حکومت کام نہیں کرتی تو توہین عدالت شق کا بے دریغ استعمال کرینگے سپریم کورٹ
حکومت چلانا ہمارا کام نہیں لیکن اگر حکومت اپنا کام نہیں کر سکتی تو عدالت کو اپنا اختیار استعمال کرنا پڑے گا.جسٹس جواد
مالاکنڈ سے لاپتہ قیدی بازیاب اورذمہ داران کیخلاف کارروائی نہ ہونے پربھی برہمی،حالات بے قابو ہوئے توکوئی محفوظ نہیں ہوگا،ریمارکس۔ فوٹو: فائل
چیف الیکشن کمشنر اور دیگر خودمختار اداروں کے سربراہوں کی عدم تقرری کا جسٹس جوادکے بینچ نے بھی نوٹس لے لیا ہے۔
جسٹس جواد ایس خواجہ نے چیف الیکشن کمشنر اور سو کے قریب عہدوں پر عدم تعیناتیوں پر برہمی کا اظہارکیااور آبزرویشن دی کہ حکومت اپنا موقف واضح کرے، اگر حکومت نے اپنا کام نہیں کرنا تو پھر عدالت توہین عدالت کی آئینی شق کا بے دریغ استعمال شروع کر دے گی۔جسٹس جواد نے ریمارکس دیے کہ حکومت چلانا ہمارا کام نہیں لیکن اگر حکومت اپنا کام نہیں کر سکتی تو عدالت کو اپنا اختیار استعمال کرنا پڑے گا۔فاضل جج نے کہا کہ یہ رویہ سمجھ سے باہر ہے کہ عدالت نوٹس جاری کرے گی تو حکومت اپنی آئینی ذمے داری نبھائے گی، اسکول کے بچے کی طرح کان کھینچ کر ہوم ورک کیلیے کہہ سکتے ہیں نہ روز روز توہین عدالت میں وزیر اعظم کو نوٹس جاری کر سکتے ہیں۔ جمہوری حکومت اور جمہوری نظام میں یہ رویہ انتہائی نامناسب ہے۔منگل کو نیب معاملات میں عدالتی مداخلت کے اختیارکے قانونی نکتے کا جائزہ لینے سے متعلق مقدمے میں جب پانچ ماہ تک چیئرمین نیب کا عہدہ خالی ہونے کے بارے نکتے پر بحث شروع ہوئی تو بنچ نے چیف الیکشن کمشنرکی عدم تقرری کا نوٹس لیا اور ایک اور بینچ میں زیر سماعت مقدمے کی فائل طلب کرلی، فائل دیکھنے کے بعد جسٹس جواد نے کہا سو سے زیادہ اعلیٰ اداروں کے سربراہ نہیں ہیں، ہمیں بتایا جائے افسران کے بغیر سرکارکس طرح چل سکتی ہے۔
جسٹس جواد نے سوال اٹھایا کیا قائد ایوان اور قائد حزب اختلاف کو اپنی آئینی ذمے داری عدالت کے نوٹس لینے کے بعد یاد آئے گی۔ فاضل بینچ نے ملاکنڈ حراستی مرکز سے اٹھائے گئے قیدیوںکے بارے میں خیبر پختونخوا حکومت کا موقف مستردکر دیا اورہدایت کی ہے کہ اگرصوبائی حکومت بے بس ہے تو لکھ کر دے۔عدالت نے اٹارنی جنرل کو ہدایت کی کہ صوبوں کے آئینی اختیارکے بارے میں بتائیں جبکہ وفاقی حکومت کو بازیابی کے حوالے سے عدالتی حکم پر عملدرآمد یقینی بنانے کا حکم دیا ہے۔عدالت نے کہا وزیر اعظم،وزیر اعلیٰ اورگورنر خیبر پختونخوا کو اٹھائے گئے قیدیوں کی بازیابی اور غیر قانونی حراست میں رکھنے کے مرتکب افرادکیخلاف کارروائی کا حکم دیا تھا لیکن عمل نہیں ہوا ۔
عدالت نے کہا کہ اٹارنی جنرل کی یقین دہانی پر عملدرآمدکی مہلت دیتے ہیں،عمل نہیں ہوا تو عدالتی حکم عدولی کے بارے میںآئینی شقیں موجود ہیں جن کا اطلاق کیا جا سکتاہے۔ جسٹس جواد نے کہا کہ اس کا مطلب ہے صوبہ بے بس ہے، صوبہ اختیار استعمال کرے گا توکچھ ہوگا،عدالت نے سماعت 18مارچ تک ملتوی کردی جبکہ کچھ تفصیلات چیمبر میں دینے کے بارے میں ایڈیشنل اٹارنی جنرل کی استدعا منظورکر لی۔عدالت نے لاپتہ افراد کے مقدمات میں پیش ہونے کیلیے دور دراز سے آئے ہوئے افرادکیلیے کھانے پینے اورخرچے کا انتظام نہ کرنے کا بھی سخت نوٹس لیا اور فوری طور پر بندوبست کرنے کا حکم دیا ۔جسٹس جواد نے کہا اگرکوئی سمجھتا ہے کہ حالات اس رخ چلیںگے تو ان کی غلط فہمی ہے،حالات بے قابو ہوںگے تو کوئی محفوظ نہیں ہوگا۔
