ورلڈ ٹی 20 یو اے ای شائقین کے دل جیتنے کیلئے پرعزم
کوچ نے فضائی کمپنی میں بطور اسٹیورڈ کام کرنے والے42سالہ کپتان کوسپر فٹ قرار دیدیا
کوچ نے فضائی کمپنی میں بطور اسٹیورڈ کام کرنے والے42سالہ کپتان کوسپر فٹ قرار دیدیا۔ فوٹو: فائل
بیشتر غیر پروفیشنل کرکٹرز پر مشتمل یواے ای ٹیم ورلڈ ٹوئنٹی20 میں شائقین کے دل جیتنے کیلیے پُرعزم ہے،کوچ عاقب جاوید نے ایک فضائی کمپنی میں بطور اسٹیورڈ کام کرنے والے42سالہ خرم خان کو سپر فٹ کھلاڑی قرار دے دیا۔
سابق پیسر کا کہنا ہے کہ کپتان کئی بار دبئی سے امریکاکی فلائٹ میں 15گھنٹے ڈیوٹی کے بعد بھی پریکٹس کیلیے آجاتے ہیں، ٹیم کی کئی کھلاڑی ملازمتیں کرتے ہیں، انھیں کئی بار10گھنٹے کام کے بعد کرکٹ کیلیے وقت نکالنا پڑتا ہے، زیادہ تر پریکٹس بھی رات کو ہی ہونے کے باوجود ان میں کچھ کردکھانے کا جذبہ موجود ہے، سخت محنت کی بدولت ہی یو اے ای نے18سال بعد انٹرنیشنل سطح کے کسی ایونٹ میں شرکت کا راستہ بنایا، ون ڈے اسٹیٹس پانے اور ورلڈ کپ2015 میں بھی نشست پکی کرنے کے بعد نئے پلان تیار کیے جا چکے ہیں، کوچ نے کہا کہ ہم جلد ہی سینٹرل کنٹریکٹ کا اعلان کردینگے تاکہ کرکٹرز معاشی تحفظ ملنے کے بعد یکسوئی سے کھیل پر توجہ دے سکیں، میری خواہش ہے کہ ٹیم فٹنس کے موجودہ معیار میں مزید بہتری لائے اور جلد ہی ایک پروفیشنل اسکواڈ کی شکل میں ڈھل جائے، اس مقصد کا حصول مشکل ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں۔
میڈیا پلانر کے طور پرکام کرنے والے وکرانت شیٹی نے کہا کہ کل تک دوسروں کیلیے پریس کانفرنسز کا انتظام کرتا تھا،کرکٹر ہونے کی وجہ سے آج خود سوالات کے جواب دے رہا ہوں، ٹیم کے بیشتر کھلاڑی نان پروفیشنل ہونے کے باوجود اس سطح کی کرکٹ تک آنے میں کامیاب ہوگئے جو بڑے اعزاز کی بات ہے، امید ہے کہ جلد ہی نوجوان کرکٹرز کی بڑی کھیپ میسر ہوگی، انھوں نے کہا کہ میرے دفتر میں کئی ممالک سے تعلق رکھنے والے تارکین وطن ہیں،نجانے وہ کس ٹیم کو سپورٹ کریںگے تاہم میری خواہش ہے کہ سب یواے ای کا حوصلہ بڑھائیں۔
سابق پیسر کا کہنا ہے کہ کپتان کئی بار دبئی سے امریکاکی فلائٹ میں 15گھنٹے ڈیوٹی کے بعد بھی پریکٹس کیلیے آجاتے ہیں، ٹیم کی کئی کھلاڑی ملازمتیں کرتے ہیں، انھیں کئی بار10گھنٹے کام کے بعد کرکٹ کیلیے وقت نکالنا پڑتا ہے، زیادہ تر پریکٹس بھی رات کو ہی ہونے کے باوجود ان میں کچھ کردکھانے کا جذبہ موجود ہے، سخت محنت کی بدولت ہی یو اے ای نے18سال بعد انٹرنیشنل سطح کے کسی ایونٹ میں شرکت کا راستہ بنایا، ون ڈے اسٹیٹس پانے اور ورلڈ کپ2015 میں بھی نشست پکی کرنے کے بعد نئے پلان تیار کیے جا چکے ہیں، کوچ نے کہا کہ ہم جلد ہی سینٹرل کنٹریکٹ کا اعلان کردینگے تاکہ کرکٹرز معاشی تحفظ ملنے کے بعد یکسوئی سے کھیل پر توجہ دے سکیں، میری خواہش ہے کہ ٹیم فٹنس کے موجودہ معیار میں مزید بہتری لائے اور جلد ہی ایک پروفیشنل اسکواڈ کی شکل میں ڈھل جائے، اس مقصد کا حصول مشکل ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں۔
میڈیا پلانر کے طور پرکام کرنے والے وکرانت شیٹی نے کہا کہ کل تک دوسروں کیلیے پریس کانفرنسز کا انتظام کرتا تھا،کرکٹر ہونے کی وجہ سے آج خود سوالات کے جواب دے رہا ہوں، ٹیم کے بیشتر کھلاڑی نان پروفیشنل ہونے کے باوجود اس سطح کی کرکٹ تک آنے میں کامیاب ہوگئے جو بڑے اعزاز کی بات ہے، امید ہے کہ جلد ہی نوجوان کرکٹرز کی بڑی کھیپ میسر ہوگی، انھوں نے کہا کہ میرے دفتر میں کئی ممالک سے تعلق رکھنے والے تارکین وطن ہیں،نجانے وہ کس ٹیم کو سپورٹ کریںگے تاہم میری خواہش ہے کہ سب یواے ای کا حوصلہ بڑھائیں۔