر غور لایا جا سکتا ہے۔ مزید معلوم ہوا ہے کہ محمد عرفان کو کنٹریکٹ دینے کا فیصلہ فٹنس سے مشروط ہوگا۔
تفصیلات کے مطابق قومی کرکٹرز کے نئے سینٹرل کنٹریکٹ تیاری کے مراحل میں ہیں، پی سی بی نے انفرادی کارکردگی پر انعامات کا سلسلہ ختم کرنے کی تجویز پر غور شروع کردیا، قبل ازیں سنچری، ڈبل سنچری، 5 یا 10 وکٹوں سمیت عمدہ کارکردگی پر 3 سے 5لاکھ روپے تک کے خصوصی انعام سے نوازا جاتا تھا۔ ذرائع کے مطابق اعلیٰ حکام کا خیال ہے کہ انفرادی کارکردگی کو تحریک دینے والے اقدامات کے بجائے ٹیم کیلیے کھیلنے کا رجحان پروان چڑھانے کی زیادہ ضرورت ہے، تلافی کیلیے تنخواہوں میں اضافے اور بونس میں زیادہ حصہ دینے کی پالیسی اختیار کرنا بہتر ہوگا۔ دوسری طرف ماہانہ وظائف پانے والوں کی اسٹیپنڈ کیٹیگری بھی ختم کرنے کی تجویز ہے،اس اقدام کا مقصد ماہانہ تنخواہیں پانے والوں کی فہرست مختصر کرکے کنٹریکٹ کھلاڑیوں کو زیادہ مراعات دینا ہے تاکہ اُبھرتا ہوا ٹیلنٹ ٹاپ کرکٹرز میں جگہ بنانے کیلیے زیادہ متحرک ہو۔
یاد رہے کہ اظہر خان کی سربراہی میں کام کرنے والی سلیکشن کمیٹی نے سینٹرل کنٹریکٹ کیلیے 22 کرکٹرز کے نام پی سی بی کو بھجوادیے تھے لیکن کچھ تبدیلیوں کے حوالے سے مشاورت کے پیش نظر حتمی فیصلہ نہیں کیا جا سکا،چیف سلیکٹر راشد لطیف باقاعدہ طور پر یکم اپریل کو ذمہ داریاں سنبھال رہے ہیں، ان سے رائے طلب کی جاسکتی ہے۔ ذرائع کے مطابق فواد عالم، صہیب مقصود، ذوالفقار بابر، بلاول بھٹی، شرجیل خان، خرم منظور، انور علی، سرفراز احمدکو سینٹرل کنٹریکٹ ملنے کا امکان روشن ہے، سابق کپتان شعیب ملک اوراوپننگ بیٹسمین ناصرجمشید کا بی کیٹیگری میں جگہ برقراررکھنا مشکل نظر آرہا ہے، سی کیٹیگری سے عمران فرحت، فیصل اقبال، توفیق عمراور اعزاز چیمہ کی چھٹی ہوسکتی ہے، کپتان مصباح الحق، شاہد آفریدی، محمد حفیظ اور سعید اجمل کے ساتھ سنیارٹی کی وجہ سے صرف ٹیسٹ کھیلنے والے یونس خان کو اے کیٹیگری میں شامل کیا جائے گا۔ اسٹیپنڈ کیٹیگری میں شامل 9 پلیئرز میں سے عمر امین اور حارث سہیل ماہانہ وظیفہ سے محروم رہیں گے، البتہ راحت علی، احسان عادل، اسد علی، وہاب ریاض، محمد طلحہٰ اور حارث سہیل کو سی کیٹیگری کے لیے زیر غور لایا جا سکتا ہے۔ مزید معلوم ہوا ہے کہ محمد عرفان کو کنٹریکٹ دینے کا فیصلہ فٹنس سے مشروط ہوگا۔