جسٹس جواد ایس خواجہ نے چیف الیکشن کمشنر اور سو کے قریب عہدوں پر عدم تعیناتیوں پر برہمی کا اظہارکیااور آبزرویشن دی کہ حکومت اپنا موقف واضح کرے، اگر حکومت نے اپنا کام نہیں کرنا تو پھر عدالت توہین عدالت کی آئینی شق کا بے دریغ استعمال شروع کر دے گی۔جسٹس جواد نے ریمارکس دیے کہ حکومت چلانا ہمارا کام نہیں لیکن اگر حکومت اپنا کام نہیں کر سکتی تو عدالت کو اپنا اختیار استعمال کرنا پڑے گا۔فاضل جج نے کہا کہ یہ رویہ سمجھ سے باہر ہے کہ عدالت نوٹس جاری کرے گی تو حکومت اپنی آئینی ذمے داری نبھائے گی، اسکول کے بچے کی طرح کان کھینچ کر ہوم ورک کیلیے کہہ سکتے ہیں نہ روز روز توہین عدالت میں وزیر اعظم کو نوٹس جاری کر سکتے ہیں۔ جمہوری حکومت اور جمہوری نظام میں یہ رویہ انتہائی نامناسب ہے۔منگل کو نیب معاملات میں عدالتی مداخلت کے اختیارکے قانونی نکتے کا جائزہ لینے سے متعلق مقدمے میں جب پانچ ماہ تک چیئرمین نیب کا عہدہ خالی ہونے کے بارے نکتے پر بحث شروع ہوئی تو بنچ نے چیف الیکشن کمشنرکی عدم تقرری کا نوٹس لیا اور ایک اور بینچ میں زیر سماعت مقدمے کی فائل طلب کرلی، فائل دیکھنے کے بعد جسٹس جواد نے کہا سو سے زیادہ اعلیٰ اداروں کے سربراہ نہیں ہیں، ہمیں بتایا جائے افسران کے بغیر سرکارکس طرح چل سکتی ہے۔
جسٹس جواد نے سوال اٹھایا کیا قائد ایوان اور قائد حزب اختلاف کو اپنی آئینی ذمے داری عدالت کے نوٹس لینے کے بعد یاد آئے گی۔ فاضل بینچ نے ملاکنڈ حراستی مرکز سے اٹھائے گئے قیدیوںکے بارے میں خیبر پختونخوا حکومت کا موقف مستردکر دیا اورہدایت کی ہے کہ اگرصوبائی حکومت بے بس ہے تو لکھ کر دے۔عدالت نے اٹارنی جنرل کو ہدایت کی کہ صوبوں کے آئینی اختیارکے بارے میں بتائیں جبکہ وفاقی حکومت کو بازیابی کے حوالے سے عدالتی حکم پر عملدرآمد یقینی بنانے کا حکم دیا ہے۔عدالت نے کہا وزیر اعظم،وزیر اعلیٰ اورگورنر خیبر پختونخوا کو اٹھائے گئے قیدیوں کی بازیابی اور غیر قانونی حراست میں رکھنے کے مرتکب افرادکیخلاف کارروائی کا حکم دیا تھا لیکن عمل نہیں ہوا ۔
عدالت نے کہا کہ اٹارنی جنرل کی یقین دہانی پر عملدرآمدکی مہلت دیتے ہیں،عمل نہیں ہوا تو عدالتی حکم عدولی کے بارے میںآئینی شقیں موجود ہیں جن کا اطلاق کیا جا سکتاہے۔ جسٹس جواد نے کہا کہ اس کا مطلب ہے صوبہ بے بس ہے، صوبہ اختیار استعمال کرے گا توکچھ ہوگا،عدالت نے سماعت 18مارچ تک ملتوی کردی جبکہ کچھ تفصیلات چیمبر میں دینے کے بارے میں ایڈیشنل اٹارنی جنرل کی استدعا منظورکر لی۔عدالت نے لاپتہ افراد کے مقدمات میں پیش ہونے کیلیے دور دراز سے آئے ہوئے افرادکیلیے کھانے پینے اورخرچے کا انتظام نہ کرنے کا بھی سخت نوٹس لیا اور فوری طور پر بندوبست کرنے کا حکم دیا ۔جسٹس جواد نے کہا اگرکوئی سمجھتا ہے کہ حالات اس رخ چلیںگے تو ان کی غلط فہمی ہے،حالات بے قابو ہوںگے تو کوئی محفوظ نہیں ہوگا۔